خدا کے وجود پر مباحثہ اور غزہ میں بچوں کی اموات پر سوال: وہ مناظرہ جس کے بعد جاوید اختر کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا

،تصویر کا ذریعہyoutube/@muftishamail
صدیوں سے انسانوں کے درمیان ایک سب سے بڑی بحث جو چلتی آئی ہے وہ خدا کے وجود کے متعلق ہے کہ آیا ایسی کسی ہستی کا وجود ہے بھی یا یہ محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے، جو ہم نے مشکل حالات میں خود کو ڈھارس دینے کے لیے پیدا کی ہے۔
سنیچر کے روز اس ہی حوالے سے انڈیا کے دارالحکومت میں ایک مناظرے کا انعقاد ہوا جس کا عنوان تھا کہ ’کیا خدا کا وجود ہے؟‘۔
اس مناظرے میں انڈیا کے مذہبی سکالر اور وحیین فاؤنڈیشن کے بانی مفتی شمائل ندوی اور بالی ووڈ کے مشہور گیت کار اور مصنف جاوید اختر آمنے سامنے تھے۔
جاوید اختر کا شمار انڈیا کے سرکردہ دانشوروں میں بھی ہوتا ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خدا اور کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔
انڈین صحافی اور للن ٹاپ ویب سائٹ کے ایڈیٹر سورابھ ڈیویدی نے اس مناظرے کے میزبان کے فرائض انجام دیے۔
اس مناظرے کی بنیاد کئی ماہ پہلے اس وقت پڑی تھی جب رواں سال ستمبر میں انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کی ’اُردو اکیڈمی‘ نے جاوید اختر کی ایک سیمینار میں شمولیت کے خلاف بعض سخت گیر مسلم تنظیموں کے احتجاج اور مبینہ دھمکیوں کے بعد اپنا چار روزہ ادبی پروگرام ملتوی کر دیا تھا۔
جاوید اختر کی مخالفت کرنے والی مسلم تنظیموں میں مفتی شمائل ندوی کی تنظیم ’وحیین فاؤنڈیشن‘ بھی شامل تھی۔
مفتی شمائل ندوی نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی تنظیم نے جاوید اختر کی مخالفت اُن کے مبینہ متنازع مذہبی خیالات، مذہب کے بارے میں دیے گئے مبینہ اہانت آمیز بیانات کی وجہ سے کی گئی کیونکہ جاوید اختر کے خیالات کی وجہ سے مسلمانوں کے عقائد کی توہین ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وحیین فاؤنڈیشن نے پروگرام منسوخ کرنے کے لیے اکیڈمی پر دباؤ نہیں ڈالا تھا۔ مفتی شمائل ندوی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے جاوید اختر کی کولکتہ آمد کا خیر مقدم کیا تھا اور انھیں مذاکرے کی دعوت دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہyoutube/@muftishamail
’ارے یار اس سے اچھے تو ہمارے پرائم منسٹر ہیں، کچھ تو خیال کرتے ہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنیچر کے روز ہونے والے مناظرے کے دوران ایک موقع پر جاوید اختر نے اپنا نکتہ نظر ثابت کرنے کے لیے حالیہ جنگ کے دوران غزہ میں ہزاروں بچوں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر خدا کا وجود ہے تو وہ اس ظلم کو روکتا کیوں نہیں؟
مباحثے کے آغاز میں اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بحث کی خاطر اگر مان بھی لیا جائے کہ خدا واقعی میں ہے، تو جب وہ دنیا کی حالت دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں خدا کے لیے کوئی جذبات پیدا نہیں ہوتے۔
’تم قادر مطلق ہو، ہر جگہ موجود ہو، تم تو وہاں غزہ میں رہے ہو گے، تم تو ہر جگہ ہو، تم دیکھ رہے تھے کہ بچے کی کیسے دھجیاں اڑ رہی ہیں، تم دیکھ رہے تھے اور تم چاہتے ہو میں تمھاری پرستش کروں، اگر تم ہو بھی؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ارے یار اس سے اچھے تو ہمارے پرائم منسٹر، کچھ تو خیال کرتے ہیں۔‘
جاوید اختر کا کہنا تھا کہ یہ دنیا ظلم، ناانصافی، جبر اور تشدد سے بھری ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ یہ نہیں کہیے گا کہ وہ دیکھ رہا ہے اور بتائے گا ایک دن، اگر وہ دیکھ رہا ہے اور مداخلت نہیں کرتا تو آپ دعا کیوں مانگتے ہیں۔‘
جاوید اختر نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ آپ کو نوکری دلوا سکتا ہے، لڑکی کی شادی کر سکتا ہے، بیٹے کو گرین کارڈ دلوا سکتا ہے، تو کم سے کم یہ جو مر رہے ہیں بچے، ان کو روک دے۔‘

،تصویر کا ذریعہyoutube/@muftishamail
سوشل میڈیا پر لوگ جاوید اختر کی اس بات کی کلپ شیئر کرتے ہوئے ان پر تنقید کر رہے ہیں۔
پاکستان کی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سمجھوتہ کرنے والے لبرل ہندوتوا حکومت کے انڈیا میں اپنے وجود کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں لوگ انھیں گھر کرائے پر دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔
ایکس پر ایک صارف لکھتی ہیں کہ جاوید اختر ویسے تو بہت پڑھا لکھا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن لگتا ’ایسا ہے کہ آپ نے الحاد پر دسویں جماعت کے بچے کا لکھا ہوا پیپر پڑھا ہے اور اسے اپنی پوری شخصیت بنا لیا ہے۔‘
پاکستانی صحافی سہیل رشید لکھتے ہیں کہ ’اگر ٹکر مذہب کو ہی دینی ہے تو کم از کم تیاری برابر ہو کہ کاٹ تو جاوید صاحب والی ہو، خدا ہے تو چڑیا پیاسی کیوں مری، کتا بارش میں کیوں بھیگا، کسی شخص نے خودکشی کیوں کی جیسے سوالات ہر حساس دل کا مسئلہ تو ہیں مگر خدا کے وجود کے انکار کی دلیل کے طور اسے کالج میں کوئی فرسٹ ائیر کا ملحد ہی قبول کرے گا، پختہ یا سنجیدہ ذہن نہیں۔‘
جہاں سوشل میڈیا پر کئی لوگ جاوید اختر پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں کچھ ان کے حق میں بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر شیتل یادو نامی ایک صارف لکھتی ہیں کہ ’اگر دنیا میں جاوید اختر صاحب جیسے ہزاروں لوگ اور ہوتے تو تمام مذاہب کی تمام برائیاں مٹ جاتیں۔‘
مباحثے کے دوران ایک موقع پر مفتی شمائل ندوی نے جاوید اختر کے اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے کہ اکثریت غلط ہے اور صحیح کا فیصلہ کرے گی، سوال کیا کہ کیا نازی وہ جرمنی میں اکثریت کے نسل کشی کے حق میں فیصلے کوصحیح مانیں گے۔
اس کے جواب میں جاوید اختر کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں موجود کتنے لوگ ہٹلر کو صحیح سمجھتے تھے؟
مفتی شمائل ندوی کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہوا کہ ’دنیا کی اکثریت فیصلہ کرے گی نہ کہ کسی معاشرے کی۔ دنیا کی اکثریت خدا کے وجود پر یقین رکھتی ہے، تو آپ کیوں نہیں۔‘
اسی طرح ایک اور موقع پر جاوید اختر کا کہنا تھا کہ اگر خدا کا وجود واقعی میں ہے، تو مذہبی کتابوں میں ڈائنوسارز کا ذکر کیوں نہیں۔ مفتی شمائل ندوی کا اس پر کہنا تھا کہ ایسے تو میتھ کی کتابوں میں بھی ڈائنوسار کا ذکر نہیں، تو کیا وہ بھی فالتو ہیں؟
دوسری جانب کئی افراد مفتی شمائل کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل پر بھی سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
ایکس پر ایک صارف لکھتے ہیں کہ جاوید اختر کی ساری بحث ’آرگیومنٹ آف ایول‘ یا خدا کے ہوتے ہوئے دنیا میں بدی کی موجودگی کے دلیل پر ٹِکی ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مفتی شمائل ندوی نے اس کے جواب میں ’وہی روایتی اور نہایت مضحکہ خیز جوابات دیے کہ خدا برائی کو جنم دے کر اور ہمیں فری وِل (انتخاب کی کھلی چھٹی) دے کر ہمارا امتحان لے رہا ہے کیونکہ برائی کے بغیر اچھائی کا تصور ناممکن ہوجاتا۔‘
لیکن صارف کے مطابق جاوید اختر اس ’بے تکی وضاحت‘ کو صحیح سے چیلینج نہیں کرپائے کہ خدا جو ابدی ہے اور ہر چیز پر پر قدرت رکھنے والا ہے اس کو کیا پڑی ہے ہمارے امتحان لینے کی؟ اور ایک بچہ امتحان کیوں دے رہا ہے؟
راجیو دھوندیال نامی صارف لکھتے ہیں کہ جاوید اختر کے سوالوں کے جواب میں مفتی صاحب کے پاس صرف عقائد تھے لیکن کوئی واضح جواب یا حقائق نہیں۔ وہ منطق، استدلال اور بے خوف آواز کے طور پر کھڑا ہے۔ ’وہ [جاوید اختر] منطق، استدلال اور بے خوف سوچ کی واضح آواز کے طور پر کھڑا ہے۔‘
’یہ مباحثہ ایک سنگِ میل ہے‘
مباحثے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفتی شمائل ندوی نے کہا کہ ’ہمارے ملک کے کیسے حالات ہیں یہ آپ جانتے ہیں ان حالات میں پیار، محبت کے ساتھ بیٹھ کر تعلیمی انداز میں بحث کر لینا میں سمجھتا ہوں ایک سنگِ میل ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لیے جاوید اختر اور ان کی ٹیم کو سراہنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف خیالات کے ماننے والوں کو لڑائی جھگڑے کے بجائے ساتھ بیٹھ کر، کافی پیتے ہوئے بات کرنی چاہیے۔
’آپ اپنی بات ثابت کریں اور ہم اپنی بات ثابت کریں اور لوگوں کو اس کا فیصلہ کرنے دیں۔‘













