’بلوٹوتھ‘: ایک ہزار سال پرانے وائکنگ بادشاہ جن کے نام پر دورِ جدید کی ٹیکنالوجی کا نام رکھا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لنڈزی گیلووے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
اگر آپ نے کبھی اپنے فون کو ہیڈ فونز یا لیپ ٹاپ سے بغیر تار کے کنیکٹ کیا ہے تو آپ بلوٹوتھ کے نام سے ضرور واقف ہوں گے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا نام ایک ایسے وائیکنگ بادشاہ سے لیا گیا ہے جو ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے دنیا سے گزر چکے تھے۔
اس بادشاہ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔
جیلنگ میں موجود دو اونچے قدیم پتھر اس بادشاہ کے دورِ حکومت کی کہانی سناتے ہیں۔ یہی پتھر اس راز کا پہلا سراغ بھی دیتے ہیں کہ اس کا منفرد لقب دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز میں سے ایک یعنی بلوٹوتھ کے نام سے کیسے جڑ گیا۔
بلوٹوتھ کہلانے والا وائیکنگ بادشاہ
دسویں صدی میں ڈنمارک پر حکمرانی کرنے والے اس بادشاہ کا نام ہیرالڈ گورمسن تھا تاہم ان کا لقب بلوٹوتھ تھا، جسے قدیم نورس زبان میں بلاتون (Blátǫnn) کہا جاتا تھا۔
یہ لقب ان کی وفات کے 150 سال بعد پہلی بار تحریری طور پر درج کیا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی نیلے یا گلے سڑے ہوئے دانت کی طرف اشارہ تھا۔
ہیرالڈ کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ڈنمارک کا مسیحی مذہب کو قبول کرنا تھا جو غالباً 965 کے آس پاس کی بات ہے۔
ہیرالڈ کے نصب کروائے گئے جیلنگ کے دو اونچے نصب پتھروں میں سے بڑے پتھر پر لکھا ہے کہ انھوں نے ’پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کیا اور ڈنمارک کے لوگوں کو عیسائی بنایا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پتھر پر سکینڈینیویا زبان میں حضرت عیسیٰؑ کی ابتدائی ترین تصاویر میں سے ایک بھی نقش ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
اس وقت تک شمالی یورپ کا بڑا حصہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، جن پر مقامی سردار حکومت کرتے تھے۔
مسیحیت نے ہیرالڈ کو اپنی حکومت مضبوط کرنے، عیسائی یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور ڈنمارک کو ایک ریاست کے طور پر متحد کرنے میں مدد دی۔
کونگیرنس جیلنگ ایکسپیریئنس سینٹر اینڈ میوزیم کے نگران ایڈم باک کہتے ہیں کہ ’یہ وائیکنگ دور کے تقریباً 200 سال بعد ڈنمارک کے ایک متحد ریاست کے طور پر ابھرنے کا مرحلہ تھا، جس میں شمالی باشندوں نے بہت کچھ سیکھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ یورپ میں سیاست کی مختلف شکلوں، مسیحیت کے ممکنہ فوائد اور ایک ریاست میں طاقت کے ارتکاز کو اچھی طرح سمجھنے لگے تھے۔‘
جیلنگ کیوں اہم ہے؟
ہیرالڈ کی کہانی جیلنگ کے منظرنامے میں رقم ہے۔ ان کے والد گورم نے قصبے کے دو قدیمی اونچے پتھروں میں سے چھوٹا پتھر اپنی اہلیہ تھیرا کی یاد میں نصب کروایا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پر ملک کے اندر پہلی بار ’ڈنمارک‘ کا نام تحریری شکل میں درج کیا گیا۔
قریب واقع شہر ویلے کی رہائشی اینے ہاوگارڈ میکلسن کہتی ہیں کہ ’ہم اسے ڈنمارک کا پیدائشی سرٹیفکیٹ کہتے ہیں۔‘ اس لحاظ سے جیلنگ کو ڈنمارک کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ آج یہاں صرف 4,000 افراد رہتے ہیں، لیکن ہیرالڈ بلیوٹوتھ کے دور میں یہ اقتدار کا مرکز تھا۔ جیلنگ ابتدا میں بت پرستوں کا تدفینی مقام تھا، مگر ہیرالڈ کے دورِ حکومت میں یہ ایسی جگہ بن گیا جہاں دونوں روایات ایک دوسرے سے ملتی جلتی نظر آنے لگیں۔
وائیکنگ بادشاہ سے بلوٹوتھ تک

،تصویر کا ذریعہLindsey Galloway
آج جیلنگ کی یادگاروں کے گرد موجود قدیم باڑ کی جگہ سفید ستون نصب ہیں، جبکہ زمین پر موجود سینکڑوں نشانات ایک بہت بڑی کشتی نما منظر پیش کرتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر تھیرا( قدیم ڈنمارک کی ملکہ) کی یاد میں بنائی گئی تھی۔ اس مقام پر موجود دو تدفینی ٹیلے اور ایک چرچ اس تاریخی منظر کو مکمل کرتے ہیں۔
ایڈم باک کے مطابق جیلنگ کی یہ یادگاریں صرف بہادر وائیکنگ جنگجوؤں یا تھور اور اوڈن جیسے دیوتاؤں کی کہانی نہیں سناتیں، بلکہ یہ سیاست، تبدیلی اور ایک پرانے نظام سے نئے نظام کی طرف منتقلی کی داستان بھی بیان کرتی ہیں۔
1994 میں جیلنگ کے ٹیلوں، رون پتھروں اور چرچ کو ڈنمارک کے پہلے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔
قریبی کونگیرنس جیلنگ وزیٹر سینٹر میں موجود انٹرایکٹو نمائشیں وائیکنگ عقائد سے عیسائیت تک کے سفر کو اجاگر کرتی ہیں جبکہ دونوں تاریخی نوعیت کے اونچے پتھر(جنھیں ڈنمارک کا ’بپتسمہ پتھر‘ اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کہا جاتا ہے) شیشے کے حفاظتی حصار میں محفوظ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLindsey Galloway
اس کا منفرد لوگو بھی اس کی مقبولیت کے سفر میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پہچانا جانے والا یہ نشان قدیم نورس رسم الخط کے حروف ’ایچ اور بی‘ کو ملا کر بنایا گیا ہے، جو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
2023 میں اس ٹیکنالوجی کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر کارداچ اور اس کے دیگر بانی جیلنگ آئے، جہاں انھوں نے ہیرالڈ کا نام اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی۔
جواب میں میوزیم نے یہ معذرت قبول کرتے ہوئے انھیں اگلے ایک ہزار برس تک یہ نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
ایڈم باک کہتے ہیں کہ ’ہیرالڈ کو اپنی کامیابیوں کا بہت فخر تھا۔ میرے خیال میں وہ یہ جان کر بے حد خوش ہوتے کہ آج دنیا بھر میں اربوں لوگ ہر روز ان کا نام استعمال کرتے ہیں۔‘



















