آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے ہندوؤں کو شہریت دینے سے انڈیا کو کیا فائدہ ہو گا؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
انڈیا کی حکومت نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بودھ جین، پارسیوں اور مسیحیوں کو انڈیا کی شہریت دینے کے ضابطے میں نرمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے تحت ان مذاہب سے تعلق رکھنے والے جو افراد پاسپورٹ پر انڈیا آئے ہیں اور جن کے پاسپورٹ یا ویزا کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ بھی شہریت حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔
وزارت داخلہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت شہریت کے پورٹل میں مطلوبہ ترمیم کر رہی ہے تاکہ شہریت کے لیے ایکسپائرڈ پاسپورٹ کو تسلیم کیا جا سکے۔
انڈیا میں سنہ 2018 کے بعد سے شہریت کے لیے درخواست دینے کا عمل پوری طرح آن لائن کر دیا گیا تھا۔
پاکستانی ہندوؤں کو انڈیا میں شہریت دلانے میں مدد کرنے والی تنظیم ’سیمانت لوک سنگھٹن‘ کے صدر ہندو سنگھ سوڈھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کوئی پاکستانی ہندو جو 2010 میں انڈیا آیا تو اس کا ایکسپائرڈ پاسپورٹ یہ پورٹل قبول نہیں کرتا۔ اس کے لیے اسے پاکستانی ہائی کمیشن کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں پاسپورٹ کی تجدید کی فیس بہت زیادہ ہے۔‘
’چونکہ پاکستان سے انڈیا آنے والے بیشتر ہندو کمزور طبقے سے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے پورے کنبے کے لیے یہ فیس ادا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سنہ 1955 کے شہریت کے قانون کے تحت یہ ہندوافراد، انڈین شہریت حاصل کرنے کے اہل ہیں کیونکہ وہ یہاں 12 برس گزار چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہر طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔‘
پاکستانی ہندو تارکینِ وطن شہریت کے منتظر
ہندو سنگھ سوڈھا نے بتایا کہ ماضی میں کچھ پاکستانی ہندوؤں کو شہریت دی گئی تھی لیکن یہ عمل بہت مختصر اور سست رفتار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت اکیلے راجستھان میں کم از کم 25 ہزار پاکستانی ہندو انڈین شہریت ملنے کے منتظر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہاں آنے والے بیشتر ہندو سندھی بولتے ہیں یا اردو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے پہلا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ انھیں ایک نئی زبان ہندی سیکھنی پڑتی ہے۔ دوسرا شہریت نہ ملنے کے سبب وہ مختلف شہروں میں کیمپوں میں مقیم ہیں اور مزدوری اور چھوٹا موٹا کام کرکے وہ بے یقینی میں زندگی گزارتے ہیں۔ شہریت ایک انتظامی مسئلہ ہی نہیں ایک انسانی المیہ بھی ہے جس پر سیاسی نہیں انسانی نقطہ نظر سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیر ملکیوں اور تارکینِ وطن سے متعلق وزارت داخلہ کے شعبے کے مطابق یکم اپریل 2021 سے 31 دسمبر 2021 تک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے اقلیتی برادری کے 2439 افراد کو طویل مدتی ویزا دیا گیا۔
ان میں سے 2193 پاکستانی شہری جبکہ 237 افغانستان اور نو بنگلہ دیش کے شہری تھے۔ طویل مدتی یا زیارتی ویزا پانچ برس کا ہوتا ہے اور اسے شہریت حاصل کرنے کا ہی ایک اہم قدم مانا جاتا ہے۔
ہندو سب سے زیادہ پاکستان سے آتے ہیں۔ افغانستان سے بیشتر درخواستیں سکھوں اور وہاں پہلے سے آباد سندھی ہندوؤں کی ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش سے انڈیا آنے والے ہندوؤں کی تعداد برائے نام رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شہریت کے نئے قانون کا نفاذ
تین پڑوسی ملکوں کی اقلیتی برادری کے لیے شہریت کے ضوابط میں نرمی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر داخلہ امیت شاہ نے گجرات کے حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران زور دے کر کہا کہ حکومت شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کو جلد ہی نافذ کرے گی۔
سی اے اے کا ترمیمی قانون دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا اور صدر مملکت کے دستخط کے ساتھ یہ قانون کی شکل لے چکا ہے۔
اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، جین، بودھ، سکھ، پارسی اور مسیحی تارکینِ وطن جو دسمبر 2014 تک انڈیا آ چکے ہیں اور جو مذہبی تفریق اور جبر کے سبب اپنے ملک سے یہاں آئے وہ انڈین شہریت کے حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔
اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے مسلمانوں سے تفریق کی بنیاد پر غیر آئینی قرار دیا تھا اور اس کی شدت سے مخالفت کی تھی۔
سی اے اے کے خلاف ملک گیر تحریک بھی چلی تھی اور حکومت اسے نافذ نہیں کر سکی۔ اس قانون کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا اور جلد ہی اس پر سماعت شروع ہونے والی ہے۔
سی اے اے کا مقصد کیا ہے؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سی اے اے کو بنیادی طور پر آسام میں استعمال کے لیے بنایا گیا ہے۔ آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی نشاندہی کرنے کے لیے ریاست کی پوری آبادی کا ایک شہریت رجسٹر ’این آر سی‘ بنایا گیا ہے جس میں ہر باشندے سے مختلف دستاویزات کے ذریعے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
تمام شہریوں کی چھان بین کے بعد 19 لاکھ افراد ایسے پائے گئے تھے جن کی شہریت کے بارے میں شکوک تھے لیکن آسام کی موجودہ بی جے پی کی ریاستی حکومت نے این آر سی کے اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کیا اور اس نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی ہے۔
این آر سی پر گہری نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جن 19 لاکھ شہریوں کو مشکوک پایا گیا، ان میں غالب اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
آسام کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن امن ودود کا کہنا ہے کہ حکومت نے شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے میں تارکینِ وطن کو شہریت دینے کے لیے مذہبی جبر کی جو شرط لگائی ہے وہ ایک پیچیدہ پہلو ہے یعنی جو ہندو، سکھ یا دیگر تارکینِ وطن انڈیا آئے اور برسوں سے رہ رہے ہیں انھیں یہ بیان حلفی دینا ہو گا کہ وہ اپنے ملک میں مذہب کی وجہ سے ستائے گئے جس کے سبب یہاں آئے ہیں۔
جب امن ودود سے پوچھا گیا کہ وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد ہی پورے ملک میں سی اے اے نافذ کریں گے تو انھوں نے کہا ’حکومت اگراسے نافذ کرنا چاہتی ہے تو اسے نافذ کیوں نہیں کرتی؟ اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے اسے ضوابط مرتب کرنے ہوں گے اور وہ ابھی تک نہیں بنے ہیں۔ شہریت کے انسانی المیے پر سیاست زیادہ ہو رہی ہے۔ حکومت شہریت کے انسانی مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتی، وہ اسے برقرار رکھنا چاہتی ہے۔‘
انڈیا میں ڈیڑھ برس میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ شہریت، این آر سی اور سی اے اے جیسے معاملات آنے والے دنوں میں سیاسی بحث کا اہم موضوع ہوں گے۔ ان بحثوں سے دور لاکھوں باشندوں کی زندگی بدستور بے یقینی کی گرفت میں ہو گی۔