’جعلی شہادتیں بنانے پر‘ جیو گروپ کے خلاف کارروائی کا آغاز پاکستان سے آج ہی ہو گا، فواد چوہدری

خانہ کعبہ، گھڑی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہTWITTER

تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان کے نشریاتی ادارے جیو گروپ کے خلاف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تحفے میں ملی گھڑی اور اس کی فروخت سے متعلق پروگرام میں مبینہ طور پر ’جعلی شہادتیں بنانے‘ کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان میں قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے گذشہ روز جیو نیوز، اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور 'عالمی سطح پر مطلوب' عمر فاروق ظہور کے خلاف برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

منگل کی شب جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں عامر فاروق نامی کاروباری شخصیت نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے عمران خان کو دیا جانے والا خصوصی گفٹ سیٹ، جس میں ایک گھڑی بھی شامل تھی، سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح خان سے دبئی میں دو ملین ڈالر نقد رقم کے عوض خریدا۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے اس دعوے کر رد کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ تحفے میں دی گئی گھڑی عمر فاروق ظہور نامی شخص کو نہیں بلکہ پاکستانی مارکیٹ کے ایک ڈیلر کو پانچ کروڑ ستر لاکھ روپے میں فروخت کی تھی۔

آج فواد چوہدری کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا گیا کہ ’جیو گروپ نے گوشہ خانہ کیس سے متعلق اپنے پروگرام اور خبریں لندن میں خود ہی سنسر کر رکھی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح صرف پاکستانی عدالتوں سے ڈیل کرنا ہو گا، چلیں شروع پاکستان سے کرتے ہیں، جعلی شہادتیں بنانا اور پروگرام کرنے پر آج سے ہی کاروائی کا آغاز ہو گا۔‘

سابق وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ روز ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہینڈلرز کی حمایت سے جیو اور خانزادہ نے بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

تحریک انصاف نے سعودی ولی عہد سے ملنے والی گھڑی کے بارے میں کیا کہا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے ملنے والے تحفے کی فروخت کے بارے میں اس قدر کُھل کر بات کی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اس گھڑی کی قیمت کا تعین کابینہ ڈویژن نے 10 کروڑ روپے کے قریب کیا اور رولز کے تحت قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے یہ گھڑی توشہ خانہ سے عمران خان کی ملکیت میں چلی گئی۔

’خان صاحب نے اس گھڑی کو مارکیٹ میں پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔۔۔ عمر ظہور نام کے کسی شخص کو یہ گھڑی نہیں بیچی گئی۔ نہ ہی یہ گھڑی بیچنے کے لیے فرح گجر کے حوالے کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے عمر ظہور کے خلاف دبئی میں اور جنگ گروپ کے خلاف لندن میں قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

رہنما پی ٹی آئی اور سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا دبئی کی ایک چھوٹی سی دکان سے گھڑی کی قیمت کا تعین 12 ملین ڈالر کروایا گیا اور وہ بھی جیو نیوز پر نشر ہونے والے شو سے کچھ دیر پہلے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دبئی میں گراف کی کئی دکانیں ہیں۔ آئیں وہاں بیٹھ کر قیمت کا تعین کر لیتے ہیں۔‘

زلفی بخاری نے کہا کہ ’میری اطلاع کے مطابق جس ڈیلر کو یہ گھڑی پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں فروخت کی گئی اس نے شاید ان حضرات (عمر فاروق ظہور) کو اسے چھ کروڑ 10 لاکھ میں فروخت کیا ہے۔‘

گھڑی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا عمر فاروق ظہور کے پاس موجود گھڑی وہی تحفہ ہے جو عمران خان کو سعوی ولی عہد سے ملا تھا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جس ڈیلر کو عمران خان نے گھڑی فروخت کی اس کا نام ’میں نہیں لینا چاہتا کیونکہ وہ ڈر کے مارے ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ جب ہماری حکومت گئی تو ایف آئی اے نے اس ڈیلر کو بھی اٹھا لیا تھا۔‘

زلفی بخاری نے بتایا کہ ان صاحب نے بغیر کسی رسید کے دو ملین ڈالر دے دیے اور ان کے پاس کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ ان کی فرح سے ملاقات ہوئی تھی۔ ’میں اس ڈیلر کا نام اس لیے نہیں لے رہا کہ یہ اس کے ساتھ وہ نہ ہو جو ارشد شریف کے ساتھ ہوا ہے۔‘

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ اس گھڑی اور سیٹ کی اصل قیمت کا تعین قوم کے سامنے رکھا جائے گا اور اس ڈیلر سے بھی پتا چل جائے گا کہ گھڑی آگے کس کو فروخت کی گئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آرمی چیف اور وزرا اعظم سمیت حکومتی عہدیداران کو جو تحفے گذشتہ 30 سال میں ملے ہیں اس کی توشہ خانہ کی فہرست منظر عام پر لائی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ عمر ظہور کے خلاف ناروے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مالی جرائم اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے ان پر بچوں کی کسٹڈی کا کیس کر رکھا ہے۔

فرح کے ذریعے گھڑی مجھے فروخت کی گئی: عمر فاروق ظہور

جیو نیوز پر منگل کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں دبئی کی کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے ملنے والی جو گھڑی فروخت کی گئی، وہ انھوں نے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح کے ذریعے خریدی۔

عمر فاروق نے اینکر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ فرح خان یہ گھڑی لے کر اُن کے پاس آئیں، جس کی تصدیق انھوں نے گھڑی بنانے والی کمپنی سے کروانے کے بعد اس وقت کے حساب سے دو ملین ڈالر کی رقم ادا کی۔

یاد رہے کہ اس پروگرام کے نشر ہونے کے بعد فرح خان کے شوہر اس مبینہ ملاقات کی تردید کر چکے ہیں۔

عمر فاروق کے مطابق یہ گھڑی سعودی ولی عہد نے عمران خان کو بطور تحفہ دی تھی۔

عمر فاروق ظہور نے دعویٰ کیا کہ فرح کو اس گفٹ سیٹ کے بدلے ’چار، پانچ ملین ڈالر کی امید تھی۔۔۔ مگر میں نے انھیں دو ملین ڈالر دیے تھے۔‘

ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ انھوں نے براہ راست یہ گھڑی خریدی اور سب سے بڑا ثبوت ان کے پاس یہی ہے کہ یہ گھڑی ان کے پاس پڑی ہے۔

ان کے مطابق یہ گفٹ سیٹ 10 کروڑ کا ظاہر کر کے 28 کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا۔ ’میرے لیے یہ گھڑی خریدنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد گھڑی ہے جو خانہ کعبہ ایڈیشن ہے۔۔۔ گراف دنیا کے ٹاپ جیولرز میں سے ہے۔ ان کی کعبہ ایڈیشن گھڑی ایسی چیز نہیں جسے آپ دوبارہ دیکھ سکیں گے۔‘

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’یہ دنیا میں ایک ہی پیس ہے جس پر خانہ کعبہ بنا ہے۔ گراف والے کہہ رہے ہیں کہ یہ گھڑی ایک ارب سے اوپر کی ہے۔ اس پر جڑے ہیروں کی باقاعدہ خصوصیات دی گئی ہیں۔‘