آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلڈ کینسر میں مبتلا بچہ اور ’معجزے‘ کی متلاشی ماں جن پر اپنے ہی بیٹے کو ڈبو کر مارنے کا الزام لگا
انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں ہندوؤں کے مقدس شہر ’ہری دوار‘ سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو اس وقت پورے ملک میں سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایک خاتون ایک بچے کو پانی میں ڈبکیاں لگواتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔
یہ منظر ’ہری دوار‘ کے مقدس مقام ’ہر کی پوھڑی‘ (یعنی دیوتا وشنو کا پاؤں) کا ہے۔ یہ جگہ ہندو مذہب میں کافی اہمیت اور تقدیس کی حامل ہے جہاں مذہبی عبادات بھی ادا کی جاتی ہیں۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دریائے گنگا کے کنارے موجود اس گھاٹ (ہر کی پوھڑی) پر بچے کو ڈبکیاں دیتی خاتون سے چند افراد بچے کو چھین لیتے ہیں۔ اس دوران بچہ بے حس و حرکت ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں خاتون کے ساتھ دو مرد بھی موجود نظر آتے ہیں۔
بچے کو بے حس و حرکت دیکھ کر موقع پر موجود افراد خاتون اور ان کے ساتھ موجود دو مردوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کرتے ہیں۔ موقع پر موجود یہ ہجوم خاتون اور دونوں مردوں پر بچے کو ڈبو کر مارے کا الزام عائد کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
اسی نوعیت کی ایک اور ویڈیو میں وہی خاتون اُسی بچے کی لاش کے پاس بیٹھی نظر آتی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ خاتون دعویٰ کرتی ہیں کہ بے حس و حرکت پڑا ’بچہ جلد ہی جاگ جائے گا۔‘
اس موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد مقامی پولیس نے خاتون اور دونوں مردوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بچے کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
انڈیا میں سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو ان عنوانات کے تحت پوسٹ کی جا رہی ہے کہ ایک ماں نے اپنے ہی بچے کی ڈبو کر جان لے لی۔
تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی موت پانی میں ڈوبنے کے باعث نہیں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ہری دوار کے پولیس افسر سوتنتر کمار نے ایک پریس کانفرنس کی اور بچے کی ڈوبنے کے باعث ہلاکت کی تردید کی۔
ہری دوار پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہر کی پوھڑی پر ایک خاتون کی جانب سے اپنے ہی بچے کو ڈبو کر مارنے کا دعویٰ غلط ہے بلکہ یہ معاملہ ’بظاہر ایمان اور آخری اُمید‘ سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کی ہر زوایے سے تحقیق جاری ہے اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد اب تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ بلڈ کینسر کے مرض میں مبتلا تھا اور چونکہ وہ کینسر کی آخری سٹیج پر تھا اس لیے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز دہلی نے اسے ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والدین ’آخری اُمید کے طور پر اسے ہری دوار کے مقدس مقام پر لائے۔‘
پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچے کے پھیپھڑوں میں پانی نہیں تھا جو ظاہر کرتی ہے کہ اس کی موت ڈوبنے کی وجہ سے نہیں ہوئی۔
پولیس نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ یہ معاملہ چونکہ حساس نوعیت کا ہے، اس لیے اس ضمن میں سامنے آنے والی وائرل ویڈیوز کو حقائق کے بغیر مختلف پلیٹ فارمرز پر شیئر نہ کیا جائے۔
’وہ راستے میں ہی مر چکا تھا‘
اس کیس کی تحقیقات کرنے والے ایک ذمہ دار پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ویڈیوز سامنے آنے کے بعد والدین کو تھانے لایا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ ڈوبنا ثابت نہ ہونے کی بنا پر انھیں رہا کر دیا گیا تاکہ وہ اپنے بچے کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔‘
دہلی کے سونیا وہار کے رہنے والے رنجیت کمار ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور وہ ان لوگوں کو دہلی سے ہری دوار لائے تھے۔
رنجیت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچہ بہت بیمار تھا اور گاڑی میں سوار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس نے حرکت کرنا بند کر دی تھی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’واقعے کے دن صبح 7 بجے بچے کے چچا نے انھیں ہری دوار جانے کے لیے بلایا۔ اور وہ بچے اور اس کے والدین کے ہمراہ نو بج کر دس منٹ پر دہلی سے روانہ ہوئے۔ بچے کے ساتھ اُن کے والدین اور ایک خالہ بھی تھیں۔ بچہ دورانِ سفر بڑی مُشکل سے سانس لے رہا تھا۔‘
تھوڑی دیر بعد بچے کی سانسیں بھی رک گئیں، تاہم بچے کی ماں نے بس یہ کہا کہ بچے سو رہا ہے۔
دوپہر تقریبا ایک بج کر 15 منٹ پر ہری دوار پہنچنے کے بعد، والدین نے اسے اپنی گود میں لیا اور گنگا میں نہلانے چلے گئے تاکہ وہ شفایاب ہو سکے۔
مدن رائے دہلی کی سونیا وہار کالونی میں اس فیملی کے پڑوسی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچے کے والد راج کمار پھولوں کی فروخت کا کا کام کرتے ہیں اور اُن کی بیوی گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں۔ بیٹے کی موت کے بعد اب ان کی ایک بیٹی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بچے کو بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو جواب دے دیا تھا کہ اس کے زندہ بچنے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ پڑوسی کے مطابق ڈاکٹروں سے جواب ملنے کے بعد والدین کسی ’معجزے‘ کی اُمید لیے ہری دوار گئے تاکہ ان کا بیٹا صحت یاب ہو سکے۔
مدن رائے کہتے ہیں کہ ’خدا کی اس سب میں کوئی اور مرضی تھی۔‘
پوسٹ مارٹم کے بعد یہ فیملی رات دیر گئے دہلی لوٹ آئی۔
مدن رائے بھی سوشل میڈیا کے رویے سے ناراض نظر آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ’کیا آپ اس طرح کی تحقیقات کے بغیر خبریں شائع کرتے ہیں؟ وہ غریب لوگ پہلے ہی افسردہ اور بچے کی موت کی وجہ سے پریشان اور صدمے کی حالات میں ہیں اور سب سے بڑھ کر اُن کے بارے میں میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں۔ کیا اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی جو بنا کُچھ سوچے اور سمجھے ہر خبر چلا دیتے ہیں؟‘