پاکستان نے مراکش کی جدوجہدِ آزادی کے رہنما کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ کیوں جاری کیا؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہ Dr Nafees ur Rehman Durrani

    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور

شمالی افریقہ کے ملک مراکش کی فٹ بال ٹیم ان دنوں قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں مسلسل فتوحات حاصل کرتی ہوئی سیمی فائنل تک پہنچ چکی ہے۔

فٹ بال کے عالمی مقابلوں کو دنیا کے بڑے مقابلوں میں تصور کیا جاتا ہے اور اس کی 92 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مراکش براعظم افریقہ کی پہلی فٹ بال ٹیم ہے جس نے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

یہاں تک پہنچنے میں اس نے دنیائے فٹ بال کے چند بڑے ستون بھی گرائے ہیں جن میں بیلجیئم، سپین اور پرتگال شامل ہیں۔ فٹبال کے درخشاں ستارے رونالڈو کے ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کو بھی مراکش ہی نے تباہ کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیمی فائنل میں مراکش کا مقابلہ فرانس کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مسلم اکثریت کا ملک مراکش سنہ 1912 سے لے کر سنہ 1956 تک فرانس کے زیرِ تسلط رہا ہے۔ دیگر شمال مغربی افریقی ممالک کی طرح مراکش کو بھی فرانس سے آزادی لینے کے لیے مسلح جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ 

قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ملنے والی ہر جیت کے بعد مراکش دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان اور خصوصاً عرب ممالک میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اسے سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی مسلمان ملک کی ٹیم کی نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

کئی عرب ممالک میں مراکش کی فتوحات کے جشن مناتے ہوئے بھی لوگ نظر آئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر مراکش کی فٹ بال ٹیم کو لے کر کئی ٹرینڈز گذشتہ چند دنوں سے گردش کر رہے ہیں۔

اخبار

،تصویر کا ذریعہCourtesy Dr Nafees ur Rehman Durrani

پاکستان میں بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر مراکش کی جیت کا جشن منانے کا کوئی واقعہ نظر نہیں آیا تاہم پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی مراکش کی حمایت اور پاکستان سے اس کے تعلقات کو لے کر بات کی جا رہی ہے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے کوارٹر فائنل میں مراکش کی فتح کے بعد تہنیتی پیغامات ٹوئٹر پر پوسٹ کیے تھے۔

حال ہی میں ٹوئٹر پر ایک پاکستانی ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا چرچا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پاسپورٹ مراکش کے اس وقت کے جدوجہدِ آزادی کے ایک رہنما احمد عبدالسلام بالافریگ کو جاری کیا گیا تھا۔ 

فرانس کی مخالفت کے بعد احمد بالافریگ یہ پاسپورٹ استعمال کر کے ہی اقوامِ متحدہ میں خطاب کر سکے تھے جس میں وہ مراکش کی آزادی کے مسئلے کو دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اس کے چند ہی سال بعد سنہ 1956 میں مراکش آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

مراکش میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ٹوئٹر پر سنہ 2021 میں تصاویر شیئر کی گئی تھیں جن میں پاکستانی سفیر کو احمد بالافریگ کے صاحبزادے محمد انیس بالافریگ کو اس پاسپورٹ کی کاپی پیش کرتے دکھایا گیا۔

یہ پاسپورٹ احمد بالافریگ کو سنہ 1952 میں جاری کیا گیا تھا۔

احمد بالافریگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناحمد بالافریگ بائیں جانب بیٹھے ہیں

احمد بالافریگ کون تھے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مراکش کی آزادی کے بعد سنہ 1956 میں احمد بالافریگ مراکش کے دوسرے وزیرِاعظم مقرر ہوئے۔

وہ دوسری عالمی جنگ سے قبل مراکش میں فرانسیسی تسلط کے خلاف ہونے والی قوم پرست تحریک کے سرکردہ ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر نفیس الرحمٰن درانی نے اس موضوع پر تحقیق کر رکھی ہے اور انھوں نے بھی ٹوئٹر پر اس پاسپورٹ کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

ان کے مطابق انھوں نے یہ تصاویر احمد بالافریگ کے بارے الجزیرہ ٹی وی کی عربی زبان میں نشر ہونے والے ایک ڈاکومینٹری سے حاصل کی ہیں۔ 

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نفیس الرحمٰن نے بتایا کہ ’احمد بالافریگ بنیادی طور پر ایک ادبی شخصیت تھے۔‘

’انھوں نے مراکش میں مغرب کے نام سے ایک جریدے کا آغاز بھی کیا تھا اور مراکش کی جدوجہدِ آزادی میں ادبی اور نظریاتی سطح پر بھی انھوں نے بہت زیادہ کام کیا۔‘

انھیں مراکش میں سنہ 1944 میں قائم ہونے والی استقلال پارٹی کے بانیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

سنہ 1947 کے بعد جب احمد بالافریگ کے لیے مراکش کے اندر سے جہدوجہد کرنا مشکل ہو گیا تو انھوں نے اپنے خاندان کو ہمسایہ یورپی ملک سپین منتقل کیا۔

یہاں سے انھوں نے سفارتی سطح پر مراکش کی آزادی کے لیے کوششوں کا آغاز کیا اور اس مسئلے کو عالمی دنیا کے سامنے لے کر گئے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والا پاسپورٹ وہ ہے جو ان دنوں میں احمد بالافریگ کو پاکستانی حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ 

پاکستان نے انھیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ کیوں دیا؟

بین الاقوامی اور سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستانی حکومت نے ان دنوں شمال مغربی افریقہ کے ممالک خاص طور پر الجزائر اور مراکش کو ان کی آزادی کی جدوجہد میں کافی مدد کی تھی اور یہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ ان کے رہنماوں کو اسی دور میں جاری کیے گئے تھے۔‘

ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق پاکستان کی طرف سے مدد کی اس پالیسی کے پیچھے بنیادی طور پر پین اتحادِ اسلامی کے تصور کا جذبہ کارفرما تھا جو صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں محسوس کیا جا رہا تھا۔ 

وہ کہتے ہیں کہ ’حالیہ ورلڈ کپ میں مراکش کی حمایت میں مسلم دنیا میں ہونے والے جشن سے بھی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتحادِ اسلامی کا یہ جذبہ مسلم دنیا میں اب بھی موجود ہے۔‘

’بعض ممالک میں آزادی رائے پر پابندیوں کی وجہ سے یہ پہلے کی طرح ظاہر نہیں ہوتا۔‘

مراکش کے رہنما احمد بالافریگ کو یہ پاسپورٹ اس وقت دیا گیا تھا جب فرانس نے انھیں اقوامِ متحدہ جیسے پلیٹ فارم پر بات کرنے سے روک دیا تھا۔

پاکستانی ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی حفاظت میں احمد بالافریگ اقوام متحدہ میں یہ خطاب کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 

morocco independence

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان مراکش کی مدد کیوں کر رہا تھا؟

محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر نفیس الرحمٰن درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان نے نئی نئی برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی تھی اور عرب لیگ کے ممالک کی طرف سے مسلسل پاکستان سے رابطہ کیا جا رہا تھا۔

’عرب لیگ کے ممالک کی طرف سے پاکستان کو دو میمورینڈم بھی بھجوائے گئے جن میں پاکستان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ فرانس مخالف اور نوآبادیاتی تسلط کے خلاف بات کرے اور مراکش سمیت شمال مغربی افریقہ کے مسلمان ممالک کی آزادی کے لیے آواز اٹھائے۔‘

ڈاکٹر نفیس الرحمٰن درانی کے مطابق اس وقت پاکستان کے اندر حکومت عوام کی طرف سے مراکش کی مدد کرنے کے لیے بہت دباؤ تھا۔

لاہور میں اسمبلی کے سامنے طلبا کی طرف سے فرانس مخالف ایک بہت بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا تھا۔

انہی دنوں دسمبر سنہ 1951 میں پاکستان نے کراچی میں بین الاقوامی اسلامی اکنامک کانفرنس منعقد کی اور دیگر مسلم ممالک سمیت مراکش، الجزائر اور تیونس کے مندوبین کو بھی مدعو کیا گیا۔

’مراکش کے مندوب نے اس وقت اپنے خطاب میں پاکستان سے مراکش کی مدد کی درخواست کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے قائداعظم کے اس قول کو بھی دہرایا کہ پاکستان محکوم ریاستوں کو اپنی حمایت اور مادی مدد دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔‘

اگلے ہی برس سنہ 1952 میں احمد بالافریگ کو پاکستانی ڈپلومیٹک پارسپورٹ جاری کیا گیا۔ 

book

،تصویر کا ذریعہOxford Press

سنہ 1965 کی پاکستان، انڈیا جنگ اور مراکش کا ’احسان کا بدلہ‘

ڈاکٹر نفیس الرحمٰن درانی کہتے ہیں کہ پاکستان کی مراکش میں اس وقت کی سفیر شائستہ اکرام اللہ نے اپنی کتاب ’پردہ ٹو پارلیمنٹ‘ میں لکھا ہے کہ جب وہ مراکش کی سفیر تعینات ہو کر وہاں پہنچیں تو مراکش میں ان کا بہت والہانہ استقبال کیا گیا۔

اسی کتاب میں انھوں نے ایک واقعہ لکھا ہے جو سنہ 1965 کا ہے جب کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ جاری تھی۔

انہی دنوں مراکش کے شہر کاسابلانکا میں 13 عرب ممالک کی ایک کانفرنس ہو رہی تھی۔

شائستہ اکرام اللہ نے اس وقت مراکش کے دفترِ خارجہ سے درخواست کی کہ وہ اس پلیٹ فارم سے پاکستان کی حمایت میں بیان جاری کریں۔

تاہم اگلے دن جو بیان آیا اس سے انھیں مایوسی ہوئی۔ اس میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کے لیے کام کرنے کا کہا گیا تھا۔

ڈاکٹر نفیس الرحمٰن درانی کے مطابق ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ لکھتی ہیں کہ انھیں اس سے کافی مایوسی ہوئی۔ انھوں نے خود کاسابلانکا جانے کا فیصلہ کیا اور احمد بالافریگ سے ملاقات کی۔

’وہ کہتی ہیں کہ میں نے انھیں یاد دلایا کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیا جاتا ہے اور اس کے بعد انھیں احمد بالافریگ کو زیادہ قائل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اگلے دن کی قرارداد دیکھیے گا۔‘

اگلے روز جب قرارداد آئی تو اس میں پاکستان کی کھلی حمایت کی گئی تھی اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر اس کے مؤقف کی تائید کی گئی تھی۔ مراکش میں اس وقت کی پریس نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت میں کافی ایڈیٹوریل لکھے۔

’اس پر انڈیا نے مراکش سے کافی احتجاج بھی کیا تاہم ان سے کہا گیا کہ مراکش میں پریس آزاد ہے اور وہ جو چاہیں وہ لکھ سکتے ہیں۔‘

image

،تصویر کا ذریعہCourtesy Dr Nafees ur Rehman Durrani

مراکش اور پاکستان کے تعلقات کیسے رہے؟

سنہ 1956 میں مراکش کے پہلے وزیرِ خارجہ کے طور پر احمد بالافریگ نے پاکستان کا دورہ کیا تو پاکستان میں مخلتف اداروں کی طرف سے مراکش کو مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

پاکستان نے مراکش کو زرعی شعبے میں تحقیق میں مدد کی پیشکش کی۔ خاص طور پر کپاس کے بیج، دھاگے اور کپڑے کی ٹیسٹنگ کی سہولیات مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے سیاسیات کے شعبے میں کانفیوشس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر رانا اعجاز احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور مراکش کے درمیان تعلقات میں معاشی، فوجی اور سیاسی امور کو اہمیت حاصل ہے۔

’پاکستان مراکش کو لگ بھگ 348 ملین ڈالر کی برآمدات کرتا ہے جبکہ پاکستان سے اس کی درآمدات 30 ملین ڈالر کے قریب ہیں۔ پاکستان اور مراکش کے درمیان پہلی مرتبہ دو طرفہ فوجی مشقوں کا انعقاد پاکستان میں سنہ 2021 میں کیا گیا تھا۔‘

ڈاکٹر رانا اعجاز احمد کے خیال میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ زیادہ تر مراکش کو اسلحہ فروخت کرنے میں دلچسپی لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔