خواتین کے جنسی اظہار پر خاموشی ٹوٹ رہی ہے؟

انڈین معاشرے میں خواتین کے جنسی اظہار کے معاملے میں بہت زیادہ باتوں سے گریز کیا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ اب یہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
اس کی تازہ مثال شاہ رخ خان کی فلم رئیس ہے۔ اس فلم کا آئٹم نمبر 'لیلیٰ او لیلیٰ' کئی ہفتے پہلے ریلیز ہوا تھا۔
اداکارہ سنی لیونی پر فلمایا جانے والا 'لیلیٰ او لیلیٰ' نغمے کو یوٹیوب پر اب تک 8 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔
'لیلیٰ او لیلیٰ' ہو 'چکنی چنبیلی' ہو یا پھر 'شیلا کی جوانی' اس طرح کے آئٹم گانے اب فلموں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
تاہم زبردست ہٹ ہونے کے باوجود ان پر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ ایسے آئٹم سانگ میں خواتین کو بطور ایک ’آبجیکٹ‘ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPAWANI PANDEY FACEBOOK
آج کل بحث اس بات پر ہورہی ہے کہ ایسے نغموں میں عورت کو ’اوبجیكٹیفائی‘ کیا جاتا ہے یا پھر انھیں اپنے جسم کے ساتھ مطمئن ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اداکارہ سنی لیونی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا جنسی اظہار کسی بھی طرح سے غلط نہیں ہے۔
لیکن گھریلو خاتون مینا پانڈے کو ایسے آئٹم سانگ سے شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'لیلیٰ او لیلیٰ' جیسے نغمے کو وہ بچوں کے ساتھ، یا پورے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن دوسری طرف نئی نسل کی لڑکیاں ہیں جو اس طرح کے جنسی اظہار کو غلط نہیں سمجھتیں۔

،تصویر کا ذریعہCRISPY BOLLYWOOD
فلم رئیس کے نغمے 'لیلیٰ او لیلیٰ' کی نوجوان گلوکارہ پونی پانڈے بھی انھیں میں سے ایک ہیں۔
'پہلے بھی آئٹم نمبر، جیسے پیا تو اب تو آجا، ہوتے رہے ہیں۔ وہ فلم کی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں۔ سنی نے اس گانے کو بہت اچھی طرح سے پورٹرے کیا ہے۔ اس میں وہ کہیں سے بھی فحش نہیں لگ رہی ہیں۔'
لیکن خواتین کے مسائل پر لکھنے والی معروف مصنفہ میتری پشپا کو 'لیلیٰ او لیلیٰ' پر تھوڑا اعتراض ہے۔ انھیں اس طرح کے آئٹم نمبر میں جس طرح سے جسم کی نمائش کی جاتی ہے وہ پسند نہیں ہے۔
وہ کہتی ہیں: 'ایسے گانوں پر نوجوان نسل بہت مشتعل ہو جاتی ہے۔ وہ عقل کھو بیٹھتی ہے۔ جس طرح کا ماحول ہے اس کے بارے میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر لڑکیوں کے ساتھ ریپ یا چھیڑ چھاڑ کے واقعات اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں۔'







