فلمی ستاروں سے وابستہ یادوں کی نیلامی

ادا کار شاہ رخ خان کا بنایا ہوا ڈوڈل ہو یا عامر خان اور سلمان خان جیسے ستاروں کی نایاب تصاویر، اب آپ خود ان کے مالک بن سکتے ہیں۔

ممبئی میں 'دی گریٹ انڈین شو آن ارتھ' کے نام سے 22 جون کو ہونے والی نیلامی میں سنیما کی کئی ایسی پرانی، یادگار اور اوریجنل چیزیں رکھی گئی ہیں جو شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملیں گی۔

آج کے دور کے خان ستاروں سے وابستہ چیزیں ہوں یا پھر فلم ساز ستیہ جیت رے کی فلموں کی نایاب تصاویر، ان کے خود کے بنائے خاکے، فلم 'مغل اعظم' کا ہندی اور اردو میں شائع ہونے والا پریمیئر کتابچہ اور دعوت نامہ، ہندی سنیما کی تاریخ سے منسلک تقریبا 115 چیزیں اس نیلامی کا حصہ ہیں۔

آرٹ اور فلموں کی یادوں سے وابستہ علامات (میمربلیا) کلیکٹر اور آكشن ہاؤس 'اوشيس' سنہ 2000 سے ہی اس نیلامی کا انعقاد کرتا رہا ہے۔

اس آكشن کے چیئرمین نیول ٹولی کہتے ہیں: 'ہمارے یہاں آرٹ اور کلچر سے منسلک کوئی سکول نہیں ہے۔ ہم بھارت کے سب سے بڑے فلم میمربليا جمع کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی اس کی نیلامی بھی کرتے ہیں۔ اس آكشن سے ہونے والی کمائی سے ہم آگے چل کر ایک ایسا سکول کھولیں گے، جہاں بھارت کی ثقافت، فنون اور فلموں کی تعلیم ہو سکے۔'

فلمی تاریخ سے منسلک ان چیزوں کے آکشن کے لیے قیمتیں ہزاروں روپے سے لے کر لاکھوں تک طے ہوں گی۔

شاہ رخ خان کے ڈوڈل کی ابتدائی قیمت جہاں ایک لاکھ 20 ہزار سے لے کر ایک لاکھ 80 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے وہیں منوج کمار کی فلم 'انقلاب' کے آرٹ شیٹ میں بنے آٹھ بڑے پوسٹرز کی قیمت سب سے زیادہ یعنی پانچ لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

سنہ 1924 میں گوتم بدھ کی زندگی پر بننے والی فلم 'دا لائٹ آف ایشیا' کے انگلینڈ میں ہونے والے پریمیئر کی اوریجنل تصاویر سے لے کر 1985 تک کے دور کو اس آكشن میں پیش کیا گیا ہے۔

کئي کلاسک فلموں کی کامیابی کی نشانی یعنی سلور اور گولڈن جوبلی ٹرافی کے ساتھ ساتھ ستاروں کو ملنے والے ایوارڈز بھی اس آكشن کا حصہ ہیں۔

اس میں مشہور فلمی شخصیات کی طرف سے تخلیق کی گئی پینٹنگز بھی شامل ہیں۔ اس میں دیپتی نول، شیفالی شاہ، پنکج پراشر اور فلم گجگامني کے وقت مقبول فدا حسین کی بنائی گئی پینٹنگز کو بھی پیش کیا گيا ہے۔

نیول ٹولی کا منصوبہ ہے کہ اگلی نیلامی میں وہ سلمان خان اور سنجے دت جیسے اداکاروں کے ساتھ ساتھ دیگر فلمی ستاروں کی بنائی گئی پینٹنگز بھی شامل کریں گے۔

انھوں نے بتایا: 'جہاں تک میں نے دیکھا ہے کہ لوگ فلموں سے محبت کرتے ہیں لیکن فلموں سے منسلک چیزوں کی قدر نہیں کی جاتی۔ محبت صرف فلمیں دیکھنے تک محدود ہے۔ فلمی شخصیات کا بھی یہی حال ہے۔ زیادہ تر فلمی لوگوں کے ذہنوں میں فلمی کلچر کو لے کر وہ عزت نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔'

نیول کا کہنا ہے: 'اب چیزیں بہت بدل رہی ہیں۔ کتنے پرنٹ اور دیگر چیزیں ختم ہو رہی ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں پڑی۔ بہت برا لگتا ہے۔ ہم تقریبا کئی سالوں سے ایسی چیزوں کو جمع کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس جو لوگ پیار سے چیزیں دینے آتے ہیں، ہمیں صحیح لگے تو ضرور لیتے ہیں جس سے ہم اس کا صحیح استعمال کر سکیں۔'

تقریبا 12،000 میں سے 115 چیزوں کی نمائش میں ہندی سنیما کی فرسٹ فیملی کپور خاندان اور امیتابھ بچن سے منسلک چیزوں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

یہ اس طرح کی 48 ویں نیلامی ہے۔ اسی آكشن سے شاہ رخ خان نے چار لاکھ میں 'مغل اعظم' کا تین آرٹ شیٹر پوسٹر لیا تھا۔ وہیں، عامر خان نے فلم جنگلی میں شمّي کپور جو جیکٹ پہنی تھی وہ خریدی تھی۔

ٹولی کا خیال ہے کہ اس سال بھی کوئی نہ کوئی فلم آرٹسٹ ضرور ایسی بیش قیمتی چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ خریدنا ضرور چاہے گا۔

وہ کہتے ہیں: 'فلم انڈسٹری کو ہی ایسی میمربليا خریدنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انھیں دیکھ کر پھر اور لوگوں میں بیداری آئے گی اور ہندی سنیما کی تاریخ سے منسلک چیزوں کا احترام کریں گے۔ کم از کم ایسی چیزیں محفوظ تو ہوں گی۔ جب ایسی چیزوں کے لیے پیسے ملیں گے تو لوگ سنبھال کر رکھیں گے۔'