خیموں میں دوڑتے اور سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتے چوہے اور نیولے: غزہ کے لوگ نہ بھرنے والے زخموں سے بے حال

    • مصنف, پال کوسیاک، وسام ابو مرق، اور لینا شیخونی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

غزہ کے ناصر ہسپتال کے ایک مخصوص وارڈ میں چھ سالہ بچی رسیل شدید زخمی حالت میں بستر پر لیٹی رو رہی ہے۔

رسیل مسلسل تکلیف اور درد کی وجہ سے مُشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

اس کی دائیں ٹانگ بری طرح ٹوٹ چکی ہے، ٹانگوں اور ہاتھ پر گہرے زخموں میں انفیکشن ہے اور اس کے دماغ میں دھاتی ٹکڑا پیوست ہے۔

اسے اپنے زخم بند کرنے کے لیے فوری طور پر جلد کی پیوند کاری کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ عمل شروع ہونے سے پہلے اس کے زخموں کا بھرنا ضروری ہے اور غزہ میں دستیاب اینٹی بایوٹکس یعنی جراثیم کُش ادویات سے ان زخموں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

اس صورتِ حال میں ڈاکٹروں کے پاس اس کے زخم بار بار کھول کر صاف کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ وہ یہ عمل 20 سے زیادہ مرتبہ کر چکے ہیں۔

ہسپتال کے بستر پر رسیل کے والد محمود البلوی جھک کر اسے چومتے اور اسے پیار کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کو تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ’روؤ نہیں۔‘ لیکن ان کی اپنی آنکھوں میں بھی آنسو ہیں۔

رسیل 30 جولائی کو خان یونس کے قریب بے گھر فلسطینیوں کے لیے قائم المواسی کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ سو رہی تھیں کہ عینی شاہدین کے مطابق ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے فضائی حملے میں ان کا خیمہ نشانہ بن گیا۔

ان کی نو سالہ بہن رتیل اور 20 سالہ کزن ہلاک ہو گئے، جبکہ رسیل کی والدہ اور بھائی شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت اور مقام پر کسی فضائی حملے کا اس کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

رسیل کو اب ناصر ہسپتال میں دو ماہ ہو چکے ہیں، لیکن ان کے زخموں میں ایسی بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی ہے جو کئی اقسام کی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ ان کا علاج کرنے والے ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے ڈاکٹر عونی الجعفراوی نے یہ بات بتائی۔

اینٹی مائکروبیل مزاحمت (اے ایم آر) اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور جراثیم وقت کے ساتھ اپنی خصوصیات تبدیل کر لیتے ہیں اور ان ادویات کا اثر قبول نہیں کرتے جو انھیں ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ دنیا بھر کی آبادیوں کے لیے صحت کے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔

اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم سے ہونے والے انفیکشن کا علاج زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔ یہ سنگین بیماری، خون میں انفیکشن (سیپسس) اور حتیٰ کہ موت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر الجعفراوی کہتے ہیں کہ ’اس بچی کو ہسپتال میں زیادہ عرصہ رہنا پڑے گا اور اس دوران اسے مزید انفیکشن لاحق ہونے کا خدشہ ہے، جس سے اس کے زخموں کے بھرنے کا عمل مزید متاثر ہوگا۔‘

لیکن صرف رسیل کے زخم ہی ایسے نہیں جو اینٹی بایوٹکس کا اثر قبول نہیں کر رہے۔

ڈاکٹر الجعفراوی کا کہنا ہے کہ ’وہ غزہ کے ہسپتالوں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے انفیکشن کی شرح بہت زیادہ دیکھ رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت بہت سے مریضوں کے معاملے میں ہم انھیں مخصوص وارڈ میں رکھتے ہیں تاکہ انھیں دوسروں سے الگ رکھا جا سکے، کیونکہ ان کے جسم میں موجود بیکٹیریا طویل عرصے تک ہسپتال کو متاثر کر سکتے ہیں اور اس کے لیے خصوصی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔‘

غزہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر الجعفراوی جو صورتحال دیکھ رہے ہیں، اسے ایک نئی تحقیق بھی تقویت دیتی ہے، جسے بی بی سی ورلڈ سروس کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق غزہ میں اہم اینٹی بایوٹک ادویات کے خلاف بیکٹیریا میں مزاحمت بڑے پیمانے پر پائی جا رہی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ 2015 سے 2025 تک جاری رہنے والی اس 10 سالہ تحقیق میں 11 ہسپتالوں سے حاصل کیے گئے تقریباً 80 ہزار بیکٹیریائی نمونوں کا جائزہ لیا گیا، اور یہ غزہ میں اینٹی مائیکروبائیل مزاحمت (اے ایم آر) پر اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔

غزہ کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کو لندن کے امپیریل کالج کی فلیمنگ انیشی ایٹو اور امریکن یونیورسٹی آف بیروت کے ماہرین کی معاونت حاصل رہی۔ تاہم یہ تحقیق ابھی ’ہم مرتبہ جائزے‘ کے مرحلے سے نہیں گزری، اس لیے اس کے نتائج کو ابتدائی قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مصنفین کے مطابق غزہ میں موجودہ حالات انفیکشن کے پھیلاؤ کے لیے نہایت سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

امپیریل کالج لندن کی فلیمنگ انیشی ایٹو سے وابستہ ڈاکٹر اولا عبارہ کے مطابق، ’جنگ کے دوران پانی کی فراہمی اور صفائی کا نظام اکثر تباہ ہو جاتا ہے، جبکہ انفیکشن اور ادویات کے خلاف مزاحم بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ عوامل انتہائی اہم ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے مریضوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

’ایسے انفیکشن جو عام حالات میں قابل علاج ہوتے ہیں، زیادہ شدید اور بعض اوقات ناقابل علاج بن سکتے ہیں۔ شدید صورتوں میں یہ خون کے مہلک انفیکشن (سیپسس) اور حتیٰ کہ موت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔‘

غزہ میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے اس صورتحال کا ایک بڑا نتیجہ یہ ہے کہ جب انفیکشن ہڈیوں تک پہنچ جاتا ہے تو اعضا کاٹنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر الجعفراوی کا کہنا ہے، ’آنے والے برسوں میں اعضا کاٹے جانے کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوگا، چاہے جنگ ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ اکتوبر گذشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود وہ اب بھی ہر ہفتے اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کر رہے ہیں۔

غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1,421 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے وزارتِ صحت کے اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ’ہر ممکن حد تک اقدامات‘ کرتی ہے اور کسی بھی شہری نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

انفیکشنز کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ صاف پانی اور مناسب نکاسیٔ آب کی سہولیات تک ناکافی رسائی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے پانی اور صفائی سے متعلق تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو چکا ہے۔ اس میں سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس، پانی کی پائپ لائنیں اور سیوریج سسٹم شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جولائی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں 80 فیصد سے زیادہ خاندان پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 70 فیصد خاندان فی فرد روزانہ پینے اور کھانا پکانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی تجویز کردہ کم از کم چھ لیٹر پانی بھی حاصل نہیں کر پا رہے۔

دوسری جانب غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے انتظام کی ذمہ دار اسرائیلی ایجنسی ’کوگیٹ‘ اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہے۔ ادارے نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ کو فراہم کیا جانے والا پانی اقوامِ متحدہ کے مقرر کردہ انسانی ضروریات کے معیار سے زیادہ ہے۔

اگرچہ بعض علاقوں میں مقامی نلکے اب بھی موجود ہیں، لیکن غزہ کے بیشتر شہریوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے تقسیم کے مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

42 سالہ سالم ابو نحلہ بھی انھی افراد میں شامل ہیں جو روزانہ اپنی ضروریات کے لیے کافی پانی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

جنگ سے پہلے وہ ایک سپر مارکیٹ اور قصائی کی دکان کے مالک تھے، لیکن ان کا گھر بمباری میں تباہ ہو گیا۔ وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ چھ مرتبہ نقل مکانی کر چکے ہیں اور اس وقت المواصی کیمپ میں مقیم ہیں۔

سالم کو پانی لانے کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ان کے لیے یہ کام اس لیے مزید دشوار ہے کیونکہ انسانی امداد لے جانے والے ایک ٹرک کے حادثے میں ان کی کمر زخمی ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسیم کے مقامات پر اکثر جھگڑے اور تلخ کلامی دیکھنے میں آتی ہے، جہاں لوگ ٹینکر کے انتظار میں طویل قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔

بعض اوقات پانی کا ٹینکر آتا ہی نہیں۔

کیمپ واپس پہنچ کر سالم پانی ایک برتن میں انڈیلتے ہیں تاکہ ان کی اہلیہ برتن دھو سکیں۔

وہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں، ’بس اتنا کافی ہے۔ ہمارے پاس زیادہ پانی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے آج مزید پانی نہ ملے، اور ہمیں دوبارہ جا کر پانی لانا پڑے۔‘

غزہ میں نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی، صاف پانی کی شدید قلت اور صفائی کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانے کا عمل بھی تقریباً معطل ہو چکا ہے۔

اس کے نتیجے میں گھروں سے بے دخل ہونے والے فلسطینیوں کی گنجان خیمہ بستیوں کے اطراف کچرے کے ڈھیر، انسانی فضلہ اور آلودہ پانی کے جوہڑ جمع ہو گئے ہیں۔

یہ خیمہ بستیاں چوہوں اور نیولوں کی بڑی تعداد سے بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔ بعض اوقات یہ جانور اتنی کثرت سے نظر آتے ہیں کہ لوگوں کے رہائشی خیموں کے اندر اور اردگرد دوڑتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اپریل میں جاری ہونے والے ایک سروے میں، جسے غزہ کے متعدد کیمپوں کی نگرانی کرنے والے ’سائٹ مینجمنٹ کلسٹر‘ گروپ نے مرتب کیا اور جس کا حوالہ اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی دیا، بتایا گیا کہ بے گھر خاندانوں کے زیر استعمال 81 فیصد مقامات پر چوہے یا دیگر موذی جانور مسلسل دیکھے جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

متعدد ایسے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں چوہوں یا نیولوں نے سوتے ہوئے افراد کو کاٹ لیا۔ ایسے حملے نہ صرف انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات شدید جسمانی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

باسل الدحنون کو رات کے وقت سوتے ہوئے نیولوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کی دائیں ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹنا پڑی۔ ان کی 14 سالہ بیٹی رانا کے مطابق ایک رات وہ جاگی تو دیکھا کہ بستر پر خون پھیلا ہوا تھا اور ان کے والد بری طرح زخمی تھے۔

رانا فوراً اپنے والد کو ہسپتال لے گئی، لیکن طبی سامان اور ادویات کی کمی کے باعث ڈاکٹر نہ تو زخم کا مناسب علاج کر سکے اور نہ ہی اس کی درست پٹی کر سکے۔

غزہ بھر میں امدادی اداروں اور طبی عملے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بنیادی ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ بالآخر ڈاکٹروں کو باسل الدحنون کی ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹنا پڑی۔ رانا کو امید ہے کہ ان کے ساٹھ سال سے زائد عمر کے والد، جو دیگر صحت کے مسائل کا بھی شکار ہیں، دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں گے۔

رانا کہتی ہیں، ’ان شاء اللہ، اللہ انھیں شفا دے اور وہ صحت یاب ہو جائیں۔‘

دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی رابطہ ادارے کوگاٹ (سی او جی اے ٹی) کا کہنا ہے کہ وہ ادویات، بشمول اینٹی بایوٹکس، کو کسی پابندی کے بغیر غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

ناصر ہسپتال میں رسیل کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

انفیکشن اور جلد کی پیوندکاری (سکن گرافٹ) کی ضرورت کے علاوہ اسے کئی دیگر سنگین طبی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق فی الحال رسیل کے دماغ میں موجود شیل کے ٹکڑوں کو محفوظ طریقے سے نکالنا ممکن نہیں۔ وہ چلنے پھرنے سے بھی محروم ہو چکی ہے اور اسے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

طبی مسائل کے ساتھ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ رسیل جیسے بچے، جو شدید جسمانی زخموں اور اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ برداشت کر چکے ہیں، اپنی بالکل نئی حقیقتیں لیے زندگیوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ غزہ میں تقریباً تمام بچوں کو فوری ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر الجعفراوی کہتے ہیں، ’یہ صرف بچے کے زخمی ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک انسان کی پوری زندگی بدل جانے کا مسئلہ ہے۔‘

رسیل کے والد محمود البلو کے لیے سب سے اہم چیز اپنی بیٹی کی زندگی بچانا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’مجھے خوف ہے کہ اگر میری بیٹی غزہ میں رہی تو اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اگر وہ یہیں رہی تو ممکن ہے وہ زندہ نہ بچ سکے۔‘

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس وقت تقریباً 5,600 بچے ایسے ہیں جو علاج کے لیے غزہ سے باہر علاج کے لیے ’طبی‘ انخلا کے منتظر ہیں۔ غزہ سے باہر علاج کے لیے وزارتِ صحت کی جانب سے طبی سفارش، میزبان ملک کی منظوری اور اسرائیلی سکیورٹی کلیئرنس درکار ہوتی ہے۔

تاہم رسیل کے لیے ایک خوش آئند خبر بھی آئی۔

اسرائیلی حکام کی منظوری کے لیے کئی ہفتوں کے انتظار کے بعد، ستمبر کے اواخر میں رسیل اور اس کے والد کو مصر جانے کی اجازت مل گئی۔ عالمی ادارۂ صحت کی معاونت سے انھیں فوری علاج کے لیے مصر منتقل کیا گیا۔

ان کے والد کے مطابق رسیل کو قاہرہ کے باہر ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، تاہم وہ بہتر طبی سہولیات والے قاہرہ کے ایک بڑے ہسپتال میں منتقلی کی منتظر ہے۔

محمود البلو کو امید ہے کہ اب ان کی بیٹی کو وہ علاج مل سکے گا جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔ ناصر ہسپتال میں قیام کے دوران رسیل کی ایک کزن اس کے لیے ایک گڑیا لے کر آئی تھی۔ رسیل نے اس گڑیا کا نام اپنی بہن کی یاد میں ’رتیل‘ رکھ دیا۔