آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اس کا آغاز ایک احتجاج سے ہوا، لیکن اب یہ انقلاب کی شکل اختیار کر رہا ہے‘: ایران کے احتجاج میں ہلاک ہونے والے مزید کئی افراد کی شناخت
- مصنف, بی بی سی
- عہدہ, مانیٹرنگ اینڈ وژئیل جرنلزم
’اگر میں باہر جا کر احتجاج نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا؟‘ یہ الفاظ منوع مجیدی نے اپنی موت سے قبل اپنے خاندان والوں سے کہے۔
منوع کی عمر 62 سال تھی جب انھوں نے ایران کے مغرب میں کرمانشاہ کی ایک سڑک پر سکیورٹی فورسز نے گولی مار دی۔ ان کی بیٹی کے مطابق انھیں 178 سے زیادہ بندوق کے چھروں سے ہدف بنایا گیا۔ وہ ہسپتال پہنچ کر فوت ہو گئیں۔ ’
منوع کی موت کے بعد ان کی بیٹی رویا پیرائی نے اپنی ماں کی قبر کے ساتھ لی گئی ایک تصویر انسٹاگرام پرشیئر کر دی۔ اس تصویر میں ان کا سر منڈوا ہوا ہے، انھوں نے ماتم اور سرکشی کی علامت کے طور پر اپنے ہی بال پکڑے ہوئے تھے۔ یہ تصویر تیزی سے وائرل ہو گئی۔
رویا نے بی بی سی 100 ویمن کو بتایا کہ ’میں جانتی تھی کہ میں بات نہیں کر سکتی۔ میں کم از کم اتنا تو بتا سکتی تھی کہ یہ نظام کتنا ظالمانہ ہے۔‘
رویا کی والدہ ملک بھر میں ان سینکڑوں ایرانیوں میں سے ایک ہیں جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔
22 برس کی کرد خاتون کو مبینہ طور پر سر ڈھانپنے اور خواتین کے لیے لازمی حجاب پر سخت ڈریس کوڈ کی پابندی نہ کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
ریاستی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، لیکن ان کے اعداد و شمار میں سیکورٹی فورسز اور حکومت کے حامی لوگ شامل ہیں۔
ایران کے انسانی حقوق کے مطابق 29 نومبر تک کم از کم 448 افراد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں، جن میں 29 خواتین اور 60 بچے شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران ہیومن رائٹس کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی اصل تعداد ’یقینی طور پر زیادہ‘ ہے کیونکہ ان میں صرف ایسے کیسز شامل ہیں جن کی وہ تصدیق کر سکے ہیں اور انھیں ہلاکتوں کی بڑی تعداد میں رپورٹس موصول ہوئی ہیں، جن کی وہ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مرنے والوں کی شناخت
فورینزک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے بی بی سی کی ٹیمیں ہلاک ہونے والوں میں سے 75 سے زیادہ کی شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
سرکاری ریکارڈ، آن لائن سائٹس اور سوشل میڈیا کو تلاش کرنے سے ہمیں موت کے سرٹیفکیٹ، جنازوں کی تصاویر اور میت کی دلخراش تصاویر ملیں۔ ہم نے رشتہ داروں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے گروپوں سے بھی بات کی تاکہ ہمیں ملنے والی معلومات کی تصدیق کی ۔
ہماری تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرنے والوں میں بہت سی خواتین ہیں، اور ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد پسماندہ نسلی اقلیتی گروہوں سے آتی ہے۔ مرنے والوں میں سات سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔
ہم نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہلاک ہونے والے کچھ لوگ مظاہروں میں براہ راست شامل ہونے کے بجائے وسیع پیمانے پر ہونے والے تشدد اور بدامنی کا نشانہ بن گئے۔
اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کی زیادہ اموات ہوئیں
رویا کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب کوئی احتجاج نہیں ہے۔ یہ ایک احتجاج سے شروع ہوا تھا، لیکن ایک انقلاب کی شکل اختیار کر رہا ہے۔‘
رویا کا تعلق کُرد کمیونٹی سے ہے۔ ہماری تحقیق نے کُرد علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، جیسے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان شامل ہیں جہاں بلوچ بستے ہیں اور یہاں اموات کا سب سے زیادہ تناسب دیکھا گیا ہے۔
ہم نے جن ناموں کی تصدیق کی ان میں سے 32 افراد کا تعلق کُرد علاقوں سے تھا جبکہ 20 کا تعلق صوبہ سیستان بلوچستان سے تھا۔
سیستان بلوچستان ایران کے غریب ترین اور قدامت پسند صوبوں میں سے ایک ہے۔ زیادہ تر بلوچ افراد کا تعلق ایران کی سنی اقلیت سے ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق انھیں مذہب اور نسل دونوں کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
اپنی قدامت پسندی کے باوجود حالیہ ہفتوں میں خواتین صوبائی دارالحکومت زاہدان میں احتجاج میں شامل ہوئی ہیں۔ آن لائن ویڈیوز میں، پورے جسم کا پردہ، چادر، پہننے والی خواتین کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’چاہے حجاب کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر، انقلاب، انقلاب۔‘
سات برس کی ہستی ناروئی کا تعلق بھی بلوچ کمیونٹی سے تھا۔ اس تصویر میں انھیں روایتی بلوچی لباس پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
30 ستمبر کو وہ نماز جمعہ کے وقت اپنی دادی کے ساتھ زاہدان میں تھیں۔ دن کی سوشل میڈیا فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز احتجاج کا جواب ہجوم پر گولی چلا کر دے رہی ہیں۔
مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق آنسو گیس کے ڈبے سے ہستی کے سر پر آ کر لگا، جس سے اس کا دم گھٹ گیا۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ان کے دو بھائی تھے، اور اپنی موت سے ایک ہفتے بعد وہ سکول میں داخلہ لینے کی اہل ہوتی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جس دن ہستی کی موت ہوئی اس دن کم از کم 66 افراد مارے گئے جن میں دس بچے بھی شامل تھے، جن کا تعلق بلوچ اقلیت سے تھا۔ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے یہ سب سے مہلک دن ثابت ہوا۔ انسانی حقوق سے متعلق جدوجہد کرنے والے کارکنوں نے اسے ’بلڈی فرائیڈے‘ کا نام دیا ہے۔
مانیٹرنگ اور وژئیل جرنلزز
بی بی سی کی ٹیموں کے لیے صوبہ سیستان بلوچستان میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت دریافت کرنے میں ایک اور پیچیدگی تھی۔
ایران کے سب سے زیادہ قدامت پسند صوبوں میں سے ایک ہے اور یہاں عام طور پر لوگ آن لائن کم دستیاب ہوتے ہیں، تقریباً کوئی بھی باقاعدہ سوشل میڈیا پوسٹ نہیں کرتا ہے، جس سے وہاں مرنے والوں کی شناخت ممکن ہو سکے۔ مثال کے طور پر ہستی کے خاندان نے اپنی بیٹی کے بارے میں سرکاری میڈیا کے علاوہ عوامی طور پر کوئی بات نہیں کی۔
صوبے میں انٹرنیٹ کا کمزور انفراسٹرکچر بھی ہے، جہاں چند لوگ ہی گھریلو براڈ بینڈ کنکشن تک رسائی حاصل کرنے یا ان پر انحصار کرنے کے قابل ہیں۔
بی بی سی نے صوبہ سیستان بلوچستان میں جن 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کی سوشل میڈیا یا دیگر آن لائن اکاؤنٹ موجود نہیں تھا۔ ان کی پوسٹ مارٹم تصاویر ہی ان کی شناخت کا واحد بصری ریکارڈ تھا، جسے ہم تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔
سوشل میڈیا کا کردار
ملک میں کہیں اور زیادہ انٹرنیٹ استعمال والے علاقوں میں، سوشل میڈیا نے اموات کو وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔
مغربی آذربائیجان صوبے کے مہاباد سے تعلق رکھنے والی 32 برس کی فریشتہ احمدی ان تین کُرد خواتین میں سے ایک تھیں، جن کی ہم نے شناخت کی۔
26 اکتوبر کو مہسا امینی کے 40 ویں یوم سوگ کے موقع پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ فریشتہ کی موت اس وقت ہوئی جب ایرانی فورسز نے مبینہ طور پر انھیں سینے میں گولی مار دی، جب وہ اپنے گھر کی چھت پر تھیں۔ حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔
انٹیلی جنس حکام نے ان کے اہل خانہ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔
ایک چھوٹی بچی کے جنازے کی ایک تصویر جسے فریشتہ کی بیٹی باون سمجھا جاتا تھا، اپنی ماں کی قبر سے مُٹھی بھر مٹی اٹھائے روتے ہوئے ان کی تصویر سوشل پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی اور لاکھوں بار دیکھی گئی۔
صرف بی بی سی فارسی انسٹاگرام پر اس تصویر کو 25 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور اسے 198 ہزار سے زیادہ لائیکس ملے۔
شمال مشرقی شہر مشہد میں مظاہرین نے بل بورڈز پر ان کی تصویر کا استعمال دوسرے بچوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے شروع کر دیا جو اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ماتم کا موقع نہیں ملتا
نمبروں اور تصاویر کے پیچھے صدمے اور غم میں گھرے خاندان ہیں۔ مگر ان میں سے بہت سارے اب انتقام کے خوف کی وجہ سے بولنے سے قاصر ہیں۔ایران سے بحفاظت باہر چلے جانے کے بعد رویا اب اپنی ماں مینو کو یاد کرتی ہیں۔
وہ زندگی کے لیے اپنا جوش، اس کے لامتناہی سکُون اور صبر کو یاد کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ’وہ کھلاڑی تھیں اور انھیں گُھڑ سواری پسند تھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے پنگ پانگ کی کوچنگ بھی کی۔ رویا کے مطابق ’لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا کہ مجھے اس کی موت پر ماتم کرنے کا موقع ملا ہے۔‘
ان کے خیال میں ’یہ بہت غیر فطری تھا۔ مجھے اب صرف ایک ہی امید ہے کہ ایران ایک دن آزاد ہو گا۔
یہ کہ جو لوگ ناحق مارے گئے، ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ایرانی لوگ معمول کی زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔‘
تحقیق کا طریقہ کار
ایران بھر میں مظاہروں کو ظاہر کرنے والا نقشہ کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ (سی ٹی پی) سے تصدیق شدہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ پراجیکٹ اعتماد کی سطح (اعلیٰ، معتدل یا کم) تفویض کرتا ہے تاکہ ان کے اس امکان کا اندازہ لگایا جا سکے کہ احتجاج کسی مخصوص دن اور مخصوص جگہ پر ہوا ہے۔
بی بی سی نے اعلیٰ اور اعتدال پسند ڈیٹا سیٹ سے تصدیق شدہ احتجاج کا استعمال کیا ہے۔
سی ٹی پی طریقہ کار مظاہروں کی تاریخ، مقام اور سائز کا اندازہ لگانے کے لیے سوشل میڈیا کی تصاویر اور ویڈیوز اور ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹنگ کا استعمال کرتا ہے۔ سی ٹی پی جو سنہ 2017 سے مظاہروں کی نگرانی کر رہا ہے، نے درجن بھر افراد کے اجتماع کے طور پر رپورٹنگ کے لیے اپنی حد مقرر کر رکھی ہے۔
اکتوبر میں بی بی سی کی ایک تحقیقات میں ایران میں ہونے والے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 45 مردوں، عورتوں اور بچوں کے نام سامنے آئے تھے۔
اس موقع پر صحافیوں نے وہی تکنیکیں استعمال کیں جو ہم نے یہاں استعمال کی ہیں۔ جس میں خبر کے لیے اوپن سورس ریسرچ سے تکنیک شروع ہوتی ہے اور پھر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور کراس چیک کرنے کے لیے ذرائع، انسانی حقوق پر کام کرنے والے گروپس، رشتہ داروں، کارکنوں اور بی بی سی فارسی سے رابطہ کرنا شامل ہے۔
تقریباً تمام کیسز میں پوسٹ مارٹم کی تصاویر یا جنازے کی فوٹیج بھی حاصل کی گئیں۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں یا مقامی میڈیا سے لی گئی تھیں۔