کیا آپ کو جِم جانا پسند نہیں: اپنی روٹین میں چھوٹی ورزشیں شامل کرکے آپ کیسے صحت مند رہ سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لوسی ہکر
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
جم جانا شروع کر دیں، پہاڑوں پر چڑھیں، سپن کلاسز کے لیے سائن اپ کریں۔۔۔۔ ہمیں اکثر یہی بتایا جاتا ہے کہ فٹ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت سا پسینہ بہانا اور بہت محنت کرنا ہو گی۔
لیکن اگر آپ کے پاس وقت ہی نہ ہو یا دل نہ چاہے تو کیا کریں؟
جو بلاڈیجٹ کے پاس اس کا حل ہے: چھوٹی چھوٹی ورزشیں جنھیں آپ تقریباً بغیر محنت کے روزمرہ کے معمول میں شامل کر سکتے ہیں۔
بلاڈیجٹ یونیورسٹی کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹ، ایکسرسائز اینڈ ہیلتھ میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں اور انھوں نے یہ تحقیق کی ہے کہ چھوٹے چھوٹے ورزش کے وقفے آپ کی صحت پر کس طرح اثر ڈال سکتے ہیں۔
وہ بی بی سی ریڈیو فور کے پوڈکاسٹ ’واٹس اپ ڈاک؟‘ میں کہتی ہیں کہ ہائی انٹینسٹی ایکسرسائز جس سے سانس پھولے اور دل کی دھڑکن بڑھ جائے واقعی فائدہ مند ہے۔
تاہم وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح آپ بغیر کسی خاص لباس یا جم کی ممبرشپ کے بھی فٹ ہو سکتے ہیں۔
1۔ اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی ورزشیں شامل کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلاڈیجٹ کے مطابق دن بھر میں چھوٹی چھوٹی ورزشیں شامل کرنے کے بے شمار طریقے موجود ہیں۔
وہ اسے ’ویگرس انٹرمِٹنٹ لائف سٹائل فزیکل ایکٹیویٹی‘ یا ولپا کہتی ہیں۔ جس کا مطلب ہے روزمرہ معمول کی سرگرمیوں کے دوران مختصر وقت کے لیے جسم کے ذریعے کسی بھی قسم کی محنت کرنے میں اضافہ کرنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں: ’اصل بات یہ ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے مواقع تلاش کیے جائیں جو آپ کو تھوڑا سا زیادہ زور لگانے پر مجبور کریں۔‘
بلاڈیجٹ چند عملی مثالیں دیتی ہیں۔
- سیڑھیاں اور لفٹ دونوں استعمال کریں: اگر بارہویں منزل تک پوری سیڑھیاں چڑھنا مشکل لگتا ہے تو دو منزلیں پیدل چڑھیں اور پھر لفٹ لے لیں۔
- بس سے ایک سٹاپ پہلے اتر جائیں: کام پر سائیکل سے جانا بہترین ہے لیکن اگر بس لینا مجبوری ہو تو آخری سٹاپ سے پہلے اتر کر تیز قدموں سے چلیں اس کے لیے کسی خاص لباس کی ضرورت نہیں۔
- چلنے کی رفتار بڑھائیں: اگر آپ پہلے ہی واک کرتے ہیں تو اپنی رفتار تیز کرنے کی کوشش کریں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر آپ فی الحال زیادہ متحرک نہیں بھی ہیں تو دن میں صرف تین یا چار بار، ایک یا دو منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی دل کی بیماری کے خطرے اور مجموعی عمر پر نمایاں مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
2۔ فٹ رہنے کے لیے صرف ہفتے میں چند دن جم جانے کو کافی نہ سمجھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگر آپ پہلے ہی باقاعدگی سے جم جاتے ہیں یا ہفتے میں ایک بار فٹبال کھیل لیتے ہیں تو خود کو بہت مطمئن سمجھنے کی ضرورت نہیں۔
بلاڈیجٹ کے مطابق ہم میں سے بہت سے لوگ دراصل وہ ہیں جنھیں وہ ’ایکٹو کاؤچ پوٹیٹوز‘ کہتی ہیں یعنی ہم ورزش تو کرتے ہیں۔۔۔ مگر باقی وقت مسلسل بیٹھے رہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ سرگرمیاں بلاشبہ اچھی چیز ہیں لیکن یہ پورا دن دفتر میں سکرین کے سامنے بیٹھے رہنے یا شام کو صوفے پرلیٹے رہنے کی تلافی نہیں کر سکتیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جم میں گزارے گئے تیس منٹ دن کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہوتے ہیں۔ باقی ساڑھے تئیس گھنٹوں کا کیا ہوگا؟‘
اگر یہ صورتحال آپ پر بھی صادق آتی ہے تو بلاڈیجٹ چند عملی مشورے دیتی ہیں۔
- کھڑے ہوا کریں: کام کے دوران وقفے وقفے سے کرسی سے اٹھیں۔
- چلنے کی عادت ڈالیں: لنچ بریک کا آدھا وقت موبائل دیکھنے کے بجائے ٹانگیں سیدھی کرنے کے لیے پیدل چلنے میں گزاریں۔
- چلتے پھرتے میٹنگز کریں: ویسٹ وِنگ سٹائل یعنی بات کرتے ہوئے چلیں۔ یہ طریقہ بہت سی فون میٹنگز کے لیے بھی مؤثر ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ دیر تک مسلسل بیٹھے رہنے سے گریز کرنا بہتر ہے۔
بلاڈیجٹ کہتی ہیں ’ہر پندرہ یا تیس منٹ بعد کیا آپ کھڑے ہو سکتے ہیں، تھوڑا سا جسم ہلا سکتے ہیں اور پھر دوبارہ بیٹھ سکتے ہیں؟‘
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ جم جانا چھوڑ دیں۔
بلاڈیجٹ کے مطابق سرگرمیوں کی ایک درجہ بندی موجود ہے، جس میں وہ سرگرمیاں جو دل کی دھڑکن تیز کرتی ہیں سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں جبکہ ان کے بعد معتدل سرگرمیاں، جیسے پیدل چلنا وغیرہ آتی ہیں۔
3۔ اس وقت کو کم کریں جب آپ بالکل حرکت میں نہیں ہوتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحت سے متعلق ہدایات عموماً اس بات پر زور دیتی ہیں کہ انسان کو کتنی تیز یا سخت ورزش کرنی چاہیے۔
لیکن بلاڈیجٹ کا کہنا ہے کہ اس سوچ کو الٹ کر یہ دیکھنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے کہ آپ دن میں کتنی دیر بالکل غیر متحرک رہتے ہیں اور کیا اس وقت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت چند ممالک نے اس پیغام کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ روزانہ آٹھ گھنٹے سوتے ہیں تو باقی جاگنے کے وقت کے کم از کم آٹھ گھنٹے حرکت میں گزارنا چاہیے۔
بلاڈیجٹ اس حوالے سے چند عملی مشورے دیتی ہیں۔
- مسلسل حرکت میں رہیں: کوشش کریں کہ دن میں آٹھ گھنٹے سے کم وقت بیٹھیں یا غیر متحرک رہیں۔ جتنا اس وقت کو کم کریں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
- بچوں کو آزادانہ حرکت کرنے دیں: آسٹریلیا میں دی جانے والی ہدایات کے مطابق پری سکول عمر کے بچوں کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے مسلسل پُش چیئر یا کار سیٹ میں باندھ کر نہیں رکھنا چاہیے۔ بارش والے دنوں میں گھر کے اندر غباروں سے کھیل جیسی سرگرمیاں مددگار ہو سکتی ہیں۔
- گھریلو کاموں کو سرگرمی بنائیں: سودا سلف اٹھانا، لان موور دھکیلنا یا گھر کی صفائی جیسے کام نہ صرف آپ کو متحرک رکھتے ہیں بلکہ طاقت اور توازن بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
بلاڈیجٹ کے مطابق ایسا کوئی حتمی اصول نہیں کہ کتنی حرکت کافی ہے لیکن جتنا زیادہ حرکت کریں گے، اتنا ہی بہتر ہو گا۔











