’میں ایک ریپسٹ ہوں‘: اپنی اہلیہ کو کئی سال تک ’بے ہوش کر کے اجنبیوں سے ریپ کروانے‘ کے الزام میں گرفتار شوہر کا بیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لورا گوزی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
انتباہ: اس خبر میں بعض تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں
ڈومینیک پیلیکوٹ جن پر اپنی اہلیہ کو منشیات دے کر دس برس تک ان کا درجنوں اجنبیوں سے ریپ کروانے کا الزام تھا نے دو ستمبر کو مقدمے کے آغاز کے بعد سے عدالت کے سامنے اپنے پہلے بیان میں اپنے خلاف تمام الزامات تسلیم کر لیے ہیں۔
کمرۂ عدالت میں موجود 50 دیگر ملزمان جن پر پیلیکوٹ کی اہلیہ جیزل کو ریپ کرنے کا الزام ہے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیلیکوٹ نے کہا کہ ’میں ایک ریپسٹ ہوں جیسے اس کمرے میں موجود دیگر لوگ بھی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان سب کو معلوم تھا، یہ اس کے برعکس بات نہیں کر سکتے۔‘
صرف 50 میں سے 15 ملزمان نے ریپ کو تسلیم کیا ہے اور ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف کچھ سیکشوئل ایکٹس میں حصہ لیا۔
اپنی سابقہ اہلیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیلیکوٹ کا کہنا تھا کہ ’اس کے ساتھ یہ سب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں اس کے ساتھ بہت خوش تھا۔‘
جیزل جنھیں اس حوالے سے ردِ عمل دینے کا موقع دیا گیا نے کہا کہ ’میرے لیے یہ سب سننا مشکل ہے۔ پچاس سال تک میں نے ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزاری جس کے بارے میں مجھے کبھی گمان بھی نہیں تھا کہ وہ یہ گھناونا کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ میں نے ان پر مکمل بھروسہ کیا۔‘
71 سالہ ملزم ڈومینیک پر الزام ہے کہ انھوں نے انٹرنیٹ کی مدد سے اجنبیوں کی خدمات حاصل کیں اور انھیں گھر بلوا کر تقریبا ایک دہائی تک اپنی اہلیہ کا ریپ کروایا۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے خود بھی اپنی اہلیہ کو مدہوش کرنے کے بعد ان کا ریپ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالانکہ عدالت میں کسی کیمرے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس مقدمے کو عام عوام کے لیے جیزل پیلیکوٹ کی درخواست پر پبلک کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی شناخت چھپانے کا حق استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جیزل کے وکلا کی ٹیم نے کہا کہ جیزل نے اپنا نام چھپانے کا حق اس لیے استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ ’شرم‘ انھیں نہیں بلکہ ملزمان کو آنی چاہیے۔
پیلیکوٹ جو ایک باپ اور دادا بھی ہیں نے عدالت میں اپنے بیان کے آغاز میں اپنے بچپن کے تکلیف دہ تجربات کے بارے میں بات کی اور کہا کہ انھیں نو سال کی عمر میں ایک مرد نرس نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
72 سالہ جیزل پلیکوٹ نے 50 سال تک اپنے شوہر رہنے والے ڈومینیک سمیت اِن 51 مردوں کے خلاف عدالت میں شواہد جمع کرائے ہیں جن پر ریپ کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جیزل سے شادی کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو پیلیکوٹ نے بتایا کہ انھوں نے خودکشی کرنے کے بارے میں سوچا جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ کا افیئر چل رہا ہے۔
اپنے بیان کے دوران منگل کی صبح پیلیکوٹ نے بار بار عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ انھوں نے کبھی بھی اپنی اہلیہ سے ’نفرت‘ نہیں کی بلکہ اس کے برعکس وہ ’ان کے بارے میں پاگل تھے۔۔۔ میں ان سے بہت محبت کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میری ان کے لیے محبت 40 برس تک اچھی تھی اور 10 برس کے لیے بری۔‘ یہاں وہ بظاہر اس دہائی کے بارے میں بات کر رہے تھے جس دوران انھوں نے اپنی اہلیہ کو منشیات دے کر ان کا ریپ کروایا۔‘
ان سے ان ہزاروں ویڈیوز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جو انھوں نے ایسے اجنبی مردوں کی بنائی تھیں جو ان کی بیہوش اہلیہ کا ریپ کر رہے تھے۔
تحقیق کرنے والے اہلکاروں کو یہ ویڈیوز ملیں جن کی مدد سے وہ ان 50 مردوں کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے جن پر جیزل کے ریپ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پیلیکوٹ نے تسلیم کیا کہ انھوں نے ان افراد کی فلمنگ جنسی طور پر ’لطف‘ حاصل کرنے کے لیے کی تھی لیکن ساتھ ہی ’انشورنس کے لیے بھی کیونکہ آج ان (ویڈیوز) کی وجہ سے ہی ہم ان لوگوں کو پکڑنے میں کامیاب ہوئے جو اس کا حصہ تھے۔‘
پیلیکوٹ سے اس کے بعد جیزل کے وکلا میں سے ایک سٹیفنی بابونوا نے سوالات پوچھے۔ انھوں نے سوال کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے خود کو کیوں نہیں روک سکے جب انھیں اس کی وجہ سے طبی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مقدمے کی گذشتہ سماعتوں کے دوران جیزل کا کہنا تھا کہ انھیں ڈر تھا کہ انھیں الزائمر یا دماغ میں رسولی کا مسئلہ درپیش ہے کیونکہ ان کے بال جھڑ رہے تھے اور وزن کم ہو رہا تھا اور ان کی یادداشت کمزور ہو رہی تھی۔ یہ دراصل ان منشیات کے اثرات تھے جو ان کے شوہر انھیں دے رہے تھے۔
وکیل کے سوال کے جواب میں پیلیکوٹ نے کہا کہ ’میں نے خود کو روکنے کی کوشش کی لیکن مجھے پڑنے والی لت بہت شدید تھی اور اسے پورا کرنے کا احساس تقویت حاصل کر رہا تھا۔ میں اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، میں نے اس کا بھروسہ توڑ دیا۔ مجھے بہت پہلے رک جانا چاہیے تھا، بلکہ مجھے کبھی اس کا آغاز ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘
پیلیکوٹ پر اپنی بیٹی کیرولین کو بھی منشیات دے کر ان کا ریپ کروانے کا الزام ہے اور ان کی نیم برہنہ تصاویر بھی پیلیکوٹ کے لیپ ٹاپ سے ملی تھیں۔ ماضی میں وہ اس کی تردید کر چکے ہیں اور منگل کو انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے کبھی اپنے پوتے پوتیوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
’میں اپنے خاندان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوا۔‘
پیلیکوٹ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس وقت ’فحش حرکات‘ کرنے لگے جب سنہ 2010 میں ایک مرد نرس سے ان کی انٹرنیٹ کے ذریعے ملاقات ہوئی اور اس نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی اہلیہ کو منشیات دیں، انھیں ایسا کرنے کا طریقہ بتایا اور بیہوش خواتین کی تصاویر بھی دکھائیں۔
پیلیکوٹ نے کہا کہ ’اس وقت یہ سب شروع ہوا، اور میرے ذہن میں یہ ترکیب واضح ہوئی۔‘
بیاٹریس زوارو جو پیلیکوٹ کے وکیل ہیں نے فرانس ٹی وی کو بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کے لوگ ان کے موکل کے بارے میں کیا سوچیں گے لیکن وہ ’سچ بتا رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیلیکوٹ ’بہت افسردہ‘ ہیں اور وہ یہ نہیں جانتی کہ پیلیکوٹ کی اہلیہ ان کی جانب سے معافی کی درخواست کو کس طرح لے گی لیکن ’ان کا بیان شروع ہو گیا اور وہ اسے جاری رکھیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم جب اس مقدمے کے آخر تک پہنچیں گے تو ہم ڈومینیک پیلیکوٹ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوں گے۔‘
پیلیکوٹ جنھیں گردے میں انفیکشن اور پتھری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ عدالت سے ایک ہفتے تک غیر حاضر رہے ہیں۔ انھیں پورا دن اپنا بیان دینے کا موقع دیا گیا ہے تاہم وہ اس دوران متعدد وقفے لے سکتے ہیں۔‘
’پولیس نے میری سیکس لائف کے بارے میں پوچھا‘
جیزل کے وکلا کی ٹیم نے کہا کہ جیزل نے اپنا نام چھپانے کا حق اس لیے استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ ’شرم‘ انھیں نہیں بلکہ ملزمان کو آنی چاہیے۔
جمعرات کو جیزل نے عدالت کو بتایا کہ وہ ان تمام خواتین کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں جنھیں ’لاعلمی میں رکھ کر نشہ آور چیز دے کر بے ہوش کیا گیا‘۔ وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ کسی بھی خاتون کو ایسے واقعات سے نہ گزرنے پڑے۔
72 سالہ متاثرہ خاتون کو ان مبینہ جرائم کے بارے میں 2020 میں اس وقت علم ہوا جب پولیس نے ان کو آگاہ کیا۔
جیزل کہتی ہیں کہ نومبر 2020 کے دوران پولیس نے ایک بار انھیں کہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ تفتیش میں بیٹھیں۔
اس وقت ان کے شوہر کو ایک سپر مارکیٹ میں خواتین کی سکرٹ کے نیچے سے ان کی تصاویر لیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ جیزل نے عدالت کو بتایا کہ انھیں لگتا تھا پولیس کے ساتھ یہ ملاقات اُس واقعے سے متعلق تھی۔
وہ عدالت کو بتاتی ہیں کہ ’پولیس افسر نے مجھ سے میری سیکس لائف کے بارے میں پوچھا۔‘
’میں نے انھیں بتایا کہ میں نے کبھی پارٹنر سواپنگ یا تھری سم نہیں کیا تھا۔ میں نے بتایا میں ایک ہی مرد کے ساتھ زندگی گزارنے والی خاتون ہوں۔ میں اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کی جانب سے چھونے کو برداشت نہیں کر سکتی۔‘
’لیکن ایک گھنٹے بعد (پولیس) افسر نے کہا ’میں آپ کو کچھ چیزیں دکھانے جا رہا ہوں جو آپ کو اچھی نہیں لگیں گی۔‘ انھوں نے فولڈر کھولا اور مجھے ایک تصویر دکھائی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں بیڈ پر مرد یا خاتون دونوں کو پہچان نہ سکی۔ افسر نے پوچھا ’میڈم، کیا یہ آپ کے بیڈ اور بیڈ سائیڈ ٹیبل ہے؟‘
’خود کو اس حالت میں پہچاننا مشکل تھا۔ پھر انھوں نے مجھے دوسری اور تیسری تصاویر دکھائیں۔‘
’میں نے ان سے رُکنے کو کہا۔ یہ ناقابل برداشت تھا۔ میں بیڈ پر بے ہوش تھی اور ایک مرد میرا ریپ کر رہا تھا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہماری شادی خوشگوار تھی، ہم مثالی جوڑا تھے‘
جیزل کہتی ہیں کہ اس وقت تک ان کی شادی بہت خوشگوار تھی۔ انھوں نے اور ان کے شوہر نے صحت اور پیسوں سے متعلق کئی پریشانیوں کا مقابلہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے سپر مارکیٹ میں ہونے والے واقعے پر اپنے شوہر کو معاف کر دیا تھا، اس وعدے پر کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے جو کچھ ساتھ بنایا تھا، وہ سب برباد ہوگیا۔ ہمارے تین بچے، سات نواسے ہیں۔ ہم مثالی جوڑا ہوا کرتے تھے۔‘
’میں غائب ہو جانا چاہتی تھی۔ لیکن مجھے اپنے بچوں کو بتانا تھا کہ ان کے والد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میں نے اپنے داماد سے کہا کہ میری بیٹی کے ساتھ رہے جب میں انھیں بتاؤں کہ ان کے باپ نے میرا ریپ کیا اور دوسروں سے میرا ریپ کروایا۔‘
’وہ اس پر چیخیں۔ وہ آواز آج بھی میرے ذہن میں ہے۔‘
آنے والے دنوں میں عدالت کو اس کیس میں مزید شواہد جمع کرائے جائیں گے۔ یہ اس بارے میں ہیں کہ کیسے ڈومینیک نے مبینہ طور پر ’سیکس چیٹ‘ سے متعلق ویب سائٹس کے ذریعے مردوں سے رابطہ کیا اور انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔
پولیس کا الزام ہے کہ ان مردوں کو کڑی ہدایات دی جاتی تھیں۔ انھیں کچھ فاصلے پر گاڑی پارک کرنا ہوتی تھی تاکہ کوئی ان کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور انھیں نیند کی گولیاں دیے جانے کے ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا تھا تاکہ جیزل اس سے بے ہوش ہو کر سو جائیں۔
ان کا مزید دعویٰ ہے کہ ایک بار گھر میں اِن مردوں سے کہا گیا کہ وہ کچن میں برہنہ ہوجائیں اور ریڈیئیٹر یا گرم پانی کی مدد سے اپنے ہاتھ گرم کر لیں۔ تمباکو یا پرفیوم کی اجازت نہیں تھی کیونکہ اس سے جیزل جاگ سکتی تھیں۔ کنڈوم کی ضرورت نہیں تھی۔
اس معاملے میں پیسوں کا لین دین نہیں ہوتا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ڈومینیک ان مناظر کو دیکھتے تھے اور ویڈیوز بناتے تھے۔ انھوں نے ایک ہارڈ ڈرائیو فائل بنا رکھی تھی جس میں قریب چار ہزار تصاویر اور ویڈیوز تھیں۔ یہ سپر مارکیٹ میں خواتین کی سکرٹ کے نیچے سے تصاویر کھینچنے کا ہی معاملہ تھا کہ پولیس نے ان کے کمپیوٹر سے یہ فائلز برآمد کیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سنہ 2011 سے 2020 تک قریب 200 مرتبہ ریپ کے شواہد ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ سب پیرس کے نواحی علاقے میں ہوا اور 2013 کے بعد مزان میں جہاں وہ منتقل ہوچکے تھے۔
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ نصف سے زیادہ مرتبہ خود ان کے شوہر نے ان کا ریپ کیا۔ اس میں شامل اکثر مرد کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہی رہتے تھے۔
’میرے اندر تباہی کا منظر ہے‘
جب جج نے جمعرات کو ان سے پوچھا کہ آیا وہ کسی ملزم کو پہچان سکی ہیں تو جیزل نے بتایا کہ وہ صرف ایک کو پہچان سکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ ہماری بائیکس چیک کرنے آیا تھا۔ میں انھیں بیکری میں دیکھا کرتی تھی۔ وہ ہمیشہ شائستہ رہتے تھے۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ میرا ریپ کرنے آتے تھے۔‘
جج نے جیزل کو یاد کرایا کہ اس تاثر کا احترام کرنے کے لیے کچھ لوگ بے قصور ہو سکتے ہیں عدالت میں یہ طے ہوا ہے کہ ریپ کی بجائے ’سیکس سین‘ کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
ان پر انھوں نے جواب دیا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں حقائق تسلیم کرنے ہوں گے۔ جب میں سوچتی ہوں کہ انھوں نے کیا کِیا ہے تو مجھے گھن آتی ہے۔ انھیں کم از کم اپنے کِیے کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘
جب حقیقت واضح ہوئی تو جیزل کو یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسی بیماری سے متاثرہ ہیں جو سیکس کی وجہ سے منتقل ہوئی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کسی بھی ملزم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ایک شخص جو ایچ آئی وی پازیٹیو تھا وہ چھ مرتبہ آیا۔ میرے شوہر نے ایک بار بھی میری صحت کی فکر نہیں کی۔‘
وہ اب اپنے شوہر کو طلاق دینے کے عمل میں ہیں۔
ڈومینیک اور دیگر ملزمان کے سامنے دو گھنٹے تک بولنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ’میرے اندر تباہی کا ایک منظر ہے۔ باہر سے مضبوط ہوں۔۔۔ لیکن اندر سے۔۔۔‘











