آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات بنا طالبان کا میزبان: بن زید سراج الدین حقانی سے کیا چاہتے ہیں؟
- مصنف, منال خلیل
- عہدہ, بی بی سی عربی سروس
افغان طالبان کے اہم رہنما سراج الدین حقانی کو امریکہ نے ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا ہوا ہے اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر کا مالی انعام بھی مختص ہے مگر حال ہی میں حقانی نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے رہنما بن زید سے ملاقات کی اور سعودیہ میں حج کے دوران بھی ان کی ویڈیوز منظرِعام پر آئیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔ عوامی سطح پر2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بیرون ملک کا پہلا دورہ سمجھا جا رہا ہے۔
ابوظہبی کے بیچ پیلس میں حقانی نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔
افغان وفد میں جنرل انٹیلیجنس کے سربراہ عبدالحق وثیق بھی شامل تھے۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر نے افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی سربراہی میں افغان وفد کے ساتھ ’دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے‘ اور مشترکہ مفادات کے حصول پر تبادلہ خیال کیا۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے خطے کے استحکام خاص طور پر اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں معاملات کو آگے بڑھانے اور افغانستان میں تعمیر نو اور ترقی میں معاونت کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی افغانستان کی تعمیر نو اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی معاونت کے حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ کی ہے۔
’خلیفہ صاحب‘ کے نام سے منسوب سراج الدین حقانی کون ہیں؟
سراج الدین حقانی طالبان کے سب سے مضبوط دھڑے یعنی حقانی مجاہدین یا حقانی نیٹ ورک کے بانی سربراہ مولوی جلال الدین حقانی کے صاحبزادے اور جانشین ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں کے کچھ عرصہ بعد بیماری اور ضعیف العمری کی سبب جلال الدین نے سراج الدین کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور یوں اس وقت سے وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔
اپنے والد کے جانشین ہونے کی وجہ سے انھیں ’خلیفہ صاحب‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
اگرچہ طالبان تحریک کا آغاز نوے کی دہائی کے اوائل میں جنوبی افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہوا تھا اور اس وقت سے اس کی قیادت میں قندھاری طالبان کا کافی اثر و رسوخ تھا مگر نائن الیون کے بعد بتدریج افغانستان کے جنوب مشرقی علاقے کے لوئے پکتیا سے تعلق رکھنے والے حقانی خاندان اور اس سے منسلک جنگجوؤں کی امریکہ و اتحادی افواج اور ان کی حمایت یافتہ کابل کی جمہوری حکومت کے خلاف لڑائی میں نمایاں کردار سے سراج الدین حقانی طالبان قیادت میں اہمیت اختیار کرتے گئے۔
سراج الدین حقانی کے پکتیا خطے سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً سابقہ وزیرستان و کرم ایجنسیوں میں مراکز تھے جہاں انھیں پاکستانی طالبان و القاعدہ سمیت دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کی افغانستان کے اندر لڑائی میں حمایت حاصل تھی۔
سراج الدین حقانی نے 19 اکتوبر کو طالبان کے مارے جانے والے ارکان کے لواحقین کے ایک اجتماع سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان میں ہونے والے خودکش حملوں کے بانی ہیں۔
سال 2015 میں ملا عمر کی موت کے بعد سراج الدین حقانی کو افغان طالبان میں کئی اہم ذمہ داریاں ملیں۔
ملا عمر کے جانشین اختر محمد منصور نے انھیں طالبان کا نائب سربراہ اور طالبان کے ملٹری کمیشن کا مسئول مقرر کیا۔
بعد میں انھیں افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے لیے طالبان کا مختارِ کُل بنایا گیا جہاں اُن کے فیصلے سے تمام تقرریاں اور جنگ کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
سراج الدین حقانی کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر تک کا مالی انعام مختص ہے۔
2015 میں سراج الدین حقانی کو طالبان کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا تھا، اس سے پہلے کہ وہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد قائم مقام وزیر داخلہ مقرر ہوئے۔
ملاقات پر امریکی مؤقف
بی بی سی عربی کو دیے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سام واربرگ نے کہا کہ واشنگٹن خطے کے ممالک کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوری طرح سے آگاہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات افغان عوام کی حمایت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور یو اے ای کی جانب سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی حمایت بھی کی جاتی رہی ہے۔
اس کے علاوہ یو اے ای ملک چھوڑنے والوں افغان شہریوں کا میزبان بھی ہے۔
اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان طالبان سے نمٹنے کے لیے امریکی انتظامیہ اپنے تمام تر شراکت داروں کے ساتھ باضابطہ طور پر رابطے میں ہے۔
تاہم واربرگ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سراج الدین حقانی اب بھی امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ اُس کے شراکت دار بھی یقینی بنائیں گے کہ فریقین بین الاقوامی معیار اور قوانین پر عمل کریں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان نے کہا کہ گذشتہ مئی میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ کے متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے کے دوران انھوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2721 کے مطابق سیاسی معاملات کو آگے بڑھائیں۔
متحدہ عرب امارات اور افغانستان کے درمیان تعلقات
2018 میں متحدہ عرب امارات نے تنازعات کو ختم کرنے کے مقصد سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہونے والی کئی ملاقاتوں کی میزبانی کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکی حکام کے ساتھ ساتھ طالبان کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا۔
2021 میں جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے خلیجی ریاستوں نے افغانستان میں پیش رفت کے حوالے سے احتیاط سے کام لیا ہے تاہم افغان طالبان کی حکومت کے ساتھ رابطے کے لیے راستے بھی کھلے رکھے ہیں۔
افغانستان میں اقتدار پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے نکلنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی متحدہ عرب امارات نے اہم کردار ادا کیا اور افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت میں افغان عوام کی نا صرف مدد کی بلکہ انھیں انسانی امداد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
مبصرین کے مطابق معاشرے کے محتلف طبقات سے تعلق رکھنے والے تین لاکھ سے زائد افغان آج امارات میں مقیم ہیں۔
2022 میں یو اے ای ایوی ایشن اتھارٹی نے افغانستان میں بڑے ہوائی اڈوں کا انتظام کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے بین الاقوامی برادری نے انسانی امداد کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا۔
امارات سے تعلق رکھنے والے سٹریٹجک تجزیہ کار امجد طحہٰ کے مطابق طالبان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاملات سیاسی حقیقت پسندی اور درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارت کی جانب سے جاری ان مذاکرات کی ہی بدولت آج سب سلامتی، استحکام، ترقی، اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کی بات کر رہے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات طالبان کی حکومت کے ساتھ حقیقت پسندانہ سلوک کر رہا ہے، جیسا کہ امریکہ اور دیگر حکومتیں تہران، شام یا مغربی کنارے میں لوگوں کے بہتر مستقبل کی خاطر کرتی ہیں۔ افغانستان کی ایک اہم جغرافیائی سیاسی حیثیت ہے کیونکہ یہ مشرقی، مغربی اور جنوبی و وسطی ایشیا کو جوڑنے والا ایک اہم مُلک ہے۔
طحہٰ کا خیال ہے کہ کامیابی کے عناصر میں سے ایک افغان عوام اور افغان معاشرے کے تمام متضاد فریقوں کے درمیان قومی مفاہمت ہے۔
طحہٰ بین الاقوامی معاملات میں متحدہ عرب امارات کی امن کوششوں میں کامیابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جیسا کہ یو اے ای کی جانب سے اریتھیریا، ایتھوپیا، یوکرین اور روس کے درمیان معاملات میں بہتری لانے کی لیے کوششیں کی گئی ہیں۔
افغان سنٹر فار میڈیا اینڈ سٹڈیز کے سربراہ عبدالجبار بحر کا خیال ہے کہ افغانستان میں حکمرانی کی قانونی حیثیت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے کے باوجود بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ طالبان رہنما اب بھی بلیک لسٹ میں ہیں اور اُن پر سفری پابندیاں بھی عائد ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حقانی کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے مقاصد واضح ہیں، جن میں شاید سب سے نمایاں یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت خطے کے ممالک کے ساتھ رابطہ اور بات چیت چاہتی ہے۔ اس کے باوجود کہ بین الاقوامی دُنیا خاص طور پر امریکہ کا افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے پر دباؤ برقرار ہے۔‘
ان کے مطابق ’آج خطے میں افغان حکومت کو اس کی ’تنہائی‘ سے نکالنے کی خواہش کرنے والے موجود ہیں‘ اور افغان حکومت اور خطے کے ممالک کی طرف سے دونوں یعنی ’اسلامی امارات‘ اور ’طالبان کی حکمرانی‘ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘
سیاسیات اور میڈیا کے پروفیسر اور قطر میں بین الاقوامی امور کے محقق ڈاکٹر علی الحیل کہتے ہیں کہ ’متحدہ عرب امارات عرب دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے جس کے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تحفظات ہیں اور حقانی کو یہاں بلا کر وہ ان امور میں اُن کی مدد چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے اس معاملے کو سمجھانے کے لیے متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان دشمنی کا ذکر کیا اور کہا کہ کیسے متحدہ عرب امارات افغانستان کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے یا علاقائی سیاسی توازن حاصل کرنے کے لیے ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔‘
امارات سے سعودی عرب
سراج الدین حقانی کا ’یوں عوامی سطح پر منظرِ عام پر آنا‘ صرف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سرکاری ملاقات تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ حج کی ادائیگی کے دوران حقانی کی تصاویر اور ویڈیوز کا بھی بہت چرچا رہا۔
گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نے بی بی سی کو بتایا کہ حقانی اور دیگر طالبان رہنماؤں کا سعودی عرب کا دورہ حج کے مناسک کی ادائیگی کے لیے تھا۔ انھوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ سعودی عرب مذہبی معاملات پر سیاست نہیں کرتا اور اس سفر کے لیے ایسے افراد کو بھی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے کہ جن پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سفری پابندی عائد ہو۔
صقر بھی سیاسیات اور میڈیا کے پروفیسر اور قطر میں بین الاقوامی امور کے محقق ڈاکٹر علی الحیل کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ علی الحیل کا خیال ہے کہ حج پر جانا ایک فطری امر ہے اور اس معاملے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
افغان سینٹر فار میڈیا اینڈ سٹڈیز کے سربراہ عبدالجبار باہیر نے حقانی سمیت دیگر رہنماؤں کی سعودی عرب میں موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد مملکت کا دورہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ دونوں خلیجی ممالک ان ممالک میں شامل تھے جنھوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی قانونی حیثیت کو پاکستان کے ساتھ تسلیم کیا تھا۔
باہیر کا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر اثرو رسوخ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر جب تنظیم کے وفود کسی واضح فریم ورک کی وضاحت کے بغیر مذاکرات کا طریقہ کار ڈھونڈنے کے لیے پہلے ہی افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
انھوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مستقبل قریب میں افغان حکومت کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے کا اعلان کریں گے، لیکن انھوں نے کہا کہ طالبان حکومت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے اب بھی خطے کے ممالک کو صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ کچھ ممالک ابھی تک بین الاقوامی حساسیت کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔
قطر اس سب کے بیچ کہاں کھڑا ہے؟
قطر 2010 کے اوائل سے طالبان کے سینئر رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد تحریک اور افغان حکومت، امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان سیاسی مصالحت کے لیے ایک دفتر کھولنا تھا۔
افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا میں کردار کے علاوہ، طالبان اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات میں قطر کا کردار ایک اہم ثالث کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔
30 جون کو قطر کا دارالحکومت ’تیسرے دوحہ اجلاس‘ کی میزبانی کرے گا۔ جس میں مختلف ممالک سے افغانستان کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کرنی ہے، اس اجلاس کا اعلان اقوام متحدہ نے کیا تھا اور اسے بین الاقوامی سطح پر بات چیت کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا تھا۔
اس کانفرنس کے حوالے سے افغان سینٹر فار میڈیا اینڈ سٹڈیز کے سربراہ عبدالجبار باہیر کا کہنا ہے کہ اسے افغانستان سے متعلق بین الاقوامی دُنیا کے نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا امریکی خیال ہے اور اس سے پہلے کے اجلاسوں میں ہم کسی ’واضح نتائج تک نہیں پہنچے تھے۔‘
باہیر کے مطابق ’حقانی کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے کے بعد افغان حکومت افغانستان کے مستقبل پر بات چیت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے دیگر ذرائع کی توجہ بھی چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ خود کو صرف اور صرف قطر کے ساتھ جڑے نہیں رکھنا چاہتی۔ حالانکہ قطر نے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور افغانستان کے بارے میں بین الاقوامی اجلاسوں کی میزبانی بھی کی ہے۔
ڈاکٹر علی الہیل خلیجی سیاست میں ’حسد‘ کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ قطر نے امریکہ کے ساتھ معاہدے میں کامیابی حاصل کی اور ہمیشہ علاقائی مسائل کے لیے بات چیت کا راستہ اور غیر جانبدار ثالثی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
یہ تمام پیش رفت خطے کی بدلتی صورتحال کی جانب اشارہ کرتی ہے جس کے نتائج مستقبل قریب میں ظاہر ہوں گے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا یعقوب، جو سابق سپریم لیڈر ملا عمر کے بیٹے ہیں، انھوں نے اس سے قبل دسمبر 2022 میں ابوظہبی کا دورہ کیا تھا۔
سیاسی اور قیام امن کے امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے گذشتہ مئی میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور ’ڈی فیکٹو حکام‘ سے ملاقات کی تھی، جیسا کہ اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں انھیں اس دورے کے بارے میں بتایا تھا، اس کے علاوہ انھوں نے کابل میں سفارتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی۔
ڈی کارلو نے افغانستان کو درپیش مختلف چیلنجز بشمول انسانی حقوق او رخواتین کی تعلیم پر پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا۔