کرس برین ریپ اور جنسی حملوں کے مجرم پادری: وہ ’صرف زیر جامہ پہن کر خواتین عقیدت مندوں سے بوس و کنار اور جنسی لمس کا تقاضہ‘ کرتے

،تصویر کا ذریعہBBC/Jon Jones/Nine O'Clock Trust
- مصنف, کرس بینز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مقام, Inner London Crown Court
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
اس وقت کے ریورنڈ کرس برین کے گھر میں بغیر اجرت کام کرنے والی نوجوان خواتین کو دی گئی تفصیلی تحریری ہدایات میں ایک اہم بات درج تھی۔
ہوم بیس ٹیم کے نام سے پہچانے جانے والی ان خواتین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ چرچ آف انگلینڈ کے پادری کی ہر ہدایت پر عمل کریں۔
ان کے روزمرہ کاموں میں کھانا پکانا، صفائی کرنا، کپڑوں پر استری کرنا، خریداری کرنا، برین کی کم عمر بیٹی کی دیکھ بھال کرنا اور اس کے کتے کو باہر لے جانا شامل تھا۔ یہ ڈیوٹیاں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن باری باری انجام دی جاتی تھیں۔
ان گھریلو ذمہ داریوں کا مقصد برین کو اس کے مذہبی مشن کے لیے فارغ رکھنا تھا۔ وہ نائن او کلاک سروس (این او ایس) نامی ایک غیر روایتی مذہبی اجتماع کی قیادت کرتے تھے جس نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں شیفیلڈ کے ایک چرچ میں سینکڑوں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کی وجہ ریو کلچر، لائیو موسیقی، ماحولیاتی سرگرمیوں اور مذہبی عبادت کا امتزاج تھا۔
تاہم ہوم بیس ٹیم کی ذمہ داریوں کی اس طویل فہرست میں ان مطالبات کا ذکر نہیں تھا جو برین نے کروکس کے مضافاتی علاقے میں واقع اپنے خاندان کے اینڈ ٹیرس گھر کے اٹاری والے کمرے میں کیے تھے۔
جیوری کو یہ بات ان کے خلاف ریپ اور نازیبا حملوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران بتائی گئی۔
جمعے کو اِنر لندن کراؤن کورٹ نے 69 سالہ کرس برین کو اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ ریپ اور تین دیگر خواتین کے خلاف نازیبا حملوں کے چار الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔
اگست 2025 میں وہ پہلے ہی 17 نازیبا حملوں میں مجرم ٹھہرائے جا چکے تھے۔
لیکن مزید پانچ الزامات پر جیوری کسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی تھی جس کے باعث دوبارہ مقدمہ چلایا گیا۔
برین کو رواں سال کے آخر میں سزا سنائی جائے گی اور انھیں بتایا گیا ہے کہ اسے قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس سزا پر عمل درآمد کے ساتھ ایک ایسے مبلغ کے طویل اور ڈرامائی زوال کا باب مکمل ہو جائے گا جو ایک وقت میں این او ایس کو امریکہ تک پھیلانے اور عالمی سطح پر لے جانے کی تیاری کرنے کے خواہاں تھے۔
جیوری کو بتایا گیا کہ کرشماتی اور سخت مزاج برین، جنھیں ان کے بہت سے پیروکار پیغمبر جیسا مقام دیتے تھے، اپنی جماعت کے افراد کو باقاعدگی سے بلا کر مطالبہ کرتے تھے کہ وہ انھیں ’بستر پر لٹائیں اور جنسی نوعیت پر مبنی مساج دیں۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ برین ایسے لمحات میں اکثر صرف زیر جامہ میں ملبوس ہوتے اور خواتین سے بوس و کنار اور جنسی نوعیت کے لمس کی توقع کرتے۔
خواتین کو خوف لاحق ہوتا تھا کہ اگر انھوں نے انکار کیا تو انھیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا یا وہ خدا کے غضب کا شکار ہو جائیں گی۔
گزشتہ ماہ اس مقدمے میں گواہی دینے والی ایک خاتون نے کہا کہ ’برین کو ناراض کرنا، خدا کو ناراض کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔‘

یہ تحریک 1980 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوئی جب کرس برین، ان کی اہلیہ لِن اور ان جیسے خیالات رکھنے والے چند مسیحی دوست کروکس کے سینٹ تھامس چرچ سے وابستہ ہوئے۔
یہ تقریباً ایک درجن افراد تھے جو ’پریزنٹ ٹینس‘ نامی بینڈ کے گرد جمع تھے۔ وہ اپنے مذہب سے گہری وابستگی رکھتے تھے لیکن چرچ میں عبادت کے روایتی طریقوں سے مطمئن نہیں تھے۔
برین اس وقت بینڈ میں بیس گٹار بجاتے تھے اور گروہ کے غیر رسمی رہنما تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی عیسائی عبادت جسے وہ ’فینسی گالف کلب عیسائیت‘ کہتے تھےان کی ثقافت اور طرزِ زندگی سے میل نہیں کھاتی۔
1984 میں چرچ کے پادری رابرٹ وارن نے اس گروپ کو ہر اتوار رات نو بجے اپنی الگ اور تجرباتی عبادت کی محفل منعقد کرنے کی اجازت دی۔
یہ بینڈ شمالی انگلینڈ میں مختلف مقامات پر پرفارم کر چکا تھا اور مسیحی میلے گرین بیلٹ میں یو ٹو کے پروگرام سے پہلے بھی پرفارم کر چکا تھا۔ بعد میں اس نے اپنی مذہبی راک موسیقی چھوڑ کر شیفیلڈ کے ابھرتے ہوئے الیکٹرانک میوزک سے متاثر ایک نیا انداز اختیار کیا۔
نائن او کلاک سروس (این او ایس) تیزی سے مقبول ہو گئی۔ جدید موسیقی، ویڈیوز، دعا اور رقص کے امتزاج نے لگ بھگ 600 نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
1990 میں بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں ایک عبادت گزار نے کہا کہ ’یہ سب سے دلچسپ چرچ ہے جہاں میں گیا ہوں۔ یہ شیفیلڈ کی بہترین ڈانس نائٹ ہے۔‘
پروگرام میں کہا گیا تھا کہ این او ایس ’چرچ اور لوگوں کے درمیان فاصلے کو کم کر رہی ہے۔‘
پانچ سال بعد ایک ٹی وی دستاویزی فلم میں این او ایس کے ایک رکن نے زیادہ واضح انداز میں بیان میں کہا کہ ’ہم روایتی متوسط طبقے کے چرچ کے طرزِ عمل کو مکمل طور پر مسترد کر رہے تھے۔‘
’برین کے پیروکار انھیں ایک گرو کے طور پر دیکھنے لگے تھے‘
شیفیلڈ کے ڈائیوسیز نے، جب دیکھا کہ ہاؤس میوزک کی گونجتی دھنوں کے درمیان عبادت میں شرکت کے لیے طلبہ چرچ کے باہر تک قطاروں میں کھڑے ہیں، تو بہت حیران کن خوشی محسوس کی۔
اسی وجہ سے انھوں نے برین کے پادری بننے کے عمل کو تیز کر دیا، حالانکہ ان کی تربیت کے نگران نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
کینٹربری کے آرچ بشپ نے برین سے کہا تھا کہ اگر برطانیہ کے ہر قصبے اور شہر میں نائن او کلاک سروس (این او ایس) جیسا ایک اجتماع قائم ہو جائے تو انھیں بہت خوشی محسوس ہو گی۔
یہ عبادتی اجتماعات، جو بعد میں پونڈز فورج لیزر سینٹر میں ایک بڑے مقام پر منتقل ہو گئے، ایک بہت بڑی انتظامی کاوش تھے جن میں 150 تک رضاکار شامل ہوتے تھے، جن میں موسیقار، ساؤنڈ ٹیکنیشن، ڈیزائنرز، سکیورٹی عملہ اور ٹرکنگ ٹیم شامل تھی۔
ہر ہفتے ایک نئی ملٹی میڈیا سروس کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی، اور اسے ممکن بنانے کے لیے رضاکار بغیر معاوضے کے اتوار سے پیر کی صبح کے ابتدائی اوقات تک کام کرتے تھے۔
سینٹ تھامس چرچ میں نائن او کلاک سروس کے ابتدائی برسوں میں اس کی نگرانی پر مامور وارن نے عدالت کو بتایا کہ ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ برین کی ’کنٹرول کرنے والی‘ فطرت کاموں کو مکمل کروانے میں مدد دیتی ہے۔
لیکن جیسے جیسے اس گروپ کی مقبولیت بڑھتی گئی، پادری نے نوٹ کیا کہ اس میں فرقہ نما عناصر ابھرنے لگے تھے۔
وارن نے برین کے پہلے مقدمے میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ برین کے پیروکار انھیں ایک گرو کے طور پر دیکھنے لگے تھے۔
نائن او کلاک سروس کے ارکان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ سادہ زندگی گزاریں اور اپنی آمدنی کا کم از کم 10 فیصد اس قریبی اور پُرجوش برادری کو دیں۔
تاہم عدالت کے علم میں یہ بھی آیا کہ بہت سے لوگ اس سے بھی زیادہ دیتے تھے۔ بعض نے اپنی وراثت اور یہاں تک کہ اپنے گھر بھی ان کے حوالے کر دیے۔
دوسری جانب، برین کے پاس ایک جدید گاڑی، ایک موبائل فون اور ڈیزائنر ملبوسات تھے اور وہ مہنگی تعطیلات پر جاتے تھے۔
جیوری کو بتایا گیا کہ 1994 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ پیک ڈسٹرکٹ میں واقع ایک ازسرِ نو تزین و آرائش کیے فارم ہاؤس میں منتقل ہو گئے تھے جو این او ایس کو عطیہ کیا گیا تھا۔
اس سروس کے ایک رکن نے عدالت کو بتایا کہ ’ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک پُرتعیش طرزِ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دوسرے لوگ انتہائی تنگ دستی میں گزارا کر رہے تھے۔‘
ایک اور رکن، جس کے اندازے کے مطابق اس نے سات برسوں میں 40 ہزار پاؤنڈ عطیہ دیا تھا، نے بتایا کہ جوڑ توڑ کرنے والے برین نے اسے جنوبی افریقہ میں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت نہ کرنے اور اس کے بجائے برادری کے لیے ایک وین خریدنے پر آمادہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNine O'Clock Trust
این او ایس کے سابق ارکان نے عدالت کو بتایا کہ انھیں مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی برادری سے باہر موجود خاندان اور دوستوں سے تعلقات کم کر دیں یا ختم کر دیں۔
جیوری کو بتایا گیا کہ ایک خاتون کو اس وقت برین اور این او ایس کے دیگر رہنماؤں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک ہفتے کے آخر میں اپنے خاندان سے ملنے گھر گئی۔ انھیں کہا گیا کہ ’اب یہی تمھارا خاندان ہے۔ بڑے مقصد کے لیے ابھی قربانی دو۔‘
خواتین نے گواہی دی کہ برین انھیں اپنے اثر و رسوخ میں لانے کے لیے سڑک پر گاڑی روک کر لفٹ کی پیشکش کرتے اور ڈرائیو پر لے جاتے۔
دونوں مقدمات میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس عمل کو کمیونٹی میں ’کرس نیپنگ‘ کہا جاتا تھا۔ بعض مواقع پر وہ خواتین کو چھوتے اور انھیں یہ کہہ کر ڈانٹتے کہ وہ جنسی معاملات کے بارے میں حد سے زیادہ جھجک کا شکار ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ’اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ران پر رکھا اور کہا کہ تم مجھے پسند کرتی ہو نا؟‘
خاتون نے بتایا کہ جب انھوں نے انکار کیا اور اپنا ہاتھ ہٹا لیا تو برین نے چیخ کر انھیں گاڑی سے اتر جانے کو کہا۔
اس خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہو گئیں اور خود ہی اپنی کیتھولک پس ماندگی کو اس کی وجہ سمجھنے لگیں۔
تاہم اسی رات، ان کے بقول، برین کی فون کال آئی۔
خاتون نے کہا کہ ’وہ بہت نرم لہجے میں بات کر رہے تھے اورپھر انھوں نے پوچھا کہ کیا میں انھیں بستر پر سکون سے لٹانے کے لیے آ سکتی ہوں؟‘
ایسا ہمیشہ باہمی رضامندی سے ہوتا: برین کا موقف
اپنے دفاع میں برین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے ارکان کی جانب سے انھیں مساج دینا کوئی غلط بات نہیں تھی۔
اپنے دوسرے مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ ان کے قریبی دوست ان کی تھکن اور دباؤ کم کرنے کے لیے ان کی کمر کا مساج کرتے تھے۔
ان کے بقول یہ تعلق بہت ہی کم مواقع پر جنسی نوعیت اختیار کرتا تھا اور ایسا ہمیشہ باہمی رضامندی سے ہوتا تھا۔
برین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ این او ایس کی نوجوان خواتین ارکان کے جنسی معاملات سے متعلق رویوں پر تنقید کرتے تھے، لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ یہ خود اعتمادی پیدا کرنے کی ایک ’ماڈرن‘ کوشش تھی۔
انھوں نے جیوری کو بتایا کہ ’اس طرزِ فکر نے فیمینزم کی تیسری لہر کی تشکیل میں گہرا اثر ڈالا اور مجھے اس پر کوئی ندامت نہیں۔‘
’میں ہر وقت خوفزدہ رہتی تھی‘
دوسری جانب برین کی طرف سے اپنے بیڈروم میں بلائی جانے والی خواتین نے عدالت میں بالکل مختلف تصویر پیش کی۔
ایک خاتون نے گواہی کے دوران کہا کہ ’اس وقت زندہ رہنے کے لیے مجھے یہی کرنا پڑتا تھا۔ مجھے رضامندی سے فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل نہیں تھی۔ میں ہر وقت خوفزدہ رہتی تھی۔‘
جب برین کے وکیلِ صفائی نے پوچھا کہ وہ بار بار واپس کیوں آتی تھیں تو خواتین نے بتایا کہ انھیں ڈر تھا کہ انھیں اس تحریک سے نکال دیا جائے گا، جو ان کی پوری زندگی بن چکی تھی۔
ایک خاتون نے عدالت کو بتایا کہ ’وہ ایسا شخص تھا جسے چرچ میں عزت حاصل تھی اور چرچ اس کی حمایت کرتا تھا۔ وہ میرا پادری تھا۔ میں اس کے اختیار پر سوال اٹھانے والی کون ہوتی؟‘
ایک اور خاتون نے جیوری کو بتایا کہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں برین نے انھیں بستر پر دھکا دیا اور ان کے ساتھ ریپ کیا۔
ان کے مطابق ان کا برین واش کر دیا گیا تھا اور وہ مالی طور پر بھی اس پر انحصار کرنے لگی تھیں۔
گواہوں نے بتایا کہ ہوم بیس ٹیم کی خواتین، جنھیں بعض لوگ ان کے لباس کی وجہ سے ’لائکرا لَولیز‘ کہتے تھے، برین کے گھر کے تمام کام کرتی تھیں۔
ان کے بقول یہ خواتین غلاموں کی طرح زندگی گزارتی تھیں اور رات کو برین کے دفتر کے فرش پر سوتی تھیں۔
دوبارہ مقدمے کی سماعت کے دوران بھی برین اپنے خلاف پہلے دی جانے والے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں استغاثہ کو متاثرہ خواتین کو دوبارہ عدالت بلانا پڑا تاکہ وہ دوسری بار اپنے ساتھ ہونے والے جنسی حملوں کی تفصیلات بیان کریں۔
دوبارہ گواہی دینے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھیں جن کے بارے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ برین نے ان کے بستر پر ان کے ساتھ جنسی حملہ کیا تھا حالانکہ اس وقت وہ شدید صدمے کی کیفیت میں تھیں، کیونکہ انھوں نے ہِلزبرا ڈیزاسٹر میں جان گنوانے والوں کے دوستوں اور اہلِ خانہ کی لاشیں ڈھونڈنے میں مدد دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSouth Yorkshire Police
نائن او کلاک سروس کا اختتام 1995 میں اچانک اور ڈرامائی انداز میں ہوا، جب اس کے ایک سابق رکن نے اُس وقت کے شیفیلڈ کے آرچ ڈیکن اسٹیفن لو سے رابطہ کر کے خبردار کیا کہ یہ تحریک ایک فرقے کی شکل اختیار کر چکی ہے اور برین اپنی جماعت کے ارکان کا استحصال کر رہا ہے۔
لو، جو بعد میں بشپ بنے، این او ایس کے پُرجوش حامی تھے اور 1992 ہی میں بعض پادریوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو نظر انداز کر چکے تھے۔
تاہم آرچ ڈیکن نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے محسوس کیا تھا کہ برین آہستہ آہستہ خود کو ایک نجات دہندہ جیسی شخصیت سمجھنے لگے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جب ایک مخبر نے انھیں یہ بتایا کہ برین کے پیروکار جنسی نوعیت کے رویّوں کے ذریعے انھیں بستر پر لٹاتے"تھے تو انھوں نے این او ایس کے رہنما کا سامنا کیا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ جب برین پر این او ایس کی 40 تک خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگایا گیا تو انھوں نے اس کے جواب میں لو سے کہا کہ ’مجھے تو لگا تعداد اس سے بھی زیادہ تھی۔‘
مقدمے میں بطور ثبوت پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق چرچ آف انگلینڈ نے برین کو ایک ماہرِ نفسیات کے پاس بھیجا، جسے انھوں نے بتایا کہ وہ ’10 سال کی عمر سے جنسی خیالات کے بارے میں حد سے زیادہ سوچتے رہے ہیں۔‘
1995 میں بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم نشر ہونے سے کچھ عرصہ پہلے برین نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس فلم میں انھوں نے کہا تھا کہ ’چرچ میں ایک پادری کے طور پر مجھے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ میں متعدد خواتین کے ساتھ نامناسب جنسی رویوں میں ملوث رہا ہوں۔‘
اگرچہ اس سکینڈل نے این او ایس کی کمیونٹی کو شدید دھچکا پہنچایا اور ملک بھر کے اخبارات میں نمایاں سرخیاں بنیں، لیکن بعض لوگوں کے لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔
مقدمے کی ایک سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ برین کے خلاف الزامات سامنے آنے سے کئی سال پہلے سینٹ تھامس چرچ کے ایک ملازم نے ایک اجلاس میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا یہ مناسب ہے کہ نوجوان خواتین مختصر لباس میں پادری کے خاندانی گھر آتی جاتی دکھائی دیں۔ تاہم ان کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا گیا۔
چرچ کے کیوریٹ مارک سٹِبے نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے لو کو خبردار کیا تھا کہ برین کسی کے سامنے جواب دہ نہیں رہے اور این او ایس تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ان کے بقول آرچ ڈیکن نے جواب دیا کہ ’ہم شیفیلڈ ڈائیوسیز میں چڑیلوں کی تلاش نہیں کرتے۔‘
وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ سکینڈل اخبارات کی سرخیوں سے غائب ہو گیا تو برین نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور عوامی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
2021 میں، جب این او ایس کے سابق ارکان نے پہلی بار ساؤتھ یارکشائر پولیس سے رابطہ کیا، اس وقت وہ چیشائر کے علاقے ولمزلو میں ایک ڈیزائن کنسلٹنسی چلا رہے تھے۔
1995 کی ایک دستاویزی فلم میں اُس وقت کے بشپ آف شیفیلڈ ڈیوڈ لن نے کہا تھا کہ ’اگر لوگ تحقیقات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی خاص مقصد حاصل ہوگا۔ میرے خیال میں ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوا تھا۔‘
تاہم تقریباً تین دہائیوں بعد برین کے مجرم قرار دیے جانے کے بعد شیفیلڈ کے ڈائیوسیز کا مؤقف مختلف تھا۔ اس نے ’ادارہ جاتی ناکامیوں‘ کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد سیف گارڈنگ ریویو کا اعلان کیا۔
رائٹ ریورنڈ ڈاکٹر پیٹ ولکاکس نے کہا کہ ’جو کچھ ہوا وہ اختیار اور قیادت کے ناجائز استعمال کی ایک ہولناک مثال تھی اور ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘















