لاہور میں اپنے ہی تین کم عمر بچوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ماں پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انتباہ: اس رپورٹ میں جرم سے متعلق ایسی تفصیلات موجود ہیں جو قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں

صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے اپنے ہی تین کم عمر بچوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

جمعہ کی صبح ملزم خاتون کو انتہائی سخت سکیورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ ارشاد حسین کی عدالت میں پیش کیا جہاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کے ڈی این اے، پولی گرافک اور میڈیکل ٹیسٹس، اور مزید تفتیش کے لیے اُن کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مطلوب ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے انھیں 28 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آئے اس واقعے میں ڈیڑھ سال سے لے کر پانچ سال کی عمر تک کے تین بچوں، دو بہنوں اور ایک بھائی، کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے کی مدد سے قتل کیا گیا۔

ان تینوں بچوں کی لاشیں جمعرات کو اُن کے گھر سے برآمد ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر آصف جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں بچوں کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچوں کی موت تیز دھار آلے سے گلے کٹنے سے ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد بچوں کی لاشیں اُن کے والد کے حوالے کر دی گئی ہیں جو انھیں لے کر اپنے آبائی علاقے جھنگ چلے گئے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق تاحال ملزمہ کے اہلخانہ یا کسی وکیل نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

ایف آئی آر اور ابتدائی تفتیش میں کیا سامنے آیا؟

اس واقعے کی ایف آئی آر تھانہ اچھرہ کے انسپکٹر آصف جاوید کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ون فائیو پر اطلاع ملنے کے بعد جب پولیس اہلکار اچھرہ میں واقع فرنیچر مارکیٹ کے قریب واقع ایک گھر میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں فرش پر تین کمسن بچوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جبکہ کمرے میں ایک خاتون (جن کی بعد میں شناخت بچوں کی والدہ کے طور پر ہوئی) بھی موجود تھیں۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس موقع پر خاتون کے ہاتھ میں ایک خون آلود چھری تھی جبکہ اُن کے ہاتھ بھی خون آلود تھے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ جب پولیس اہلکار کمرے میں داخل ہوئے تو خاتون نے چھری صوفے پر پھینک دی، جبکہ دوسری چھری اِن تین بچوں کی لاشوں کے ساتھ ہی زمین پر پڑی تھی۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر آصف جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے واردات پر ہی ہونے والی ابتدائی پوچھ گچھ میں خاتون نے بتایا کہ وہ گھر سے باہر گئی ہوئی تھیں اور جب گھر پہنچی تو بچے قتل کیے جا چکے تھے۔

اُن کے مطابق موقع سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق خاتون گھر کو باہر سے تالہ لگا کر گئی تھیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون اور اُن کے شوہر سے ہونی والی بات چیت میں یہ سامنے آیا کہ واردات کے روز خاتون نے اپنے شوہر، جو کہ ایک پرائیوٹ لیب میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں، کو بتایا کہ اُن کا بلڈ پریشر زیادہ ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق شوہر نے خاتون کو فی الفور اُن کی لیب پہنچنے کا کہا جہاں سے وہ انھیں ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لے گئے۔

تفتیشی افسر آصف جاوید کے مطابق جس جگہ خاتون کے شوہر کام کرتے تھے وہاں سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج لی گئی جس سے معلوم ہوا کہ وقوعے کے روز وہ کام پر موجود تھے۔

خاتون نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ جب وہ چیک اپ کے بعد گھر واپس پہنچیں تو کمرے میں ان کے بچوں کا لاشیں موجود تھیں جن کی بابت انھوں نے اہل محلہ کو آگاہ کیا اور 15 پر کال کی گئی۔

تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا کہ ابتدا میں خاتون کا مؤقف تھا کہ اُن کے بچے ٹیلی ویژن پر ایسے کارٹون دیکھتے تھے جن میں کارٹون کریکٹر آپس میں چھریوں سے لڑتے تھے، اور ماضی میں اُن کے بچے چھریوں کی مدد سے آپس میں کارٹون کریکٹر کی نقل کرتے جس پر وہ انھیں منع کرتیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق یہ خاندان گھر کی بالائی منزل پر آباد تھا اور اُن کے گھر میں داخل ہونے کے لیے مرکزی دروازے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ خاتون گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام بھی کرتی تھیں جبکہ ان کے ساتھ اُن کی ساس بھی رہتی ہیں اور وہ بھی لوگوں کے گھروں میں کام کرج کرکے روزگار کماتی تھیں۔

اُن کے مطابق خاتون کے متضاد اور ناقابل یقین بیانات، جیسا کہ ممکن ہے کہ کارٹون کریکٹرز کو دیکھ کر بچوں نے ایک، دوسرے کے گلے کاٹے، نے پولیس کو شک میں مبتلا کر دیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعدازاں پولیس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انھوں نے خود اپنے تینوں بچوں کو گھر کے اندر موجود چھری کی مدد سے قتل کیا ہے۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ میاں، بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کا ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون کی ان کے شوہر سے چھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے تین ہی بچے تھے۔

تفتیشی افسر آصف جاوید کا الزام ہے کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا کیونکہ خاتون نے ابتدا میں ظاہر کیا کہ جب وہ گھر میں موجود نہیں تھیں تب بچوں کو قتل کیا گیا۔

تفتیشی افسر کے مطابق اہلخانہ اور اہل محلہ نے بتایا کہ میاں، بیوی کا گھریلو معاملات پر اکثر جھگڑا ہوتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملزمہ کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور اُن کی ساس کو حراست میں نہیں لیا تاہم ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق تاحال نہ تو خاتون نے اہلخانہ نے پولیس سے رابطہ کیا ہے اور ہی خاتون نے کسی وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں۔