مثالی والدین بننے کے حد سے گزرتے مُفت مشورے: کیا واقعی بچوں کی تربیت کا کوئی ایک بہترین طریقہ موجود ہے؟

    • مصنف, وینیسا کلیرک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

ماں بننے سے پہلے روزی وِٹفیلڈ کا خیال تھا کہ وہ بہت پرسکون انداز میں بچوں کی پرورش کریں گی لیکن یہ ان کی محض خام خیالی تھی۔

وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پھر میرے ہاں دو نہایت شرارتی لڑکے پیدا ہوئے۔‘

بچوں کی پیدائش کے بعد روزی نے بہترین رہنمائی حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں آن لائن معلومات تلاش کیں۔ اسی دوران وہ بچوں کی تربیت کے ایک خاص انداز، یعنی جینٹل پیرنٹنگ، کی طرف متوجہ ہوئیں۔

یہ طریقہ بچوں کے ساتھ ہمدردی اور باہمی احترام پر زور دیتا ہے اور سزا کو کم اہمیت دیتا ہے، اگرچہ اس میں حدود و قیود بھی مقرر کی جاتی ہیں۔

اب چاہے بچوں کے سونے کے اوقات ہوں یا ننھے بچوں کے غصے اور ضد کو سنبھالنے کے مسائل روزی کو ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ ان کے فیصلے کہیں ’ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے خراب نہ کر دیں۔‘

روزی کا کہنا ہے کہ وہ جینٹل پیرنٹنگ کے نظریے کو قصوروار نہیں ٹھہراتیں بلکہ ان کے مطابق آن لائن دستیاب بچوں کی تربیت سے متعلق مشوروں کی بہتات ’انتہائی پریشان کن‘ تھی اور اس نے ’روزمرہ کے عام فیصلوں کو بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا تھا۔‘

برمنگھم سے تعلق رکھنے والی روزی اب دبئی میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے یوں لگتا تھا کہ اگر میں برتن دھونے یا سکون سے ایک کپ کافی پینے کے لیے 20 منٹ کے لیے ٹی وی چلا دوں تو گویا میں اپنے بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کر رہی ہوں۔‘

روزی کا ماننا ہے کہ بچوں کی تربیت سے متعلق ہر فیصلہ بار بار پرکھنے کے عمل نے ان کے اعتماد اور فطری سمجھ بوجھ کو متاثر کیا اور وہ اس تجربے میں اکیلی نہیں ہیں۔

سرکاری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کے والدین میں سے تقریباً دو تہائی دستیاب معلومات کی کثرت سے خود کو پریشان محسوس کرتے ہیں اور متضاد مشوروں کے باعث مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ رہنمائی اور مدد کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔

اور یہ مسئلہ صرف بچوں کے ابتدائی برسوں تک محدود نہیں۔

فلاحی ادارے ایکشن فار چلڈرن کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بہت سے والدین، جنھوں نے ابتدا میں اپنے نوعمر بچوں کے سکول نہ جانے، اے ڈی ایچ ڈی یا ذہنی صحت سے متعلق مسائل پر مدد حاصل کرنے کے لیے ادارے سے رابطہ کیا تھا، بعد میں اپنی بے چینی، تھکن اور اس الجھن کا بھی ذکر کرتے رہے کہ جب وہ خود شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو ہمدردی اور تحمل کے ساتھ بچوں کی تربیت کیسے کریں۔

بچوں کی تربیت کے مختلف نظریات یا طریقوں کے اس دور میں، کیا یہ تمام مشورے واقعی والدین کی مدد کر رہے ہیں یا انھیں مزید پریشان کر رہے ہیں؟

اور کیا واقعی بچوں کی تربیت کا کوئی ایک بہترین طریقہ موجود ہے؟ یا پھر کیا ایک مثالی والدین بننے کی کوشش میں ہم اپنی فطری سمجھ بوجھ اور وجدان کھوتے جا رہے ہیں؟

والدین سے متعلق برانڈز کا بڑھتا ہوا رجحان

آج والدین کو بچوں کی تربیت کے کئی مختلف اندازوں کا تجربہ ہو رہا ہے۔ ان میں ’ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ‘ بھی شامل ہے۔اس طریقہ کار میں والدین بچوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور انھیں ہر ممکن نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسری جانب ’ٹائیگر پیرنٹنگ‘ بھی ہے جس میں سخت نظم و ضبط اور اعلیٰ کارکردگی کی توقعات پر زور دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ’سنو پلو پیرنٹس‘ بھی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ’ڈولفن پیرنٹس‘ سختی اور لچک کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایویڈنس بیسڈ پیرنٹنگ کی مصنفہ میٹلڈا گوسلنگ کہتی ہیں کہ بچوں کی تربیت سے متعلق بہت سے مقبول رجحانات اور نظریات ایک والدین اور بچے کے درمیان اس تعلق کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جو دراصل کافی سادہ ہونا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ والدین سوچتے ہیں کہ مجھے ’سنو پلو‘ والدین بننا چاہیے اور اپنے بچوں کے راستے کی تمام رکاوٹیں ہٹانی چاہییں۔‘

’لیکن اس سے ایک ایسی چیز غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو جاتی ہے جو انسان ہونے کا ایک بنیادی حصہ ہے، یعنی یہ کہ آپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے لیے کچھ حدود و قیود بھی مقرر کرتے ہیں۔‘

مٹیلڈا گوسلنگ کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت کے رجحانات اکثر ایک جھولے کی مانند ہوتے ہیں، جہاں ایک نسل اُن چیزوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتی ہے جنھیں وہ سمجھتی ہے کہ پچھلی نسل نے غلط کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو بار بار ایک انتہا سے دوسری انتہا کی جانب یہ رجحان دکھائی دیتا ہے۔‘

بعض لوگوں کے نزدیک جینٹل پیرنٹنگ بچوں کی پرورش کے ایک نسبتاً سخت اور فاصلے والے انداز کے ردِعمل میں سامنے آنے والا تازہ رجحان ہے۔

1990 کی دہائی میں مقبول اس انداز میں عموماً بچوں کو رونے دینے، ’ناٹی سٹیپ‘ پر بٹھانے اور ’ٹائم آؤٹ‘ جیسی حکمتِ عملیوں پر انحصار کیا جاتا تھا۔

جینٹل پیرنٹنگ کی بنیاد بچوں کو سمجھنے، ان کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنے پر ہے تاہم اس میں مناسب حدود و قیود کی اہمیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

والدین کی پرورش کے مختلف انداز

والدین کے رویوں سے متعلق سب سے زیادہ زیرِ مطالعہ ماڈلز میں سے ایک ماہرِ نفسیات ڈیانا بومرِنڈ نے پیش کیا تھا۔

بومرِنڈ نے والدین کی تربیت کے تین انداز بیان کیے تھے جنھیں بعد میں بڑھا کر چار کر دیا گیا

ان میں اتھارٹیٹو (زیادہ شفقت، واضح نظم و ضبط)، اتھارٹیرین (کم شفقت، سخت نظم و ضبط)، پرمِسو (زیادہ شفقت، کم نظم و ضبط) اور غافل (کم شفقت، کم نظم و ضبط) شامل ہیں۔

گوسلنگ کہتے ہیں کہ ’اتھارٹیٹو انداز کو بہترین معیار سمجھا جاتا ہے، وہ اس موضوع پر ایک ہزار سے زیادہ مطالعات کا جائزہ لے چکے ہیں۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ جن بچوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہوتی ہے جہاں محبت اور شفقت کے ساتھ واضح حدود بھی مقرر کی جاتی ہیں، وہ عموماً تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، ان کا اعتماد زیادہ ہوتا ہے اور ان کی سماجی صلاحیتیں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

تاہم اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جینٹل پیرنٹنگ اس فریم ورک میں کہاں فٹ ہوتی ہے۔

گوسلنگ کے مطابق یہ انداز پرمِسو والدین کے طرزِ عمل سے زیادہ قریب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں بچوں کی پسند اور رہنمائی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بچے کے پاس اتنا زیادہ اختیار آ جاتا ہے کہ اسے باہر سے ملنے والے تحفظ اور رہنمائی کا احساس کم ہو جاتا ہے۔‘

تاہم سارہ اوکویل سمتھ، جنھیں عام طور پر ’جینٹل پیرنٹنگ‘ کی اصطلاح متعارف کرانے اور اسے مقبول بنانے کا سہرا دیا جاتا ہے، اس تاثر سے سخت اختلاف کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جینٹل پیرنٹنگ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دے دی جائے۔ ان کے مطابق یہ اندازِ تربیت واضح طور پر ماہرِ نفسیات بام رِنڈ کی بیان کردہ بااختیار والدین (authoritative parenting) کی قسم میں آتا ہے، جہاں واضح حدود و قیود کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر ایسی میمز کی بھرمار ہے جن میں تھکے ہارے والدین کو سپر مارکیٹ میں ضد یا غصے کا اظہار کرنے والے بچے کے ساتھ نہایت پرسکون انداز میں بحث کرتے دکھایا جاتا ہے اور اوکویل اسمتھ کو یہ بات بے حد پریشان کن لگتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کبھی کبھار انسٹاگرام ریلز اور ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنا چھوڑنا پڑتا ہے کیونکہ میرا دل چاہتا ہے کہ تبصرہ کروں کہ ’یہ جینٹل پیرنٹنگ نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق ’گھر کے کچھ اصول ہوتے ہیں، خاندان کی حدود ہوتی ہیں، نظم و ضبط اور اس کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم نظم و ضبط کو سزا کے بجائے سیکھنے اور سکھانے کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

اوکویل سمتھ کا کہنا ہے کہ ’ننھے بچوں کے غصے یا نوعمر بچوں کے رویوں کو دماغی نشوونما کے جاری عمل کے تناظر میں سمجھنا چاہیے، نہ کہ یہ سمجھ کر کہ وہ شرارت کر رہے ہیں یا وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔‘

تاہم ان کے مطابق، اگرچہ جینٹل پیرنٹنگ کی اصطلاح خاصی مقبول ہو چکی ہے، لیکن یہ اب بھی ایک محدود رجحان ہے، جبکہ سخت اور حکم پر مبنی اندازِ تربیت بدستور زیادہ عام ہے۔

والدین بننے کا درست طریقہ اپنانے کا دباؤ

تقریباً 80 برس قبل امریکی ماہرِ اطفال ڈاکٹر بنجمن سپاک نے ’بے بی اینڈ چائلڈ کیئر‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی جس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور جو کئی نسلوں تک ماؤں کے لیے رہنمائی کا بنیادی ذریعہ بنی رہی۔

اس کتاب کا پہلا جملہ تھا کہ ’اپنے آپ پر بھروسا کریں۔ آپ جتنا سمجھتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں۔‘

اس کتاب نے اُس دور میں بچوں کی تربیت سے متعلق سخت تصورات کو چیلنج کیا اور آنے والی دہائیوں میں والدین کو مختلف ماہرین اور زرائع سے بڑھتی ہوئی تعداد میں مشورے ملنے لگے۔

بچوں کی پرورش سے متعلق تحقیق کا دائرہ بھی بتدریج ابتدائی برسوں تک پھیل گیا، خاص طور پر حمل کے زمانے سے لے کر دو سال کی عمر تک، جب زندگی بھر کی جسمانی اور جذباتی صحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ والدین کو ان متضاد پیغامات کے درمیان راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے کہ ان کے بچوں کے لیے کیا بہتر ہے۔

سینٹر فار پیرنٹنگ کلچر سٹڈیز کی ڈائریکٹر پروفیسر ایلی لی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بچوں کی تربیت کے موضوع پر تحقیق کر رہی ہیں۔

ان کی تحقیق میں نومولود بچوں کو دودھ پلانے کے حوالے سے ماؤں کے اعتماد اور خدشات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی میں ایک بڑی تبدیلی آئی، جب بچوں کی تربیت عوامی پالیسی کا اہم موضوع بن گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ’سیاست دانوں نے کہنا شروع کیا کہ بچوں کی پرورش دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ بچے کسی ہدایت نامے کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے۔ ہمیں والدین کی رہنمائی کرنی چاہیے، انھیں زیادہ مدد فراہم کرنی چاہیے اور والدین کی تربیت کا انتظام کرنا چاہیے۔‘

ان کے مطابق اس کے بعد خاندانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کے بارے میں مشورے سامنے آنے لگے چاہے بات بچوں کو پیٹ کے بل لٹانے کی ہو، خوراک کی ہو یا پھر بچوں کی گاڑی کے انتخاب کی۔

پروفیسر لی کا مؤقف ہے کہ اگرچہ بعض عوامی صحت کی مہمات ضروری تھیں، مثلاً تحقیق میں پالنے میں بچوں کی اموات کے خطرات سامنے آنے کے بعد والدین کو یہ مشورہ دینا کہ بچوں کو پیٹ کے بل نہ سلایا جائے، لیکن وقت کے ساتھ مشوروں کی اس بڑھتی ہوئی ثقافت نے بہت سے والدین کو غیر ضروری خدشات میں مبتلا کر دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ڈاکٹر سپاک کا ’اپنے آپ پر بھروسا‘ کرنے والا فلسفہ اب تقریباً ایک غیر روایتی مشورہ بن چکا ہے۔ آج اس کے بجائے ہم کہتے ہیں کہ ’ہمیشہ مدد حاصل کریں۔‘

پروفیسر لی کے مطابق اس صورتِ حال نے والدین میں یہ احساس مزید بڑھا دیا ہے کہ انھیں ہر کام ’صحیح طریقے‘ سے کرنا چاہیے، جس سے ان کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جن باتوں کو آج بہت اہم اور فیصلہ کن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ان میں سے کئی دراصل اتنی اہم نہیں ہوتیں۔‘

مثال کے طور پر وہ بچے کو چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے یا یہ طے کرنے کا ذکر کرتی ہیں کہ بچے کو پیٹ کے بل کتنی دیر لٹایا جانا چاہیے۔

ان کے بقول ’یہ صورتحال بہت مشکل ہے کیونکہ والدین بالآخر مکمل طور پر تھک کر رہ جاتے ہیں۔‘

اوکویل سمتھ کہتی ہیں کہ مشوروں کی یہ بھرمار ’کانوں کو گونج سے بھر دینے والی اور الجھا دینے والی‘ ہو سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’حقیقت میں والدین کو خود سیکھنا چاہیے اور اپنی فطری سمجھ بوجھ پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف مشوروں کی زیادتی نہیں بلکہ غلط مشوروں کی فراوانی بھی ہے۔

روتھ واٹس ایک ہیلتھ وزیٹر ہیں جنھوں نے سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرنا اس وقت شروع کیں جب انھیں آن لائن غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش ہوئی۔

انھوں نے ایسے متعدد ماہرین کو دیکھا جو والدین کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ بچوں کو وقت سے پہلے ٹھوس غذا دینا شروع کر دیں، یا طبی تربیت کے بغیر زبان کی بندش (ٹنگ ٹائی) اور الرجی کے علاج کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے تھے، یا پھر والدین کو یہ کہتے تھے کہ چھ ماہ کی عمر سے پہلے ہی بچوں کو الگ کمرے میں سلانا شروع کر دیں۔

روتھ واٹس کے مطابق بہت سے خاندان ایک طرف پہلے سے زیادہ طویل اوقات کار میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف صحت کی خدمات میں کمی آ رہی ہے۔ نتیجتاً زیادہ والدین دودھ پلانے، بچوں کے رویوں اور نیند سے متعلق مدد کے لیے انٹرنیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ کسی ویب سائٹ پر معلومات پڑھنے کے بجائے ایسے افراد سے رہنمائی چاہتے ہیں جو ان سے ذاتی اور بات چیت کے انداز میں گفتگو کریں۔‘

مزید رہنمائی یا اپنے آپ پر زیادہ بھروسا

خاندانی زندگی کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو والدین کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔

بچے کی فطرت، خصوصی تعلیمی ضروریات، خاندان کی مدد، مالی حالات اور خود والدین کی پرورش کا انداز، سب خاندانی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی پرورش پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی بلکہ والدین سے وابستہ توقعات بڑھ گئی ہیں۔

تاہم دوسرے ماہرین کے مطابق آج کے والدین کو پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث یہ چیلینج بڑھ گیا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کے زیادہ وقت سکرینوں پر گزارنے اور کم وقت باہر کھیلنے سے متعلق بحث بھی جاری ہے، جبکہ سکولوں کا کہنا ہے کہ انھیں بچوں کے رویوں سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل اور قواعد و ضوابط اور اختیار کے احترام میں کمی کا سامنا ہے۔

پروفیسر لی کا خیال ہے کہ والدین کا اعتماد اس وقت اپنی کم ترین سطح پر ہے۔

ان کے بقول ’میرے خیال میں آج کل والدین بچوں کو نظم و ضبط سکھانے کے معاملے میں بہت ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ انھیں فکر ہوتی ہے کہ اس سے بچے کے جذبات پر کیا اثر پڑے گا۔‘

بچوں کی تربیت کے درست طریقے کے بارے میں پائی جانے والی اس الجھن نے بعض والدین کو باقاعدہ کورسز کی طرف مائل کر دیا ہے۔

ایمارا لامچے برینن کی 22 سالہ ایک بیٹی، چار سالہ ایک بیٹا اور چھ ماہ کی ایک بیٹی ہے۔

انھوں نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایک کورس میں داخلہ لیا۔ انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب سکول کے باہر ایک اور والدہ نے بتایا کہ وہ بھی اس کورس میں شرکت کر رہی ہیں۔

لندن میں اپنے گھر سے گفتگو کرتے ہوئے ایمارا کہتی ہیں کہ ’پمفلٹ پر لکھا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ میں نے سوچا، ہاں واقعی، تو آپ میری کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میری عمر 19 سال تھی اور میں نے بچوں کی تربیت کے مختلف اندازوں کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا تھا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ رہتی تھی اور میں حالات کے مطابق چلتی رہی۔ لیکن اب میں واقعی یہ جاننا چاہتی ہوں کہ بچوں کی پرورش میں ایسی کون سی سادہ اور عملی باتیں ہیں جو واقعی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔‘

ایمارا کا کہنا ہے کہ سرکل آف سکیورٹی کورس نے انھیں عملی رہنمائی فراہم کی، جس کی مدد سے وہ اپنے بچوں کو اپنے جذبات سمجھنے اور سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہیں، ضرورت پڑنے پر قیادت کا کردار ادا کر سکتی ہیں، اور یہ بھی پہچان سکتی ہیں کہ وہ خود کب دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔

کنیکٹڈ لائیوز نامی فلاحی ادارے کی ڈائریکٹر اور سابق سوشل ورکر جینیفر پیٹرز کہتی ہیں کہ ’یہ کورس آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ بچوں کی پرورش کیسے کرنی ہے، بلکہ یہ آپ کو سوچنے میں مدد دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے لیے بہترین چاہتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ اس مقصد تک پہنچنے کا طریقہ جانتے ہوں، اور ایسے میں رہنمائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پیٹرز کہتی ہیں کہ ’میرا خیال نہیں کہ لوگوں کو معلومات کی بھرمار کا نشانہ بنایا جانا چاہیے، لیکن گروپ میں شامل ہونے کا تجربہ آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ 'صرف میں ہی اس صورتحال سے نہیں گزر رہی، اور یہ آپ کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر پوری صورتِ حال کو بہتر انداز میں دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔‘

اپنی فطری سمجھ بوجھ پر بھروسا

دوسری جانب دبئی میں مقیم روزی کا کہنا ہے کہ ان کے دوسرے بچے کی پیدائش نے سب کچھ بدل دیا، کیونکہ تب انھیں احساس ہوا کہ ان کے دونوں بیٹے ایک دوسرے سے بالکل مختلف مزاج رکھتے ہیں اور بچوں کی تربیت کے لیے کوئی ایک طریقہ سب پر لاگو نہیں ہوتا۔

حال ہی میں برمنگھم کے اپنے گھر کے دورے کے دوران بھی انھیں اس بات کا احساس ہوا۔ ان کا بڑا بیٹا ضد کر رہا تھا اور روزی ایک بار پھر ایک مانوس سی تشویش میں مبتلا ہو گئیں۔

وہ سوچنے لگیں کہ ’اگر میں اسے اوپر اس کے کمرے میں بھیج دوں تو کیا میں اس کی جذباتی نشوونما کو نقصان پہنچاؤں گی؟ کیا اس کی وجہ سے اسے تعلق قائم کرنے میں کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے؟‘

لیکن ان کی والدہ نے کہا کہ ’بس اسے اوپر بھیج دو۔ اگر وہ اوپر ہو گا تو اپنے بھائی کے سر پر کھلونا گھوڑا نہیں مار سکے گا۔ جو فیصلہ کرو، اس پر قائم رہو۔‘

روزی کہتی ہیں کہ اب وہ اس نسل در نسل منتقل ہونے والے مشورے پر بھی توجہ دیتی ہیں۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات اور دل کی باتیں شیئر کرنا بھی شروع کر دی ہیں تاکہ دوسری ماؤں کو یہ احساس ہو کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔

ماں بننے کے ابتدائی برسوں کو یاد کرتے ہوئے روزی کہتی ہیں کہ ’کاش پہلے ہی معلوم ہوتا کہ کوئی بھی والدین مکمل یا مثالی نہیں ہوتے۔‘