’غزوہِ ہند‘ کے سوال پر’انڈیا مخالف فتویٰ‘: انڈیا میں بچوں کے قومی کمیشن کا نوٹس اور دارالعلوم دیوبند کو بند کرنے کے مطالبات

دارالعلوم دیوبند
،تصویر کا کیپشندارالعلوم دیوبند گذشتہ ڈیڑسو سال سے دینی تعلیمات فراہم کر رہا ہے

انڈیا کے معروف تعلیم ادارے دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے مبینہ ’انڈیا مخالف‘ فتوے پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر) نے سخت اعتراض کیا ہے۔

قومی کمیشن نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اتر پردیش کے سہارنپور ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ کو تحقیقات کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔

این سی پی سی آر کے خط کے مطابق مدرسہ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ ’غزوہِ ہند‘ کو درست قرار دیتا ہے اور یہ ’ملک کے خلاف نفرت کا باعث بن سکتا ہے۔‘

جب سے کمیشن کا خط میڈیا میں آیا ہے انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بازگزشت سنائی دے رہی ہے اور اس کے بعد سے کئی ہندو تنظیموں کے سربراہ نے دارالعلوم دیوبند کو بند کرنے کی مانگ بھی کر ڈالی ہے۔

بہر حال کمیشن نے اپنے خط میں لکھا: ’کمیشن کو دارالعلوم دیوبند مدرسہ کی ویب سائٹ پر ایک اور قابل اعتراض مواد ملا ہے۔۔۔ فتوے میں ہندوستان پر حملے (غزوہ ہند) کے بارے میں بتایا گیا ہے اور جو بھی اس میں شہید ہو گا وہ شہید اعظم کہلائے گا۔ دارالعلوم دیوبند اسلامی تعلیم کا ایک علمی ادارہ ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں مدارس اس سے منسلک ہیں۔ اس طرح کے فتوے بچوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف نفرت سے دوچار کر رہے ہیں اور بالآخر وہ غیر ضروری ذہنی یا جسمانی تکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔‘

اس کے بعد سے دارالعلوم دیوبند سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور کوئی اس پر بلڈوزر چلانے کی بات کر رہا تو کوئی دیوبند کے پرنسپل مولانا ارشد مدنی کا بیان چلا رہا ہے جس میں انھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں دیوبند اور علمائے دیوبند کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔

مولانا ارشد مدنی

،تصویر کا ذریعہarshadmadani.com

،تصویر کا کیپشنمولانا ارشد مدنی دارالعلوم دیوبند میں پرنسپل ہیں اور جمیعۃ علمائے ہند کے سابق صدر ہیں

بہر حال ہم نے اس کے متعلق جمیعتِ علمائے ہند کے سابق صدر اور دارالعلوم دیوبند کے پرنسپل مولانا ارشد مدنی سے فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے کہا وہ فی الحال دہلی میں ہیں لیکن یہ ان کے علم میں ہے کہ حکام نے اس بابت دارالعلوم سے رابطہ کیا ہے اور انھیں اس کا تحریری جواب دے دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے یہ سنہ 2009 میں پوچھا گیا ایک سوال ہے جس کا جواب دارالعلم دیوبند نے دیا ہے۔ یہ نہ کوئی فتوی ہے اور نہ کسی مذہبی امور کے متعلق سوال کا جواب ہے۔

بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کسی شخص نے پوچھا تھا کہ کیا ’غزوۃ ہند‘ کے متعلق کوئی حدیث ملتی ہے تو دیوبند نے اس کا جواب دیا تھا کہ اس کے متعلق حدیث ملتی ہے اور یہ فلاں کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ تو بس اس طرح ہے کہ کوئی یہ پوچھے کہ ٹرین کس پلیٹ فارم پر آ رہی ہے تو آپ بتا دیں کہ ٹی وی سکرین پر اس کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔‘

دارالعلوم دیوبند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندارالعلوم دیوبند کا کیمپس

بی بی سی نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم یعنی وائس چانسلر مولانا ابوالقاسم نعمانی سے اس کے متعلق بات کی تو انھوں نے دیوبند سے فون پر کہا حکام نے ان سے رابطہ کیا تھا اور انھوں نے اس کا تحریری جواب دے دیا ہے لیکن وہ اسے ابھی منظر عام پر نہیں لا سکتے۔

البتہ انھوں نے بتایا کہ اس میں اعتراضات کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جس ’غزوہِ ہند‘ کی بات حدیث میں کئی گئی ہے وہ محمد بن قاسم کی ہندوستان پر لشکر کشی (712عیسوی) کے ساتھ پورا ہو گيا اور اس کا طلاق آئندہ پر نہیں ہے اور نہ ہی بچوں کو اس ضمن میں کسی قسم کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بازگشت

دریں اثنا سوشل میڈیا پر ایک ہندو تنظیم کے سربراہ کی اپیل بھی گشت کر رہی ہے جس میں انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے گزارش کی جارہی ہے کہ دارالعلوم دیوبند پر بلڈوزر چلائیں اور اس میں انھیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اگر وہ نہیں چلاتے تو پھر ہندوؤں کو یہ کام کرنا چاہیے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

اسی طرح زی نیوز پر بی جے پی کے ترجمان منیش شکلا نے کہا کہ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کے دور میں قانون کا راج چلے گا نہ کہ شریعت کا۔

اس حوالے سے مولانا ارشد مدنی کا ایک پرنا بیان بھی چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’پہلے ہم ملک کی آزادی کے لیے لڑے، اب لگتا ہے کہ ہمیں آزادی کے تحفظ کے لیے لڑنا ہوگا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

فردوس فضا نامی ایک صارف نے لکھا: ’ذرا سی بات کا بنا ڈالا ہے افسانہ۔۔۔ اسے کہتے ہیں بات کا بتنگڑ بنانا۔۔۔ دارالعلوم کے نام پر پروپگینڈا پھیلا جا رہا ہے۔ دیکھ لیجیے ویڈیو۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

اور اس کے ساتھ انھوں نے دو نیوز چینلز کے چھوٹے چھوٹے کلپس بھی شیئر کیے ہیں۔

انڈین مسلم فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب جامعی نے ایک ٹویٹ میں اپنا موقف پیش کیا ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ’غزوہِ ہند محض ایک پروپیگینڈا ہے جو وقت وقت پر ہندتوا کی تنظیم اور پاکستانی میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ دارالعلوم نے جس سیاق و سباق میں فتوی دیا ہے اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گيا ہے۔ غزوۂ ہند دراصل پاکستانی میڈیا کا پیدا کردہ ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں فروری کے پہلے ہفتے میں انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی میں ایک مسجد اور مدرسے کو منہدم کیے جانے کے بعد ہنگاموں میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا پر وہاں کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل پاپولر فرنٹ آف انڈیا یعنی پی ایف آئی پر بھی غزوہِ ہند کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ پی ایف آئی کے جنرل سیکریٹری انیس احمد نے بی بی سی کے نمائندے فیصل محمد علی سے بنگلور میں بات کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا تھا۔

جون جولائی سنہ 2022 میں پٹنہ پولیس نے کہا ہے کہ شہر میں چھاپے کے دوران اسے پی ایف آئی کی دستاویز ملی ہے جس کا عنوان ہے ’انڈیا 2047، اسلامی حکومت کی جانب‘۔ پولیس کے مطابق ’اس میں مسلمانوں کے ایک گروہ کی مدد سے اکثریتی برادری کو کچلنے اور انڈیا میں اسلام کی شان و شوکت کو بحال کرنے کی بات کی گئی ہے۔‘

انیس احمد نے کہا تھا کہ ’نہ تو ہمارے پاس غزوۂ ہند کا کوئی تصور ہے، نہ ہم انڈیا کو ایک اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہندوؤں کا قتل ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ’انڈیا 1947، لوگوں کو با اختیار بنانا‘ اس عنوان سے ایک دستاویز ہے جسے 'امپاور انڈیا فاؤنڈیشن` نے تیار کیا تھا اسے انڈیا کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ کے موقعے پر ممتاز جج جسٹس راجندر سچر نے دہلی میں ریلیز کیا تھا۔‘

بہر حال ابھی تک دیوبند کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے اور دیوبند کی جانب سے داخل کیے جانے والے جواب پر بھی کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔