خطرہ بھی ہے اور موقع بھی: دو جنگ بندیاں امریکہ ایران مذاکرات کو کیسے آگے بڑھا سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, پال ایڈمز
- عہدہ, نامہ نگار برائے سفارتی امور
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے ایک نہیں، بلکہ دو معاہدے ہوئے ہیں۔ کیا اب کسی تاریخ ساز پیشرفت کے لیے حالات سازگار ہو گئے ہیں؟
اگرچہ ایران اور لبنان میں جنگ بندی کے معاہدوں کو ’کمزور‘ قرار دیا جا رہا ہے، اس کے باوجود ان معاہدوں سے جنگ کا شور مدھم پڑ رہا ہے۔ تاہم، اب بھی یہ لمحہ مواقع اور خطرات سے بھرپور ہے۔
جمعرات کی رات اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں 10 دن کے وقفے کا اعلان، بظاہر ایران کے لیے ایک کامیابی ہے۔
تہران کی حکومت نے لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس کے بغیر آگے نہیں بڑھائے جا سکتے۔
اب لبنان میں جنگ بند ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
جیسا کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکراتی اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے، لبنان میں لڑائی جاری ہونے کے باوجود پیشرفت ممکن تھی، (اسرائیل صرف بیروت پر مزید حملوں سے گریز کر رہا تھا)، تاہم ایران اور پاکستان دونوں نے اصرار کیا کہ لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔
اب ایسا ہو چکا ہے، جس پر شمالی سرحد کے قریب رہنے والے اسرائیلیوں کو شدید غصہ ہے۔ ان کے خیال میں، اس بات کو یقینی بنانے کے بجائے کہ حزب اللہ ان کے ملک پر دوبارہ راکٹ فائر نہ کرے، ان کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں۔
اسرائیل میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جنگ بندی ایران کے حق میں ہے، اس نے اسرائیل کے دشمن ملک کو واقعات کا رخ اپنی مرضی سے متعین کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دائیں بازو کے مشہور روزنامے، اسرائیل ہیوم کی شیرت اویتان کوہن نے لکھا: ’جنگ بندی سے وہ ہوا جس سے اسرائیل بچنا چاہ رہا تھا: لبنان میں جنگ کے محاذ اور ایران کے درمیان تعلق کو جائز قرار دے دیا گیا۔‘
انھوں نے لکھا: ’حزب اللہ کو بھی اس بات کی حتمی تصدیق مل گئی کہ حالات اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہیں اور وہی خطے میں ہونے والے واقعات کا تعین کر رہا ہے۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درحقیقت، اس تنازعے میں شامل تمام فریقوں کو اس تازہ معاہدے سے کچھ نہ کچھ حاصل ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کی قیادت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ جنگ بند کرانے کا سہرا اپنے سر باندھیں۔
نیتن یاہو یہ نکتہ پیش کر سکتے ہیں کہ اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں بدستور موجود ہیں، جبکہ لبنانی حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد، اب وہ اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔
جنگ بندی کی پاسداری سے انکار کا اعلان کرنے والی حزب اللہ یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ اسے شکست نہیں ہوئی اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسے غیر مسلح نہیں کیا جائے گا۔
حزب اللہ کے سینیئر رہنما وافق صفا نے جمعرات کے روز بی بی سی کو بتایا: ’جب تک حقیقی جنگ بندی نہ ہو، جب تک اسرائیل کا لبنان سے انخلا نہ ہو، قیدیوں کی واپسی، بے گھر افراد کی واپسی اور تعمیر نو سے پہلے تک، حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں بات کرنا ممکن نہیں۔‘
لندن میں قائم تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کی لینا خطیب کہتی ہیں کہ جنگ بندی اسرائیل اور لبنان کے درمیان بالمشافہ مذاکرات جاری رکھنے کا راستہ ہموار کرتی ہے، لیکن دونوں کے درمیان امن معاہدے میں رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، یہ سرحدوں کی حد بندی، حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے اور لبنان کے علاقوں سے اسرائیل کے انخلا سے متعلق ہے۔‘
تکنیکی طور پر اسرائیل اور لبنان سنہ 1948 سے جنگ کی حالت میں ہیں اور دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
لینا خطیب کے مطابق اس ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان براہ راست مذاکرات سے ایران کی لبنان پر گرفت کم ہونے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
لینا کے مطابق ’اب ایران سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر لبنان کو استعمال نہیں کر سکے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم اب بھی بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل میں کیا ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو واشنگٹن کی خواہش یہ ہو گی کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا وہ کردار کم کیا جائے جسے امریکہ اور اسرائیل نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
اسرائیل کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ حزب اللہ، حماس اور یمن میں حوثیوں کے لیے ایران کی حمایت محدود کی جائے۔ جبکہ ایران کے لیے یہ حمایت خطے میں اثر و رسوخ کا اہم ہتھیار ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہے گا۔
آگے درپیش سنگین اور کٹھن مسئلوں میں سے یہ تو صرف ایک ہے۔ جن دیگر معاملات پر مذاکرات میں زور دیا جائے گا وہ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا مستقبل ہیں۔
ٹرمپ ہمیشہ کی طرح یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حالات ان کے قابو میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’بہت قریب‘ پہنچ چکا ہے، صحافیوں کو انھوں نے بتایا کہ ایران پہلے ہی تقریباً 440 کلو گرام افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر راضی ہو چکا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ یورینیم گذشتہ سال اصفہان میں امریکی بمباری کے نتیجے میں ملبے تلے دب گیا تھا، صدر ٹرمپ اسے ’جوہری گرد‘ قرار دیتے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی کو بتا چکے ہیں کہ ’یورینیم امریکہ کو منتقل کرنے کی پیشکش نہیں کی گئی۔ ایران کا افزودہ یورینیم ہمارے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنی کہ ایران کی مٹی اور وہ کسی بھی صورت کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا۔‘
ایران سے یہ وعدہ بھی درکار ہو گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ وہ کب تک افزودگی معطل رکھنے پر آمادہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش ایران کے پاس موجود وہ ہتھیار ہے جو حالیہ تنازعے میں استعمال کیا گیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے نئے ضوابط چاہتا ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی اور عمان کی خود مختاری تسلیم کی جائے اور یہی دو ملک خلیج میں آنے اور جانے والے بحری جہازوں کو کنٹرول کریں۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ’جنگ بندی کے باقی عرصے کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے،‘ یعنی اگلے ہفتے تک۔
تاہم اس میں ایک شرط بھی شامل ہے: جہازوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ اُس راستے کو اختیار کریں جسے عراقچی کے بقول ایران کے بندرگاہوں اور بحری امور کے ادارے نے مقرر کر کھا ہے۔
یہ بات بظاہر اُن نئے راستوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ایرانی سر زمین کے کہیں زیادہ قریب، جنگ سے پہلے استعمال ہونے والی بحری ٹریفک کی دو علیحدہ لینز کے شمال میں واقع ہوں گے۔
یہ تاحال واضح نہیں کہ اس اقدام سے خلیج کے اندر پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی بھیڑ کتنی تیزی سے کم ہو سکے گی۔
ٹرمپ نے اپنے مخصوص پُر جوش اور دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمد و رفت کے لیے تیار ہے۔‘ تجارتی منڈیوں نے بظاہر اس بیان پر مثبت رد عمل بھی دیا ہے۔ تاہم جہازوں کے کپتان ممکنہ خدشات کے باعث اب بھی محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی فی الحال برقرار رہے گی۔
یہ تمام پیشرفت مثبت ہے، اس کے باوجود مذاکرات کاروں کو بہت سے معاملات پر بات کرنا ہو گی۔
ایران کے ساتھ آخری بڑا معاہدہ سنہ 2015 میں ہوا تھا۔ وہ معاہدہ طے پانے میں تقریباً 20 ماہ لگے تھے، اور وہ بھی صرف جوہری مسئلے تک محدود تھا۔ سنہ 2018 میں ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد یہ معاہدہ عملی طور پر بکھر کر رہ گیا۔
ٹرمپ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کرنا پسند کرتے ہیں جو بہت تیز رفتاری سے معاہدے کراتا ہے۔ شاذ و نادر ہی وہ پیچھے مڑ کر یہ دیکھتے ہیں کہ ان معاہدوں سے درحقیقت کوئی ٹھوس نتیجہ نکلا بھی یا نہیں۔
سنہ 2018 اور 2019 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ٹرمپ کی دو ملاقاتوں کا بھی بہت چرچا ہوا مگر حقیقت میں ان مذاکرات سے بہت کم حاصل ہو سکا۔ پیانگ یانگ آج بھی اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں گذشتہ چھ ہفتوں کے ہنگامہ خیز واقعات کے بعد، کسی نہ کسی نوعیت کا سفارتی عمل اب باقاعدہ طور پر آگے بڑھ چکا ہے، اور لبنان میں جنگ بندی کے بعد اسے مزید تقویت ملی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ بالآخر جنگ کو حتمی اور مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی ہو گا؟
اس کا جواب خود ٹرمپ کے پاس بھی نہیں۔
























