شمالی افغانستان میں بارشوں اور سیلاب سے سینکڑوں ہلاکتیں: ’نمازِ جمعہ کے لیے گئے، واپس آئے تو گھر تباہ ہوچکا تھا‘
افغانستان میں بغلان، بدخشاں، ہرات اور غور میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ادارہ برائے خوراک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سیلاب میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں اور تقریباً دو ہزار مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق اب سیلاب سے بغلان صوبے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں۔
طالبان حکام کے مطابق صوبہ بغلان کے پانچ اضلاع میں شدید بارشوں کے بعد درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جمعہ کی رات اس سارے علاقے میں مزید طوفان کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
طالبان حکومت کے عہدیدار محمد ابراہیم عمیری کا کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے سبب سب سے زیادہ نقصان بغلان کے وسطی اضلاع میں ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیلاب کے باعث کم از کم 315 افراد، 1 ہزار 630 افراد زخمی اور 2 ہزار 665 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بغلان کے رہائشی خان احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہم نماز جمعہ کے لیے گئے، جب واپس آئے تو سیلاب سب گھروں تک پہنچ کر انھیں تباہ کر چکا تھا۔‘
’میرے گھر کے سات لوگ نہیں رہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کچھ بھی نہیں بچا، میں اپنے گھر کا واحد شخص ہوں جو زندہ ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بغلان کے ایک اور رہائشی صاحب خان کا کہنا ہے کہ تباہ کُن بارشوں اور سیلاب کے سبب ان کے والد، بھائی، بہن اور بھتیجا اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
’میری والدہ بھی زخمی ہیں اور میں مرتے مرتے بچا۔ ہمارا گھر مکمل تباہ ہو گیا ہے، ہماری ساری زندگی تباہ ہوگئی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی دیہاتوں کے گھروں میں پانی کے ریلے بہنے لگے جس سے تباہی ہوئی ہے۔
افغانستان گذشتہ چند ہفتوں کے دوران غیرمعمولی طور پر شدید بارشوں کی زد میں رہا ہے۔ اپریل کے وسط سے سیلاب میں متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 131 افراد بغلان صوبے اور 20 تخار میں ہلاک ہوئے ہیں۔
مرنے والوں میں سے اکثر کا تعلق بغلان کے بورکا ضلع سے تھا جہاں 200 سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے تھے۔
اس سے قبل عبدالمتین قانی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا تھا کہ کابل کے شمال میں واقع بغلان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے تھے، لیکن نائٹ ویژن لائٹس کی کمی کی وجہ سے ’آپریشن کامیاب نہ ہو سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقامی اہلکار ہدایت اللہ ہمدرد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج سمیت امدادی اہلکاروں نے ’کیچڑ اور ملبے کے نیچے کسی بھی ممکنہ متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ خاندانوں کو خیمے، کمبل اور کھانا فراہم کیا گیا جو اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
کابل کو شمالی افغانستان سے ملانے والی مرکزی سڑک بند ہے۔ سیلاب سے تقریباً دو ہزار گھروں، تین مساجد اور چار سکولوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیلابی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بارش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ عام نکاسی آب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
ماہرین کے مطابق موسم خزاں اور سردیوں میں خشک سالی کی وجہ سے زمین کو بارش کا پانی جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں ہر سال شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں کچے اور غیر معیاری مکانات اور بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات کا سامنا ہے۔ سیلاب کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں لیکن زیادہ تر وقت موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ایک بڑی وجہ بتایا جاتا ہے۔
صنعتی دور کے آغاز سے دنیا کے درجہ حرارت میں 1.1 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور جب تک حکومتیں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرتیں، درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔












