میڈیکل کالجوں میں زیرتعلیم افغان طلبہ کی بیدخلی کا تنازع: ’امریکہ میں پاکستانی طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا تو ردِعمل کیا ہوتا؟‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر قدغنیں لگا رکھی ہیں۔ (فائل فوٹو)
    • مصنف, اسد صہیب اور محمد زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

’ہمیں اب اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ہاسٹل خالی کر دیں۔ افغانستان میں تو طالبان ویسے ہی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل ہونے کے قریب ہے اور اب پاکستان کی حکومت کہہ رہی ہے کہ واپس اپنے ملک چلے جاؤ۔‘

یہ کہنا ہے کہ لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغان طالبہ کا، جن کی شناخت اُن کے تحفظ کی خاطر مخفی رکھی جا رہی ہے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والی یہ طالبہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے اُن 22 افغان طلبہ میں شامل ہیں جنھیں یونیورسٹی انتظامیہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حکم پر فوری طور پر ہاسٹل خالی کر کے اپنے وطن واپس جانے کا کہا ہے۔

رجسٹرار کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 22 افغان طلبہ نوٹیفکیشن موصول ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر رجسٹرار آفس رپورٹ کریں اور اپنے واپسی کے عمل میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

یاد رہے کہ یکم ستمبر کو پی ایم ڈی سی کے ہیڈ آف کونسل ڈیپارٹمنٹ نے یہ حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں پاکستان کی سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کی جانب سے پاکستان کی سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیز سے کہا گیا ہے کہ وہ زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو پالیسی کے مطابق ضروری اجازت نامے فراہم کرنے اور اُن کی وطن واپسی کے لیے معاونت کریں۔

پی ایم ڈی سی کے ترجمان نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اُن کے ادارے کی جانب سے ملک کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیز کو یہ حکمنامہ بھیجا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار ڈاکٹر ریحان کے مطابق ’یہ نوٹس حکومتی ہدایات اور پالیسی کے تحت پورے پاکستان میں جاری کیا گیا ہے اور ملک بھر کے میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے ترجمان اختشام نے بتایا کہ یونیورسٹی نے ’پی ایم ڈی سی کے نوٹس پر عمل کیا ہے۔‘

دوسری جانب اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔‘

جن افغان طلبہ کو افغانستان جانے کا کہا گیا ہے، ان میں ایم بی بی ایس کے پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے اور فائنل ایئر کے طلبہ اور طالبات شامل ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر، بعض سیاست دانوں اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی حکومت سے یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حالیہ عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر سنہ 2023 میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو اُن کے ملک بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد سے 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں ان میں دو لاکھ ایسے ہیں جنھیں ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ باقی رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس گئے ہیں۔

Afghan Medical Students in Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’والدین کو مجھ سے اُمیدیں تھیں کہ یہ ڈاکٹر بن کر ہمارا نام روشن کرے گی۔ لیکن اب یہ اُمید ٹوٹ رہی ہے‘ (فائل فوٹو)

’افغانستان میں سب گھر والے پریشان ہیں‘

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغان طالبہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس فیصلے کے بعد اُنھیں اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے اور افغانستان میں مقیم اُن کے گھر والے بھی کافی پریشان ہیں۔

انھوں کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان میں تو لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع پہلے ہی نہیں ہیں، ایسے میں والدین کو مجھ سے اُمیدیں تھیں کہ یہ ڈاکٹر بن کر ہمارا نام روشن کرے گی۔ لیکن اب یہ اُمید ٹوٹ رہی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ منگل (آٹھ ستمبر) کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم افغان طلبہ یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس گئے تھے اور درخواست کی تھی انھیں ابھی این او سی نہ جاری کیے جائیں۔

افغان طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو اگر افغان طلبہ سے متعلق کوئی پالیسی بنانی ہے تو اس کا اطلاق نئے طلبہ پر ہونا چاہیے، جو یہاں پڑھ رہے ہیں کم از کم اُنھیں تو پڑھائی مکمل کرنے دیں۔

’میری آدھی تعلیم مکمل ہو چکی ہے۔ پڑھائی کے دوران کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا خوف تھا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ کچھ طلبہ کے تو جنوری میں فائنل ایئر کے امتحان بھی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔ وہاں افغانستان میں سب گھر والے پریشان ہیں۔ میری بہن بھی پاکستان میں میڈیکل کی طلیہ ہیں، اُنھیں بھی ہاسٹل چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔‘

Afghan students in Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میں اور میرا سارا خاندان پاکستان کے احسان مند تھے‘

زہرہ سادات افغانستان میں ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھیں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا اور خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ انھیں اپنی میڈیکل تعلیم چھوڑ کر گھر بیٹھنا پڑا۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے والدین نے ان کی تعلیم سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

’میرے تمام خواب ٹوٹ گئے تھے۔ میں بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ ہم سات بہن بھائی ہیں اور میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔‘ زہرہ کے مطابق چار سال تک گھر میں رہنے کے بعد انھیں علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملا اور ان کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں ہوا۔ ’یہ ایسے تھا جیسے ٹوٹے ہوئے خواب دوبارہ جاگ جائیں۔ مجھے لگا کہ اب میں دوبارہ ڈاکٹر بن سکتی ہوں۔ میں اور میرا سارا خاندان پاکستان کے احسان مند تھے۔ ہمیں لگا کہ اب میری زندگی دوبارہ بن رہی ہے۔‘

لیکن اب انھیں ایک بار پھر خدشہ ہے کہ انھیں پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ ’مجھے ایک مرتبہ پھر کہا جا رہا ہے کہ میں ڈاکٹر نہیں بن سکتی۔‘

مریم نورزئی راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں ہیں۔ ان کے والدین اور بہن بھائی افغانستان واپس جا چکے ہیں جبکہ وہ اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔ مریم دس بہن بھائیوں میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کافی عرصے سے وہ اپنے والدین سے ملنے افغانستان نہیں جا سکیں۔

ان کے مطابق انھیں غیر سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ ان کے کالج میں بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی طرح PMDC کے نوٹس پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات آ سکتی ہیں۔ ’ہمیں کہا گیا ہے کہ شاید یہاں بھی نوٹس آنے والا ہے۔ جب یہ بات سنی تو میں بہت پریشان ہو گئی۔‘

’آپ چار سال پڑھتے ہیں، محنت کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، اپنی زندگی کے اتنے سال اس تعلیم کو دیتے ہیں اور پھر ایک دن کہا جاتا ہے کہ واپس چلے جائیں۔ یہ بہت مشکل ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔ ’میرے والدین رو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈگری کیسے چھوڑ سکتی ہو؟‘

سحر گل احمدی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر کی طالبہ ہیں۔ ان کا داخلہ بھی علامہ اقبال سکالر شپ کے تحت ہوا تھا۔ اب وہ ایم بی بی ایس کے آخری سال میں ہیں اور ان کے لیے یہ خبر خاص طور پر پریشان کن ہے کہ شاید وہ اپنی ڈگری مکمل نہ کر سکیں۔ ’افغانستان میں خاتون ڈاکٹر بننے کا خواب پہلے ہی ہم سے چھین لیا گیا تھا۔ پاکستان نے ہمیں وہ خواب دوبارہ دیکھنے کا موقع دیا۔‘

’ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘

لاہور کے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں فائنل ایئر کے افغان طالبِ عالم پیر کو کلاس میں تھے، جب اُنھیں پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ اس طالبِ علم کی شناخت بھی مخفی رکھی جا رہی ہے۔

اُن کے مطابق علامہ اقبال میڈیکل کالج میں 10 افغان طلبہ فائنل ایئر میں ہیں اور اس فیصلے کے بعد انھیں اب اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔

’ہمارے لیے یہ دھچکہ تھا۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے اور ہمیں واپس جانے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ طلبہ کی درخواست کے باوجود کالج انتظامیہ اپنے موقف پر قائم ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین روز کے اندر پی ایم ڈی سی کو عمل درآمد رپورٹ پیش کرنی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغان طلبہ آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بھی گئے تھے، لیکن وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

افغان طالبِ علم کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے ایک طرح سے ہمیں یقین دہاںی کروائی تھی کہ تعلیم مکمل کر کے اپنے وطن واپس جائیں، لیکن اس طرح نوٹیفکیشن جاری کر کے ’ہمیں بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

افغان طالبِ علم کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں تو ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی بہت کمی ہے اور اب ان سینکڑوں افغان طلبہ کو تعلیم مکمل کیے بغیر واپس بھیجا گیا تو یہ وہاں جا کر کیا کریں گے۔

’ہم تو یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تو مرد ہیں، لیکن جو خواتین ہیں، اُن کے لیے تو افغانستان میں تعلیم کے مواقع بالکل بھی نہیں ہیں۔ وہ وہاں جا کر کیا کریں گی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی ورنہ ہمارے مجبوراً عدالت سے رُجوع کرنا پڑے گا۔

افغان طالبِ علم نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے پنجاب کے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم لگ بھگ 400 افغان طلبہ متاثر ہوں گے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہPMDC

’یہ قومی مفاد کا حساس معاملہ ہے‘

ترجمان پی ایم ڈی سی نے تصدیق کی ہے کہ یہ حکم نامہ پاکستان کی تمام سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیز کو لکھا گیا ہے، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی ان کی درست تعداد کا تعین ہو سکے گا۔

بی بی سی کی جانب سے طلبہ کو پیش آنے والی مشکلات اور اس فیصلے پر ہونے والی تنقید پر پی ایم ڈی سی کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ قومی مفاد کا ایک حساس معاملہ ہے، اور اس سلسلے میں تمام فیصلے رائج پالیسی کے مطابق کیے جائیں گے۔‘

خیال رہے کہ پی ایم ڈی سی پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی نگرانی کرنے والے ریگولیٹری ادارہ ہے۔

’تعلیم کو سیاسی اختلاف سے دُور رکھا جائے‘

اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنھوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلات کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انھیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے۔

ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے حق کا پاس رکھے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کی شکایات عام ہیں

افغان طلبہ کے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلے کا طریقہ کار کیا ہے؟

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبید اللہ وردگ نے سنہ 2016 میں علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی تھی۔ وہ اِن دنوں لندن میں مقیم ہیں۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ افغان باشندوں کے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے دو طریقے ہیں۔

اُن کے بقول ایک تو وہ افغان شہری ہیں جن کی پیدائش ہی پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ہوئی تھی اور ایسے افغان طلبہ کمشنریٹ کے ذریعے میڈیکل کالجز میں داخلہ لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہ افغان طلبہ ہیں جو اپنی زندگیوں میں کبھی افغانستان نہیں گئے اور اُن کی پیدائش، پرورش اور تعلیم سب پاکستان میں ہی ہوئی ہے۔

عبید اللہ وردگ کے بقول دوسرے وہ طلبہ ہیں جو افغانستان میں انتہائی مشکل امتحان پاس کر کے وہاں پاکستانی قونصلیٹ کی طرف سے سکالر شپ حاصل کرتے ہیں، جسے علامہ اقبال سکالر شپ کہا جاتا ہے۔

اُن کے بقول میرٹ پر سب سے اُوپر آنے والے افغان طلبہ کو کنگ ایڈورڈ، علامہ اقبال اور اس طرح دیگر یونیورسٹیز میں داخلہ دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بچے پاکستان کے سافٹ امیج کے سفیر بنتے ہیں، لیکن اب اگر وہ واپس جائیں گے تو پھر پاکستان کا کیا تاثر پیش کریں گے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جائیں گے تو پھر ایسا ہی لگے گا کہ یہ دونوں ممالک جنگ و جدل کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

Pakistan Afghanistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر بھی ان افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان نے ایکس پر لکھا کہ وہ پی ایم ڈی سی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر انسانی بنیادوں اور دونوں ممالک کے عوام کے مابین تہذیبی تعلقات کے پیشِ نظر نظرِ ثانی کرے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک زیادہ انسانی اور عملی طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ طلبہ کو اپنی متعلقہ ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور تعلیم کی تکمیل کے فوراً بعد ان کی افغانستان واپسی کا انتظام کیا جائے۔‘

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے جن افغان طلبہ کو نکالنے کا کہا جا رہا ہے، ان میں سے سات آخری سال کے طلبہ ہیں۔ ’یہ کتنی ظالمانہ بات ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ یا برطانیہ کی کسی بڑی یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا تو ہمارا ردِعمل کیا ہوتا؟ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ افغان حکومت کی پالیسیوں کی پاداش میں طلبہ کو سزا نہیں دی جا سکتی۔‘

سابق رُکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایکس پر لکھا کہ ’افغان طلبہ، بالخصوص طالبات، افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔ لہذا یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے۔‘