’بہنوئی کے قتل سے پہلے معافی اور بکرے کے خون کی بوتل‘: ممبئی انڈر ورلڈ کے بدنام ’شوٹرز‘ کی کہانی

چھوٹا شکیل (بائیں) اور چھوٹا راجن (دائیں)

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنچھوٹا شکیل (بائیں) اور چھوٹا راجن (دائیں)
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

یہ ایک مشہور کہانی ہے کہ مافیا ڈان داؤد ابراہیم کے معتمد ساتھی ’چھوٹا‘ شکیل نے ایک بار صادق کالیا سے کہا تھا کہ ’اپنے بہنوئی کو مارو، پھر میں سمجھوں گا کہ تم میں کچھ خاص ہے۔‘

صادق یہ بات سُن کر چونکا، اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا، اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا اور اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

صادق اپنی بہن سے بہت پیار کرتا تھا اور اُس کے شوہر کا نام ذوالفقار تھا۔ صادق نے میز پر رکھے گلاس سے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور شکیل سے کہا کہ ’کام ہو جائے گا۔‘

لیکن چھوٹا شکیل صادق کی وفاداری کو اچھی طرح جانچنا چاہتا تھا اور اسے کوئی رعایت نہیں دینا چاہتا تھا چنانچہ صادق سے کہا گیا کہ وہ اپنے بہنوئی ذوالفقار کو مارنے کے فوری بعد چھوٹا شکیل کو فون کرے۔

ایس حسین زیدی اپنی کتاب ’دی ڈینجرس ڈرن: ہٹ مین آف دی ممبئی انڈر ورلڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’شکیل نے صادق سے یہ بھی کہا، میں نہیں چاہتا کہ تم اس کام کے لیے پستول استعمال کرو۔‘

یہ وقت وہ تھا جب صادق نے ارون گاولی کے گینگ کو چھوڑا تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر چھوٹا شکیل کا اعتماد جیتنا چاہتا تھا، چاہے اس کا مطلب اپنی بہن کو بیوہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔

پھر ایک دن صادق نے اپنے بہنوئی ذوالفقار کو ایک ہاتھ سے گلے لگایا اور یہ کہتے ہوئے کہ ’بھائی مجھے معاف کر دینا‘، دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر پر چاقو کے پانچ وار کر دیے۔

یہ کام کر لینے کے بعد صادق نے ایک آخری نظر اپنی بہن کے گھر پر ڈالی اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر چل دیا۔

یہ کارروائی کرنے کے بعد صادق نے شکیل کو فون کیا اور بتایا کہ ’کام ہو گیا ہے۔‘

چھوٹا شکیل یہ سُن کر دنگ رہ گیا کیونکہ وہ توقع کر رہا تھا کہ صادق اسے فون کرے گا اور بتائے گا کہ یہ کام وہ کیوں نہیں ہو سکتا۔

یہی وہ دن تھا جب صادق جلاور ’صادق کالیا‘ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اسی واقعے کے بعد چھوٹا شکیل نے اسے دبئی آنے کی دعوت دی۔

’صادق کالیا کو پھول بازار میں گھیر لیا گیا‘

The Dangerous Dozen book cover

،تصویر کا ذریعہSimon & Schuster

چھوٹا شکیل نے صادق کو ایک اور گینگسٹر سلیم چکنا سے ملوایا۔ چکنا ایک ماہر موٹر سائیکل سوار تھا۔ دونوں نے مل کر 1990 کی دہائی کے وسط میں ممبئی میں چھوٹا راجن گینگ کے لیے زندگی مشکل بنا دی تھی۔ ممبئی پولیس کا اندازہ ہے کہ ان دونوں نے شکیل کے کہنے پر20 سے زائد افراد کو قتل کیا۔

لیکن وہ چھوٹا شکیل کی طرف سے دیا گیا ایک کام پورا کرنے میں ناکام رہے: اپنے سابق ڈان ارون گاولی کا قتل۔ وہی ارون گاولی جس نے اس وقت سیاست میں قدم جمانے شروع کر دیے تھے۔

حسین زیدی لکھتے ہیں کہ ’صادق کو معلوم تھا کہ گاولی ایک جلسۂ عام سے خطاب کرنے کے لیے پونے سے ممبئی آنے والا ہے۔ وہ اس جلسے میں جانے والا تھا لیکن پھر گاولی کو اس منصوبے کا علم ہو گیا اور اس نے جلسہ ہی منسوخ کر دیا۔‘

صادق کالیا گھنٹوں انتظار کرتا رہا، لیکن گاولی وہاں آیا ہی نہیں۔

ارون گاولی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنارون گاولی 18 سال قید کاٹنے کے بعد گذشتہ سال جیل سے باہر آئے تھے

پولیس کے حلقوں میں صادق کو ’بھوت‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ غائب ہونے میں ماہر تھا اور دوسرا یہ کہ اس کی سیاہ رنگت اسے اندھیرے میں چھپنے میں مدد دیتی تھی۔

پولیس کالیا کو تو پکڑ نہیں سکی، لیکن وہ کسی طرح اس کا پیجر نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس نمبر کا استعمال کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے پہلے سلیم چکنا کو گرفتار کیا اور پھر اس کی مدد سے 12 دسمبر 1997 کو صادق کالیا کو دادر کے پھول بازار میں گھیر لیا۔

بعد ازاں سب انسپکٹر دیا نائک نے ایک انٹرویو میں 'مینز ورلڈ' کی منجولا سین کو بتایا کہ ’مجھے سب سے بڑی کامیابی اس وقت ملی جب میں نے چھوٹا شکیل کے بہترین شوٹرز میں سے ایک صادق کالیا کو مار ڈالا۔ ہم نے اسے دادر فلاور مارکیٹ میں گھیر لیا، اس نے مجھ پر چھ گولیاں چلائیں۔ میری بائیں ران میں گولی لگی لیکن ہم اسے مارنے میں کامیاب رہے۔‘

دیا نائک کو ممبئی پولیس کا انکاؤنٹر اسپیشلسٹ سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMen's World

،تصویر کا کیپشندیا نائک کو ممبئی پولیس کا انکاؤنٹر سپیشلسٹ سمجھا جاتا تھا

بگا ریڈی کا پسندیدہ مشروب

اب ایک اور کرائے کے قاتل وینکٹیش بگا ریڈی عرف بابا ریڈی کی بات کرتے ہیں۔

بابا ریڈی کو گرفتار کرنے اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بھی پولیس اس سے کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ پھر ایک کانسٹیبل باہر آیا اور اپنے افسر سے پوچھا کہ ’سر، وہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہم اسے اس کے پسندیدہ مشروب کی بوتل دیں تو وہ ہمارے سوالوں کا جواب دینا شروع کر دے گا۔‘

افسر نے غصے سے کہا کہ ’کیا تم پاگل ہو ہم اسے جیل میں شراب کیسے پلائیں گے؟‘

سپاہی کا جواب سن کر افسر ہکا بکا رہ گیا، ’جناب، وہ شراب نہیں بلکہ خون کی بوتل مانگ رہا ہے۔‘

جیسے ہی سپاہی اسے قریبی مذبح خانے سے بکرے کے خون کی بوتل لے کر آئے، اس نے ہر سوال کا جواب دینا شروع کیا۔

حسین زیدی لکھتے ہیں کہ ’حیدرآباد کے قریب مشیر آباد کے رہنے والے بگا نے نویں کلاس کے بعد اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ 28 سال کی عمر میں بگا ممبئی انڈر ورلڈ کی تاریخ کا سب سے پراسرار کردار تھا۔ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس نے صرف غیر ہندو افراد کو نشانہ بنایا۔‘

بگا ریڈی

،تصویر کا ذریعہRoli Books

،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کے شدید دشمن بگا ریڈی نے عشق میں مبتلا ہو کر شادی کے لیے مسلمان ہونے کی شرط مان لی

’1989 میں بگا ممبئی آیا اور ایک بار میں باؤنسر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے چھوٹا راجن گینگ کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔ چھوٹا راجن اس کی ایک ہی وقت میں درجن بھر لوگوں کی پٹائی کرنے کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔ جلد ہی اس نے بھاری رقم کے عوض لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔‘

اس وقت اسے اس کام کے لیے تیس سے پچاس ہزار روپے ملتے تھے۔

مگر پھر بگا ریڈی کو ایک عورت سے پیار ہو گیا۔

زیدی اس عشق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’بگا کو معلوم ہوا کہ اس عورت کا نام شہناز ہے اور وہ مسلمان ہے، اس نے شادی کی خواہش ظاہر کی تو شرط رکھی گئی کہ بگا کو شادی سے پہلے اسلام قبول کرنا پڑے گا۔‘

’مسلمانوں سے نفرت کرنے والا بگا اس خاتون کی محبت میں اتنا پاگل تھا کہ مسلمان ہونے پر راضی ہو گیا اور اس نے اپنا نام بدل کر عزیز ریڈی رکھ لیا۔ شادی کے بعد بگا ریڈی کے ظلم کی داستانیں کم سے کم ہوتی گئیں اور 26 جولائی 1998 کو ایک خفیہ اطلاع پر، ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے گرفتار کیا۔‘

بگا ریڈی کا خاتمہ

پولیس کمشنر بی پرساد راؤ

،تصویر کا ذریعہTelangana Police

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد کے اس وقت کے پولیس کمشنر بی پرساد راؤ نے بگا ریڈی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا

ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ جعلی پاسپورٹ پر ملائیشیا چلا گیا جہاں اس کی ملاقات چھوٹا راجن سے ہوئی۔ اس کے بعد وہ انڈونیشیا گیا، جہاں راجن نے اسے منشیات کی تیاری کے یونٹ کا انچارج بنا دیا۔

بگا دسمبر 2002 میں انڈیا واپس آیا۔ وہ اس بات سے آگاہ تھا کہ داؤد ابراہیم کے آدمی اسے مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس نے پہلے وارانسی کو اپنا اڈہ بنایا اور پھر حیدرآباد چلا گیا جہاں وہ جرائم پیشہ گروہوں کو غیرقانونی ہتھیار فراہم کرنے لگا۔ بگا کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ اغوا کے بعد تاوان بذریعہ چیک وصول کرتا تھا۔

مئی 2008 میں، پولیس کو اطلاع ملی کہ بگا جوبلی ہلز پر پہنچ رہا ہے۔ اس کی آمد سے قبل ٹاسک فورس کے کمانڈوز نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ سڑکوں پر ٹریفک روک دی گئی اور کسی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جب بگا ایک کار میں پہنچا تو پولیس نے کار کو گھیر لیا۔

بعد ازاں حیدرآباد کے پولیس کمشنر بی پرساد راؤ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوا کہ بگا اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جوبلی ہلز پر بھتہ لینے جا رہا تھا۔ ہم نے دو گھنٹے تک علاقے کی تلاشی لی۔ 11:15 بجے، ہم نے بی این ریڈی نگر کی طرف جانے والی سڑک نمبر 46 پر ان کی کار کو روکا۔‘

’جب پولیس ٹیم قریب پہنچی تو ان افراد نے بھاگنے کی کوشش کی۔ جب پولیس نے انھیں ہتھیار ڈالنے کو کہا تو ریڈی نے نائن ایم ایم پستول نکالا اور گولی چلا دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔ ریڈی مارا گیا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

جب ڈی سی پی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

25 اگست 1994 کو صبح تقریباً 10 بجے باندرہ کی مصروف ہل روڈ پر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے ایک سفید ایمبیسیڈر کار نکلی۔ اچانک، دو آدمی کہیں سے نمودار ہوئے اور کار پر AK-56 رائفلوں سے گولیاں برسا دیں۔

اگلی سیٹ پر بیٹھے ایک پولیس گارڈ نے اپنی سٹین گن سے جوابی فائرنگ کی لیکن حملہ آوروں نے اسے بھی نشانہ بنا لیا۔

پچھلی سیٹ پر بیٹھے بی جے پی کے رہنما رام داس نائک کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ ممبئی کی پوری پولیس فورس قاتل کی تلاش میں لگی ہوئی تھی کہ اسی وقت ممبئی پولیس کے ڈی سی پی راکیش ماریا کو ایک فون آیا۔

راکیش ماریا اپنی سوانح عمری 'Let Me Say It Now' میں لکھتے ہیں کہ فون کرنے والے نے مجھ سے پوچھا ’سر، کیا آپ رام داس نائک قتل کیس کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں؟ میں نے فوراً کہا، ’ہاں‘، اُس نے کہا ’اس کے لیے آپ کو مجھ سے ملنے باہر آنا پڑے گا۔‘ میں نے پوچھا کہاں؟ اس نے کہا کہ میں تمہیں لینے کے لیے گاڑی بھیجوں گا، اس شخص نے کہا کہ ٹھیک دو بجے میرے دفتر کے سامنے ایک سفید رنگ کی ماروتی وین آکر رکی، جس کی نمبر پلیٹ پر مٹی لگی ہوئی تھی۔‘

ماریا لکھتے ہیں کہ ’جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا، اندر موجود لوگوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ 15 منٹ چلنے کے بعد گاڑی ایک جگہ رکی۔ میں ایک ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے وہ آواز سنی جس نے مجھ سے فون پر دوبارہ بات کی تھی۔‘

’مجھے بتایا گیا کہ ’سر، میں آپ کو اس طرح یہاں لانے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔‘ میں نے کہا کہ ’اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تم کیا جانتے ہو؟‘ اُس نے کہا کہ ’کیا تم نے فیروز کونکنی کا نام سنا ہے؟‘ میں نے کہا نہیں وہ کون ہے؟ اس نے کہا ’وہ ایک جوان، بہادر لڑکا ہے، اس نے یہ قتل کیا ہے۔‘ اس کے بعد گاڑی نے مجھے اسی جگہ اتار دیا جہاں سے اس نے مجھے اٹھایا گیا تھا۔‘

राकेश मारिया की किताब, लेट में से इट नाओ, का कवर

،تصویر کا ذریعہWestland

فیروز کونکنی کی گرفتاری

19 اکتوبر 1994 کو ماریا کو اسی شخص کا فون آیا۔ اس نے پوچھا کیا تم فیروز کونکنی کو پکڑنا چاہتے ہو؟ ماریا نے جواب دیا، بالکل۔ اس نے وضاحت کی کہ ’وہ فی الحال بنگلور میں ہے۔ اسے پکڑنے کے لیے آپ کو خود وہاں جانا پڑے گا۔‘

لیکن ماریا کے سینیئر افسران نے انھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تاہم ان کی ٹیم وہاں گئی۔

اس آدمی نے ماریا کو بتایا کہ کونکنی اس دن فلم دیکھنے جا رہا ہے، اسے وہاں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ جب سب تیاری ہو گئی تو ماریا کو دوبارہ فون آیا اور بتایا گیا کہ کونکنی نے فلم دیکھنے کے لیے جانے کا ارادہ بدل لیا ہے۔ اب وہ ہوٹل میں ٹھہرے گا اور اپنے دوستوں کے ساتھ بیئر پیے گا۔‘

راکیش ماریا لکھتے ہیں کہ ’ہوٹل کا نام ’بلیو ڈائمنڈ‘ تھا اور فیروز کمرہ نمبر 206 میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ہم نے ہوٹل کے مینیجر کو اعتماد میں لیا، 7:30 بجے، روم سروس کو کمرہ نمبر 206 سے چکن کا آرڈر ملا، ٹیم نے کھانا ٹرالی میں لے کر کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ سب انسپکٹر وارپے کو ویٹر بنایا گیا جس نے اپنا ریوالور ٹرالی میں چھپا لیا۔ ٹرالی جب کمرے کے اندر پہنچی تو وارپے نے پلیٹ نکالنے کے بہانے جھک کر ریوالور نکالا اور فیروز کونکنی پر تان لیا۔ اسی اثنا میں ہمارے دوسرے ساتھی بھی کمرے میں داخل ہوئے اور کونکنی کو گرفتار کر لیا گیا۔‘

کونکنی کو ہوائی جہاز کے ذریعے ممبئی لایا گیا جہاں اس21 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ چار سال بعد چھ مئی 1998 کو فیروز کونکنی ممبئی پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ نیپال کی سرحد عبور کر کے دبئی پہنچ گیا اور بعد میں انکشاف ہوا کہ اسے داؤد ابراہیم کے لوگوں نے سنہ 2003 میں قتل کر دیا تھا۔

حسین زیدی کا خیال ہے کہ کسی نے ایک گفتگو ٹیپ کی تھی جس میں وہ داؤد کے بھائی انیس ابراہیم کو گالی دے رہا تھا۔ یہ غلطی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

راکیش ماریا نے لکھا کہ ’کونکنی کو انڈر ورلڈ میں ’ڈارلنگ‘ کہا جاتا تھا۔ جیل گارڈ نے مجھے ان کے بارے میں ایک عجیب بات بتائی جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جیل میں جب اس کی کوٹھڑی میں چیونٹیاں آتیں تو وہ انھیں پکڑ کر ایک ایک کر کے ان کی ٹانگیں توڑ دیتا اور پھر ان کے بغیر ٹانگوں کے جسم کو زمین پر لڑھکتے ہوئے دیکھتا رہتا۔‘

ممبئی کے انڈر ورلڈ شوٹر فیروز کونکانی

،تصویر کا ذریعہRoli Books

،تصویر کا کیپشنممبئی کے انڈر ورلڈ شوٹر فیروز کونکانی

حسین شیخ ’اُسترا‘ کی کہانی

اسی طرح کی ایک کہانی محمد حسین شیخ کی ہے جو ’اُسترا‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اُسترا کو داؤد ابراہیم کے ساتھی چھوٹا شکیل سے نفرت تھی۔ اگرچہ وہ بندوق چلانے کا ماہر تھا لیکن اس نے اُسترے کے استعمال کی وجہ سے یہ عرفیت پائی تھی۔

پولیس اس کے پیچھے نہیں گئی کیونکہ وہ پولیس کو انڈر ورلڈ کی خبریں بھی فراہم کرتا تھا یعنی مخبر تھا۔

حسین زیدی لکھتے ہیں کہ ’اُسترا نے مجھے اپنی آستین میں چھپا ہوا ایک بلیڈ دکھایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ایک پستول جوڑ سکتا ہے۔ اس کا پسندیدہ ہتھیار 1914 کا موزر تھا۔ اُسترا کا قریبی حلقہ چھ افراد پر مشتمل تھا جن میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی جسمانی خرابی تھی۔‘

’کسی کی دونوں آنکھوں کا رنگ الگ تھا تو کسی کا اضافی عضو تھا اور ایک شخص کا ایک کان دوسرے سے بڑا تھا۔ اُسترا کا خیال تھا کہ جسمانی معذوری والے لوگ وہ کام کرنے میں زیادہ ماہر تھے جو وہ کیا کرتا تھا۔‘

عورتیں اُسترا کی کمزوری تھیں۔ شادی شدہ اور کئی بچے ہونے کے باوجود اُس کے متعدد خواتین سے تعلقات تھے۔ یہ بات داؤد ابراہیم کے علم میں آئی تو اس نے محمد حسین استرا کی زندگی میں ایک عورت کو شامل کروایا۔

حسین زیدی لکھتے ہیں کہ ’ایک بار اس خاتون نے اُسترا سے محافظوں کے بغیر اکیلے ملنے کی درخواست کی۔ اُسترا مان گیا اور پھر 1998 میں ایک صبح استرا خاتون سے ملنے کے بعد باہر نکلا تو چھوٹا شکیل کے بھیجے ہوئے چھ آدمیوں نے اسے گھیر لیا۔‘

تین سیکنڈ کے اندر، پستول جوڑنے والا اُسترا کو گھیر کر مار دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسے کل 27 گولیاں لگیں۔

’وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے بہت سے لوگوں کی قبریں کھودی ہیں، ایک دن کوئی میرا ’گڑھا‘ بھی کھودے گا اور اس کی بات سچ ثابت ہوئی۔‘