پہاڑی پتھر تلے دبے سکردو کے خاندان کی وائرل ویڈیو: لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں میں کیا احتیاط ضروری ہے؟

،تصویر کا ذریعہRescuee 1122
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں گذشتہ دو روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلگت، سکردو روڈ پر ایک شخص اپنے اہلخانہ سمیت ایک بڑے پہاڑی پتھر کے نیچے دبا ہوا ہے۔
پتھر تلے دبے شخص کا نامی محمد شفا ہے جو سکرود کے رہائشی ہیں۔
لینڈسلائیڈنگ کا یہ واقعہ دو روز قبل رات ڈھائی بجے پیش آیا تھا جس میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
محمد شفا کے ہمراہ گاڑی میں اُن کی اہلیہ، دو بیٹیاں، نواسہ اور دو دوست سفر کر رہے تھے۔ اس حادثے میں محمد شفا اور اُن کے دوست زندہ بچے ہیں جبکہ باقی افراد کی ہلاکت ہو گئی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد شفا کے زندہ بچ جانےو الے دوست محمد علی نے بتایا کہ گلگت پہنچنے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا جب اچانک بہت تیز بارش شروع ہو گئی۔
’ہم سات لوگ ایک ہی کار میں سوار تھے۔ اچانک اوپر سے سیلابی پانی اور پتھر آنا شروع ہو گئے اور ہمارے سامنے راستہ بند ہو گیا۔ ہم نے گاڑی واپس موڑی مگر اس وقت تک واپسی کا راستہ بھی بلاک ہو چکا تھا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ہم سب گاڑی سے باہر نکل آئے۔ ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ شدید بارش تھی، ایسی بارش میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ اوپر سے مسلسل پتھر گر رہے تھے اور پہاڑوں سے آنے والا سیلابی ریلہ بھی۔‘
محمد علی کے مطابق ان سب نے گاڑی سے باہر نکل کر بڑی چٹان کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
’ہم اذان دے رہے تھے، کلمہ پڑھ رہے تھے اور بچوں کو حوصلہ دیتے رہے۔ ایک گھنٹہ ہم سب چٹان کی آڑ میں پناہ لیے بیٹھے رہے۔ پھر بارش رُک گئی تو ہم کھڑے ہو گئے۔ ابھی ہم یہی بات کر رہے تھے کہ بارش رک گئی ہے اور ہمیں یہاں سے پیدل کسی طرف نکل جانا چاہیے کہ اتنے میں زوردار آوازیں آئیں اور پہاڑ سے دوبارہ بڑے پتھر نیچے آنے لگے۔ میں نے چیخ کر کہا ’یا اللہ۔ بھاگو‘۔ ہم سب نے دوڑ لگائی مگر محمد شفا اور ان کا خاندان ایک بڑے پتھر کے نیچے آ گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد علی نے بتایا کہ کچھ منٹ تک پتھر گرتے رہے۔ محمد شفا کی اہلیہ، ایک بیٹی اور نواسہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تاہم ان کی ایک بیٹی ابھی زندہ تھیں۔

،تصویر کا ذریعہRescuee 1122
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ بتاتے ہیں کہ ’جب پتھر رُکے تو ہم انہیں پتھر کے نیچے سے نکالنے کے لیے بھاگے۔ ان کی بیٹی کا آدھا جسم پتھر کے نیچے تھا جبکہ محمد شفا کی ایک ٹانگ دبی ہوئی تھی۔ ہم نے پتھر ہٹانے کی بہت کوشش کی مگر وہ بہت بڑا تھا۔ پھر ہمیں شفا نے کہا کہ تم سکردو یا گلگت کی طرف جاؤ اور ریسکیو اہلکاروں کو اطلاع دو یا کسی اور گاڑی سے مسافروں کو لاؤ جو پتھر ہٹا سکیں۔‘
محمد علی اور ان کے دوسرے ساتھی سکردو کی جانب روانہ ہوئے مگر راستے میں جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے وہ پھنستے رہے۔ ’ہمارا آدھا جسم دلدل میں پھنس جاتا تھا۔ دو کلومیٹر پیدل چلے مگر آٹھ، نو جگہوں پر روڈ ہی بند تھی اور کسی گاڑی یا آبادی کو نام و نشان نہیں تھا۔ اس لیے ہم واپس حادثے کی جگہ آئے۔ اس سب کے دوران صبح کے چار بج چکے تھے۔ محمد شفا اب بھی زندہ تھے مگر ان کی بیٹی ہلاک ہو چکی تھیں۔ ہم نے شفا کو ایک بار پھر نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔‘
محمد علی بتاتے ہیں کہ اس کے بعد وہ گلگت کی جانب پیدل روانہ ہوئے اور آدھے گھنٹے بعد ایک مقام پر انھیں موبائل نیٹ ورک ملا اور انہوں نے ریسکیو اور ایف ڈبلیو او اہلکاروں کو حادثے کی اطلاع دی۔
اس سے آگے کی کہانی ضلع روندو کے ریسکیو 1122 کے اہلکار کفایت حسین چنگیزی سناتے ہیں جو محمد علی کی کال موصول ہونے کے بعد اپنے سینٹر سے راونہ ہوئے اور تقریباً چار گھنٹے پیدل چلنے کے بعد اس مقام پر پہنچے جہاں ایک سفید رنگ کی گاڑی کھڑی تھی اور محمد شفا پتھر تلے دبے تھے۔

،تصویر کا ذریعہRAJAB QAMAR
کفایت بتاتے ہیں کہ ’راستے میں نو مقامات پر پتھر گرنے سے سڑک بلاک ہو چکی تھی، اس لیے پیدل جانے کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا۔‘
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روڈ پر ہر طرف پتھر بکھرے ہیں اور مبینہ طور پر ایک ریسکیو اہلکار دوسرے کے پیچھے چلتے ہوئے ویڈیو بنا رہا ہے۔ انہیں اس موقع پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’یہاں بھی سڑک بہت زیادہ بلاک ہے۔ اللہ خیر کرے۔۔ وہاں ایک گاڑی کھڑی ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘
اس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے زخمی محمد شفا اور ہلاک ہونے والے ان کے اہلخانہ کو بڑے پہاڑی پتھر کے نیچے سے نکالا اور ہسپتال منتقل کیا۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں شفا کی 48 سالہ اہلیہ نسیمہ شفا، 12 سالہ بیٹی علینہ، دس سالہ ابیہہ اور ایک تین سال کا بچہ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ گلگت سکردو روڈ کی تعمیر دو سال پہلے مکمل کی گئی تھی تاہم یہ سڑک کئی مسائل کے باعث زیر بحث رہتی ہے۔ یہاں لینڈ سلائیڈنگ عام ہے مگر سڑک پر ان مقامات پر جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ زیادہ ہے، کسی قسم کے سائن بورڈ نصب نہیں کیے گئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران یہاں ٹریفک حادثات اور لینڈسلائیڈنگ کے کل 51 واقعات پیش آئے ہیں جن میں اب تک 18 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
گلگت بلتستان سمیت ملک کے شمالی علاقوں میں جون سے اگست کے دوران سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ تاہم جولائی کے اختتام اور اگست کے مہینوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے باعث یہاں لینڈ سلائیڈنگ اور ٹریفک حادثات میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔
تو سیاح لینڈسلائیڈنگ والے علاقوں میں جاتے ہوئے کیا احتیاط کریں؟

،تصویر کا ذریعہRAJAB QAMAR
ماہرین کہتے ہیں کہ لینڈسلائیڈنگ کی زد میں آنا ایک مشکل صورتحال ہو سکتی ہے جس کا کوئی مؤثر حل نہیں۔ اس لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ خطرے کے پیش نظر سفر مؤخر کر دیا جائے۔
بی بی سی نے اس بارے میں بلتستان ڈویژن میں ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی آفیسر امین الدین سے بات کی۔ وہ ان علاقوں کا سفر کرنے والے سیاحوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ یہاں ڈرائیونگ سے پہلے موسم کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بارش کا امکان ہو تو سفر نہیں کرنا چاہیے۔
امین الدین کے مطابق ’گلگست سکردو روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے خاصا خطرناک ہے۔ بارش کے دوران مٹی نرم ہو جاتی ہے جس سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کے دوران بڑے پیمانے پر بلاسٹنگ کی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ پوری سڑک ہی ہائی رسک کا ایریا ہے۔ اس لیے یہاں آنے والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔‘
ان کے مطابق ’لینڈ سلائیڈنگ کے دوران عام طور پر پہلے چھوٹے پتھر گرنا شروع ہوتے ہیں اور اس صورت میں شور بھی ہوتا ہے اور اگر بارش نہیں ہو رہی تو گرد کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈرائیور اور گاڑی میں سوار دیگر افراد سڑک اور پہاڑوں پر نظر رکھیں اور ایسی گرد اڑتی نظر آئے یا چھوٹے پتھر گرتے دکھائی دیں تو سمجھ جائیں کہ لینڈ سلائیڈنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ سفر جاری مت رکھیں اور گاڑی واپس موڑ لیں اور قریبی محفوظ شہر یا آبادی میں جا کر پناہ لیں۔‘
انھوں نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے کی صورت میں کسی چٹان کی آڑ میں پناہ لی جا سکتی ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ سلائیڈ والے ایریا سے دور جانے کی کوشش کریں کیونکہ ایسے مقامات پر کسی بھی وقت بڑے پتھر گِر سکتے ہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ سلائیڈنگ میں پھنسے افراد اپنا سر بچانے کی کوشش کریں، پتھر چونکہ بہت بلندی سے تیزی کے ساتھ نیچے آتے ہیں، اس لیے ایک چھوٹا سا پتھر بھی سر پر لگنے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ کسی ایسے پتھر کے نیچے پناہ نہ لیں جو پہاڑی کے وزن پر ٹکا ہوا ہو کیونکہ ایسا پتھر کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ وہ علاقے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات موجود ہوں وہاں رات کے اوقات میں کسی صورت سفر مت کر کریں بلکہ دن کے روشنی میں کریں تاکہ حادثے کی صورت میں ریسکیو کا عملہ بروقت کارروائی کر سکے۔
خیال رہے کہ شمالی علاقوں کی بیشتر سڑکوں جیسا کہ گلگت سکردو روڈ کے زیادہ حصے میں موبائل نیٹ ورک فعال نہیں ہیں۔ اس لیے لینڈ سلائیڈ میں پھنسنے کی صورت میں زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ بروقت ریسکیو عملے کو اطلاع نہیں دے پائیں گے۔
ایسا مقام جہاں لینڈسلائیڈ شروع ہو گئی ہے مگر ابھی چھوٹے پتھر یا ریت نیچے آ رہے ہیں تو کوشش کریں کہ تیزی سے اس علاقے سے نکل جائیں۔ گاڑی کو پتھر لگنے کی صورت میں گاڑی مت روکیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے علاقے سے باہر نکلنے کے بعد گاڑی کا نقصان چیک کیا جا سکتا ہے۔
گاڑی کے شیشے بند رکھیں اور سفر پر جانے سے پہلے پانی کی بوتلیں اور کچھ ڈرائی فروٹ ہمراہ رکھیں۔ اس کے علاوہ فرسٹ ایڈ باکس اور ٹارچ بھی سامان میں شامل ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جب لوگ کئی دن تک لینڈ سلائیڈ میں پھنسے رہتے ہیں۔
گاڑی پہاڑ کے زیادہ نزدیک چلائیں نہ ہی سڑک کے کنارے پر، لینڈ سلائیڈ سے گزرتے وقت گاڑی کو سڑک کے درمیان میں رکھیں۔ تاہم سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا راستہ بلاک نہ کریں۔











