وقار یونس ہسرنگا کی طرح جشن کیوں نہیں منا سکتے؟

وقار یونس

،تصویر کا ذریعہ@SajSadiqCricket

کسی بھی کھیل میں جب کوئی کھلاڑی بڑا کارنامہ سرانجام دیتا ہے تو میدان میں اس کے لیے جشن منانا تو لازم ہوتا ہی ہے تاہم کچھ ایسے کھلاڑی بھی ہیں جن کے جشن منانے کے انداز خاصے مشہور ہو جاتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ ایشیا کپ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گذشتہ رات ہونے والے میچ میں ہوا جہاں پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد اور سری لنکا کے ہسرنگا کی ’سپورٹس مین سپرٹ‘ نے دراصل اُن کے جشن کے انداز کو خاصا مشہور کر دیا۔

پاکستان کے سابق فاوسٹ بولر وقار یونس نے بھی میچ کے دوران کمنٹری میں اِس انداز کے بارے میں بات کی۔

وقار یونس نے کیمرے میں اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ تو ہسرنگا کی طرح جشن نہیں منا سکتے کیونکہ ان کی دس انگلیاں نہیں۔‘

وقار یونس کی یہ تصویر جب سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو جیسے ساری بحث کا رُخ اچانک سے وقار یونس کی جانب مڑ گیا۔

صارفین ہسرنگا کے انداز جشن کو بھول کر وقار یونس کے ہاتھ کے بارے میں بات کرنے لگے کیونکہ بہت سے لوگوں کو شاید کل ہی معلوم ہوا تھا کہ وقار یونس کے ایک ہاتھ کی ایک انگلی نہیں ہے۔

بہت سے صارفین نے حیرت کا اظہار کیا کہ وقار یونس کیسے ایک انگلی کے بغیر اِس قدر متاثر کن بولنگ کرتے رہے ہیں۔

عصمد نامی صارف نے لکھا کہ ’انھوں نے پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ وقار یونس کے بائیں ہاتھ کی چھوٹی والی انگلی نہیں۔ ایک حقیقی لیجنڈ جو عظیم ترین بولرز میں سے ایک ہیں۔‘

حنا نامی صارف نے وقار یونس کی انگلی کے بارے میں لوگوں کی حیرت پر مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’جین زی کے لیے یہ قومی صدمے کا لمحہ ہے کہ وقاریونس کی ایک انگلی ہم سے کم ہے۔‘

بہت سے صارفین ایسے بھی تھے جو یہ جاننے کو بے تاب تھے کہ آخر وقار یونس کی انگلی کے ساتھ کیا ہوا؟

عبدالرحمان نامی صارف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے اے آئی ٹول سے یہ پوچھتے نظر آئے کہ وقار یونس کی انگلی کے ساتھ کیا ہوا اور کب ہوا؟

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مجھے آج پتہ چلا کہ وقار یونس کی ایک انگلی نہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا پیدائشی طور پر اُن کی انگلی نہیں یا بعد مییں کچھ ہوا۔‘

شابی نامی صارف نے لکھا کہ ’میں 2003 سے کرکٹ دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے آج پتہ چلا کہ وقار یونس کی ایک انگلی نہیں۔۔‘

تو آخر وقار یونس کے بقول وہ ہسرنگا کی طرح جشن کیوں نہیں منا سکتے؟

نہر میں نہاتے ہوئے انگلی کٹ گئی

جب ابرار احمد نے ہسرنگا کو بولڈ کر دیا تو ان کے ہی انداز میں وکٹ لینے کا جشن منایا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب ابرار احمد نے ہسرنگا کو بولڈ کر دیا تو ان کے ہی انداز میں وکٹ لینے کا جشن منایا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ونندو ہسرنگا سری لنکن آل راؤنڈر ہیں اور اکثر میدان میں جشن منانے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں اور چھوٹی انگلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کے خلاف میچ میں ونندو ہسرنگا نے پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد جبکہ ابرار نے ہسرنگا کا انداز کاپی کیا، جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے ’سپورٹس مین سپرٹ‘ کا چرچا ہونے لگا۔

دوسری جانب اگر وقار یونس کی بات کی جائے تو ان کے بائیں ہاتھ کی چار انگلیاں ہیں، لیکن ان کی ایک انگلی کم کیوں ہے؟

وقار یونس کے مطابق ’ہم تمام دوست نہر میں نہایا کرتے تھے اور اس پر بنے ہوئے ُپل کی جالیاں پکڑ کر اوپر آ جایا کرتے تھے۔ ایک دن میں نہر میں نہانے کے بعد ُپل پر چڑھ رہا تھا کہ میرا پیر پھسل گیا۔ میں نے ُپل کی جالیوں کو پکڑنے کی کوشش کی اور اس دوران میرا ایک ہاتھ چھوٹ گیا۔‘

’میں نے دوسرے ہاتھ سے خود کو گرنے سے بچانا چاہا لیکن انگلی ُاس جالی میں پھنسی اور کٹ گئی۔ میں نیچے آ گرا جس سے میری دو پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں اور میرا آپریشن ہوا تھا۔‘