آغا خان کا ’شیرگر‘: دنیا کے سب سے مہنگے گھوڑے کا پراسرار اغوا اور وہ جرم جو آج تک حل نہیں ہو سکا

،تصویر کا ذریعہSteve Powell/Allsport Getty Images
- مصنف, گریگ مککیوٹ
- عہدہ, بی بی سی کلچر
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
شیرگر دنیا کا سب سے مشہور اور بیش قیمت گھوڑا تھا۔ لیکن جب اس گھوڑے کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تو یہ ایک سنسنی خیز جرم کی کہانی کا کردار بن گیا۔
یہ 1983 کی ایک سرد رات تھی جب آئرلینڈ میں شیرگر کو اغوا کر لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب شیرگر اپنے حیران کن کارناموں کے بعد ایک نئی زندگی کا عادی ہو ہی رہا تھا۔
واضح رہے کہ کسی ریس کے گھوڑے کی فتوحات کی وجہ سے ہی اس کی قیمت طے ہوتی ہے۔ 1981 میں ’اپسوم ڈربی‘ میں فتح کے بعد شیرگر کا پوری دنیا میں چرچا ہو رہا تھا۔ اس کے مالک ارب پتی آغا خان تھے۔
سنہ 2011 میں آغا خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’مجھے دو باتیں بہت حیران کن لگی تھیں۔ ایک تو اس کی دوڑ میں آسانی اور دوسرا جیتنے کے بعد بھی وہ دوڑتا چلا گیا جو بہت غیرمعمولی تھا۔‘
’آئرش ڈربی‘ اور ’کنگ جارج چیس‘ میں فتوحات نے شیرگر کو عالمی سپر سٹار بنا دیا۔ آغا خان نے اس وقت اس کی قیمت کا تخمینہ دس ملین ڈالر لگایا تھا اور 34 حصص بیچے جن میں سے ہر ایک ڈھائی لاکھ ڈالر کا تھا۔
خود آغا خان نے شیرگر کے چھ حصص اپنے پاس رکھے۔ باقی دولت مند سرمایہ کاروں نے خریدے جو شیرگر سے مستقبل کے چیمپیئن پیدا ہونے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
ایک معجزانہ طور پر کامیاب سیزن کے بعد شیرگر کا انعام آئرلینڈ میں ریٹائرمنٹ کی زندگی تھی۔ 1983 تک شیرگر سے نسل بڑھانے کے اتنے خواہشمند موجود تھے کہ پورا سال ہی بک ہو چکا تھا اور تمام حصص رکھنے والوں کو یقین تھا کہ ان کا منافع بڑھنے والا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMichael Daines/Mirrorpix/Getty Images
لیکن پھر اچانک آٹھ فروری کو ماسک پہنے مسلح افراد نے اسے اغوا کر لیا۔ شیرگیر کی قیمت کے باوجود اس فارم کی سکیورٹی بہت کم تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیرگر کا خیال رکھنے والے جیمز فٹزجیرالڈ کو اہلخانہ سمیت بندوق کے زور پر یرغمال بنا لیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ شیرگر کو ایک ٹریلر پر چڑھائیں۔
خود جیمز کو ایک وین میں زبردستی بٹھا کر کئی گھنٹوں تک یرغمال بنایا گیا۔ لیکن پھر جیمز کو رہا کر دیا گیا اور انھیں ایک خفیہ پاس ورڈ دیا گیا جو ’کنگ نیپچون‘ تھا۔ اغواکاروں نے کہا کہ وہ اس پاس ورڈ کو استعمال کرتے ہوئے پیسوں کا مطالبہ کریں گے۔
جیمز نے ڈر کے مارے بہت دیر تک کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ لیکن جلد ہی خبر پھیل گئی۔ آئرلینڈ کے دو وزرا کو پولیس سے بھی پہلے اطلاع ملی لیکن اس وقت تک واردات کو اتنی دیر ہو چکی تھی کہ سراغ ملنا مشکل تھا۔
ماسک پہنے مسلح افراد
شیرگر کو کیوں اغوا کیا گیا تھا؟ ایک مفروضہ یہ تھا کہ یہ گھوڑا لیبیا کے سربراہ کرنل معمر قذافی کو پہنچایا گیا ہے اور اس کے بدلے آئرش رپبلکن آرمی نے اسلحہ وصول کیا ہے۔ آئی آر اے پر شک بھی تھا۔
لیکن یہ پہیلی جلد ہی حل ہو گئی۔ 24 گھنٹے کے اندر اسی خفیہ پاس ورڈ کا استعمال کرتے ہوئے اغواکاروں نے دو ملین پاؤنڈ کا مطالبہ کیا۔ اب شیرگر کی ملکیت رکھنے والے سرمایہ کار اس سوال پر تقسیم تھے کہ پیسے دیے جائیں یا نہیں۔
امریکی ٹرینر برائن سوینی اس کے حق میں تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر آپ ایک ایسی ماں سے سوال کریں جس کا بچہ اغوا ہوا کہ پیسے دیں یا نہیں تو میرا خیال ہے کہ جواب ہاں میں ہو گا اور جلدی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک دن بعد بیلفاسٹ میں بی بی سی نیوز روم میں ایک فون آیا جو شیرگر کے اغوا کے مقام سے 130 میل دور تھا۔ ایک نامعلوم شخص نے بتایا کہ شیرگیر کی رہائی کے مذاکرات صرف تین نمایاں صحافیوں کے ساتھ ہوں گے جو گھڑدوڑ پر مہارت رکھتے تھے۔
ان صحافیوں کے لیے پیغام دیا گیا کہ انھیں اگلے دن شام تک بیلفاسٹ یورپا ہوٹل پہنچنا تھا۔ ان میں سے ایک آئی ٹی وی کے ڈیرک تھامپسن تھے جنھوں نے 2013 میں بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل پہنچتے ہی اغواکاروں کا فون آ گیا۔
ان صحافیوں کو بیلفاسٹ سے 30 میل دور ایک فارم پر بلایا گیا جس کے مالک جیریمی میکسویل تھے۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ مشین گن اٹھائے پانچ ماسک بردار افراد نے ان کا راستہ روک کر پوچھا کہ ڈیرک تھامپسن کون ہیں۔ ڈیرک نے جواب دیا تو مسلح افراد نے بتایا کہ وہ پولیس اہلکار ہیں۔ ’میں نے کہا شکر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگلے آٹھ گھنٹوں کے دوران ڈیرک کو دس سے بارہ فون آئے لیکن بات چیت زیادہ آگے نہیں بڑھی کیوں کہ ڈیرک نے مطالبہ کیا کہ شیرگیر کے زندہ ہونے کا ثبوت دیا جائے اور اغواکار پہلے 40 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے رہے۔
اگلی صبح فون کی گھنٹی بجی تو دوسری جانب سے ایک آواز نے کہا کہ ’گھوڑے کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے، وہ مر چکا ہے۔‘
نجومیوں کی مدد
2018 کی بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کے مطابق یہ فون دراصل ایک ڈرامہ تھے کیوں کہ پس منظر میں اغواکار اب اصلی مالک، یعنی آغا خان، سے براہ راست بات چیت کر رہے تھے۔
اغوا کے تین دن بعد ایک حتمی پیغام موصول ہوا کہ ’اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو بات ختم۔‘
اس دوران ایک اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ مرفی نامی ایک شخص نے صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے میں صرف نجومی ہی مدد دے سکتے ہیں۔ دو نجومیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے شیرگر کو خواب میں دیکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
تب تک اس جرم کا اسرار بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔
آئی آر اے کے ایک سابق رکن، جو بعد میں پولیس کے مخبر بنے، نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اغوا کاروں نے شیرگیر کو جلدی مار دیا تھا کیوں کہ وہ ان کے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔
لیکن یہ معاملہ آج تک حل طلب ہے۔
چند ماہ بعد آغا خان نے اپنی ایک نئی کشتی کا نام ’شیرگر‘ رکھا۔
بہت سال بعد انھوں نے کہا کہ وہ شیرگیر کی ڈربی جیت کی فلم سینکڑوں بار دیکھ چکے ہیں۔ ’یہ ایک ایسی یاد ہے جو کبھی نہیں جاتی۔‘


























