’میں غلطی پر تھا کہ یہ شہر کی ثقافت ہے‘: کراچی میں ’پان کی پچکاریوں‘ سے متعلق بیان پر عامر سہیل کی معذرت

عامر

،تصویر کا ذریعہAamir Sohail Facebook

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کمنٹری کے دوران کراچی سے متعلق اپنے ایک بیان پر معذرت کر لی ہے۔

جمعے کو ایکس پر اپنے بیان میں عامر سہیل کا کہنا تھا کہ شہر اور اس کی ثقافتوں پر بات کریں تو کراچی بھی میرا اپنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پان کھانے کے کلچر نے ہمیشہ مجھے متوجہ کیا ہے اور پچکاری اس کا حصہ ہے۔ میں غلطی سے یہ سوچتا تھا کہ یہ کراچی کی ثقافت کا حصہ ہے، لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔‘

جمعرات کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران کراچی اور لاہور دونوں شہروں میں اہم عمارتوں اور بازاروں کی ویڈیوز چلائی جا رہی تھیں اور عامر سہیل اور اُن کے ساتھی کمنٹیٹرز اس پر تبصرہ کر رہے تھے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہX/@TheLeftySohail

اس دوران عامر سہیل نے کہا کہ ’ایک چیز جو ہمارے ڈائریکٹر دکھانا بھول گئے ہیں وہ یہ ہے کہ کراچی میں جو سب سے زیادہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے، وہ پان کی پچکاریاں ہیں۔ وہ اگر نہیں ہوں گی تو پھر کراچی کو تو آپ صحیح طریقے سے ایکسپلین نہیں کر پا رہے۔‘

عامر سہیل کے اس تبصرے پر ساتھی کمنٹیٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’جی بالکل پان کراچی کی سوغات ہے، لیکن اب یہ لاہور میں بھی بہت مقبول ہے۔‘ اس پر عامر سہیل نے کہا کہ ’یہ جو پچکاری کی آواز ہے اس کو ہم لوگ مس کرتے ہیں۔‘

اس میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو شکست دے دی، تاہم عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ان ریمارکس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تنقید کرنے والوں میں اے آر وائی نیوز کے صدر عماد یوسف بھی شامل ہیں، جن کا کہنا تھا کہ عامر سہیل پاکستان کے سابق کرکٹر، چیف سلیکٹر ہیں، اُن کی جانب سے کراچی شہر کا مذاق اُڑانا ’مایوس کن‘ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں شہروں سے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس پیکج پر پان کی پچکاری اور اسے شہر کی علامت قرار دینا غیر ضروری تھا۔

عماد یوسف کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ احترام کا مستحق ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کا مقصد عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

اس پر سوشل میڈیا صارف ایچ این کیو نے لکھا کہ براہ کرم، کبھی کبھی چیزوں کو معمول کے مطابق لیں، ہماری عادت ہے کہ کسی کی بات سے تنازعہ نکال لیتے ہیں۔ کراچی خوبصورت ہے اور ہمارا پیارا شہر ہے۔

حمزہ نامی صارف نے لکھا کہ عامر سہیل کو شاید اتنے بڑے پلیٹ فارم پر یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن کیا یہ بات درست نہیں ہے؟ جب بڑے شہروں کے شہری غیر ذمہ دارانہ کام کرتے ہیں تو لوگ تبصرہ کر سکتے ہیں۔ کاش وہ اسے مثبت لے کر کراچی کو دوبارہ عظیم بنائیں۔

آصف الرحمان نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ کراچی کا پان کراچی کا فخر ہے۔ پان کی تعریف کرنے کے بجائے پان تھوکنے پر توجہ دینا انتہائی نامناسب تھا، عامر سہیل کو معافی مانگنی چاہیے۔

Amir Sohail

،تصویر کا ذریعہX/@TheLeftySohail

59 سالہ عامر سہیل پاکستان کی جانب سے 47 ٹیسٹ اور156 ون ڈے میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ پانچ سنچریوں اور 31 نصف سنچریوں کی مدد سے چار ہزار 780 رنز بنا چکے ہیں۔

ٹیسٹ میچز میں اُنھوں نے پانچ سنچریوں اور 13 نصف سنچریوں کی مدد سے 2823 رنز بنا رکھے ہیں۔

وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ چیف سلیکٹر کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر گیم ڈیویلیپمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔

وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کی طرح بے لاگ تبصروں اور کھل کر خیالات کا اظہار کرنے کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔