پاکستان کے شہر کراچی میں تین روز سے جاری’ایٹ فیسٹول’ یا کھانے کے میلے کا اتوار کو آخری دن تھا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے شہر کراچی میں تین روز سے جاری ’ایٹ فیسٹول’ یا کھانے کے میلے کا اتوار کو آخری دن تھا۔ (تصاویر و تحریر شمائلہ خان)
،تصویر کا کیپشنداخلی دروازے کے ساتھ ہی ’بیلجین ویفلز’ کی اشتہا انگیزخوشبو نے سب کو مجبور کیا کہ وہ اسے چکھ کے دیکھیں۔ کراچی میں ویفلز متعارف کروانے کا آئیڈیا لندن کی بانڈ سٹریٹ سے آیا جہاں بیلجئم سے وافلز درآمد کیے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس ’ایٹ فیسٹول’ کی بدولت کئی گھریلو خواتین کوموقع ملا کہ وہ اپنے ہاتھ کےبنے پکوان، کیک، چاکلیٹ سے بنی چیزیں اورمیٹھی ڈشز فروخت کرسکیں۔ بعض نے بتایا کہ انہیں پہلی بار اندازہ ہوا کہ مارکیٹ میں گھرکے بنے کھانے کی کتنی مانگ ہے۔
،تصویر کا کیپشنسردیوں کے موسم کی نسبت ’سی فوڈ’ جیسے مچھلی اور جھینگے سے بنی تھائی فوڈ عام تھا لیکن کراچی کی مقامی ڈش بریانی اکا دکا جگہوں پر نظر آئی۔
،تصویر کا کیپشندیسی کھانے جیسے کہ نہاری، قورمہ، کڑھائی اور کوفتوں کی کمی محسوس ہوئی لیکن گلی کُوچوں اور شہر کی تقریباً ہر چھوٹی فاسٹ فوڈ شاپ میں سستے داموں ملنے والا ’بن کباب’ یہاں بھی کافی پسند کیاگیا۔
،تصویر کا کیپشنویسے تو کراچی کی گرمی اور گولہ گنڈا ساتھ ساتھ ہی نظر آتے ہیں لیکن اس بار سردیوں میں ایک بدیسی گولے گنڈے کا بھی بہت چرچا رہا۔
،تصویر کا کیپشن’ ہیلتھ ایکٹ’ کےنام سے ایک منفرد اسٹال لگایا گیا جہاں لوگوں کو’نامیاتی غذا’ یا یوں کہیے کہ صحتمند کھانے کی طرف راغب کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔