نوجوان مردوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا مگر مدد مانگنے میں ہچکچاہٹ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سیلن گرِٹ
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں ذہنی امراض بڑھتے ہوتے ہوئے نظر آئے ہیں اور نفسیاتی مسائل سے سب سے زیادہ خطرہ لڑکوں اور نوجوان مردوں کو ہے۔
امریکہ میں سنہ 2023 میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد مرد نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مدد نہیں طلب کرتے۔
ہمیں اس بارے میں زیادہ نہیں معلوم کہ نوعمر اور نوجوان مرد کب مدد طلب کرتے ہیں۔ یورپی چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائکیاٹری جرنل کے مطابق ’نابالغ لڑکوں اور نوجوان مردوں میں خودکشی کی شرح بڑھ رہی ہے اور ان کی طرف سے نفسیاتی مدد مانگے کا رجحان بھی کام ہے۔‘
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لڑکے اور نوجوان مرد نفسیاتی مدد مانگنے سے کترا کیوں رہے ہیں اور سکولز، والدین اور فیصلہ ساز اس صورتحال میں کیا مدد کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خاموشی میں تکلیف برداشت کرنا
عالمی ادارہ صحت کے مطابق گذشتہ برس ہر سات میں سے ایک نوعمر لڑکا (10 سے 19 برس کی عمر کے لڑکے) کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 15 سے 29 کے درمیان کی عمر کے مردوں میں ڈپریشن، اضطراب اوردیگر نفسیاتی مسائل پائے جاتے ہیں اور خودکشی ان کی اموات کی تیسری سب سے بڑی وجہ ہے۔
لانسیٹ سائیکیاٹری کمیشن کے مطابق 75 فیصد مردوں میں ذہنی امراض کی ابتدا 25 برس کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے اور اس میں سب سے زیادہ اضافہ 15 برس کی عمر تک ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ نوجوان افراد ظاہری طور پر صحت مند ہوتے ہیں لیکن ذہنی طور پر وہ مشکلات کا شکار ہے اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ نفسیاتی طور پر ایک ’خطرناک مرحلے‘ سے گزر رہے ہیں۔
لیکن ضرورت کے باوجود بہت سارے لڑکے اور نوجوان مرد دستیاب ذہنی مدد حاصل نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرِ نفسیات اور آسٹریلیا کے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس فور یوتھ مینٹل ہیلتھ سے منسلک پروفیسر پیٹرک میکگوری کہتے ہیں کہ ’گذشتہ 15 سے 20 برسوں میں ہم نے ذہنی امراض میں مبتلا لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں ایک ہوشربا اضافہ دیکھا ہے لیکن نوجوان مردوں میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد طلب کرنے کا رُجحان کم ہے۔‘
اس ہچکچاہٹ کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان مرد اسی وقت مدد طلب کرتے ہیں جب وہ کسی بڑے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ جذباتی مضبوطی کے حوالے سے رائج معاشرتی اقدار اور خود انحصاری اکثر لڑکوں کو نفسیاتی مدد مانگنے سے روکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف سٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکوں نے اس بات پر یقین کرلیا ہے کہ مدد مانگنا دراصل کمزوری کی ایک نشانی ہے۔
کینیڈا میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے منسلک ماہرِ نفسیات ڈاکڑ جون کہتے ہیں کہ بہت سارے لڑکے دراصل مدد طلب کرنے کو ناکامی کے مترادف سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’معاشرے میں نام نہاد مرادنگی کے حوالے سے بہت سارے نظریات پائے جاتے ہیں کہ مرد کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں: ہمیشہ مضبوط رہیں، کنٹرول میں رہیں، کوئی کمزوری نہ دکھائیں اور اپنے مسائل خود حل کریں۔‘
’یہ تمام چیزیں جذباتی زندگی اور مدد کے بیچ رُکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔‘
ڈاکٹر جون کہتے ہیں کہ مردوں کو اگر ایک الگ طریقے سے مدد دی جائے تو ماہرین اور متاثرہ افراد کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہچکچاہٹ کیسے کم کی جائے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ معاشرتی اقدار اور کمزور نظر آنے کے ڈر کے علاوہ بھی بہت سے ایسے عوامل ہیں جو لڑکوں کو نفسیاتی مدد حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔
بہت سارے لڑکوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان میں ذہنی امراض کی علامات پائی جاتی ہے یا اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مدد کیسے طلب کی جائے اور وہ اکثر باقاعدہ کلینک کی طرف جانے کو آرام دہ بھی تصور نہیں کرتے۔
بیشتر لڑکے یا نوجوان مرد باقاعدہ مدد طلب کرنے پر دوستوں سے بات کرنے، گمنامی میں رہ کر مدد طلب کرنے، آن لائن سپورٹ حاصل کرنے اور ایسے پلیٹ فارمز کو فوقیت دیتے ہیں جہاں مردوں کے لیے دوستانہ ماحول ہو اور مدد مانگنے کے عمل کو مضبوطی کی علامت سمجھا جائے۔
ان عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ کلینکس نے نفسیاتی علاج کے پُرانے طریقہ کار کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا میں اوریجین نامی تنظیم نے نوجوان مرد اور خواتین کے لیے ایک ایسی جگہ بنائی ہے جہاں غیررسمی ماحول میں بات چیت ہو سکے۔
اوریجین کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹرک میکگوری کہتے ہیں کہ ’نوجوان مرد شاید کنسلٹنگ رومز میں رسمی بیٹھک کو آرام دہ نہیں سمجھتے۔ وہ شاید وہاں بیٹھ کر انٹرویو دینا نہ پسند کریں۔‘
’شاید وہ غیررسمی گفتگو کو ترجیح دیتے ہوں جہاں وہ کچھ اور بھی ساتھ کر رہے ہوں جیسے کہ چہل قدمی، سنوکر یا ٹیبل ٹینس کھیلنا۔‘
سوشل میڈیا: دوست یا دشمن؟
سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے: یہ نوجوانوں کو تنہا بھی کر سکتی ہے اور انھیں انتہائی مفید معلوم بھی فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن اس کے ذریعے نوجوان کے ذہنوں میں نام نہاد مردانگی سے متعلق نقصان دہ نظریات بھی آ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مومبر انسٹی ٹیوٹ آف میز ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سمون رائس کہتے ہیں کہ ’نوجوان مردوں کی اکثریت اب یا تو مردوں سے رابطے بڑھا رہی ہے یا پھر مردانگی سے متعلق انفلوئنسر مواد کو دیکھ رہی ہے۔‘
مومبر کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کا مواد دیکھنے والے بیشتر نوجوان مردوں کو دیگر مردوں کے مقابلے میں زیادہ نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔
تاہم ڈاکٹر رائس کہتے ہیں کہ یہ تمام مواد منفی نہیں ہوتا بلکہ سوشل میڈیا ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کمیونیٹیز کو قریب لایا جا سکے، اچھی صحت اور ذہنی صحت فراہم کی جا سکے اور نقصان کے پہلو کو کم کیا جا سکے۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ایلگوریتھم ان کے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں کیونکہ ان کی جانب سے جو مواد تقسیم کیا جاتا ہے وہ زیادہ تر وائرل ہوتا ہے اور اس مثبت مواد کو اس ایلگوریتھم کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔
آکسفرڈ یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر مینا فضل اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ نوعمر بچوں اور ان کے والدین کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کا ایلگوریتھم کیسے کام کرتا ہے۔ انھوں نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوحوان افرد کی ایک تہائی تعداد گذشتہ مہینے سوشل میڈیا پر نقصان دہ مواد دیکھ چکی ہے۔
تاہم پروفیسر مینا کہتی ہیں کہ صرف سوشل میڈیا ہی ان مسائل کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ ایسے سوالات کا جوابات حاصل کرنے کے لیے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’خاندانوں اور برادریوں کے ڈھانچے ڈرامائی طریقے سے بدل رہے ہیں اور سوشل میڈیا بہت سارے نوجوان افراد کے لیے سپورٹ کا باعث بن سکتا ہے۔‘
تنہائی
لڑکوں کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اسے تنہائی کہتے ہیں۔
مئی میں شائع ہونے والے گیلپ کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 15 سے 35 برس کے مردوں کی 25 فیصد تعداد نے یہ محسوس کیا تھا کہ انھوں نے گذشتہ روز دن کا ایک بڑا حصہ تنہائی میں گزارا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر پیٹرک کہتے ہیں کہ ہیڈز اپ گائیز کے ڈیٹا کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی اور مقصد کی عدم موجودگی نوجوان مردوں کے اضطراب کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکوں کو دوستیاں بنانے اور کھل بولنے کے لیے محفوظ ماحول دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایسا صرف تھراپی سیشینز میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس ماحول کی روز مرہ زندگی میں بھی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق مینٹور شپ پروگرامز اور سپورٹ گروپس اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں اور کلاس رومز میں بھی ان موضوعات پر بات ہو سکتی ہے۔
سکولوں کا کردار
پروفیسر مینا فضل کہتی ہیں کہ ’یہ ایک مثبت رجحان ہے کہ جب نوجوان لڑکے مدد مانگ لیتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔‘
’اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ مدد کہاں فراہم کی جا رہی ہے: یہ سکول بھی ہوسکتا ہے، سوشل سروسز یا کمیونیٹی بھی ہوسکتی ہے،‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکوں کی ذہنی صحت کی بہتری میں سکول کے کلچر کا بھی کردار ہوتا ہے۔ پڑھائی کا دباؤ، خاص کر ایسی صورتحال میں جب لڑکے لڑکیوں سے پیچھے رہ جائیں، لڑکوں میں اضطراب اور غم و غصہ پیدا کر سکتا ہے۔
پروفیسر مینا فضل کہتے ہیں کہ سکولوں کو ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔
’دنیا میں بچوں کی اکثریت کو سکول تک رسائی حاصل ہے۔ شاید یہ وہ جگہ ہو سکتی ہے جہاں صرف ہم بچوں کی پڑھائی کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ انھیں بالغان خصوصاً لڑکوں کی ڈویلپمنٹ کا ذریعہ بنائیں۔ ‘












