دیو سائی میں گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ کا حملہ: ’بھوکا ریچھ خوراک کی تلاش میں تھا اور ٹینٹ پھاڑ کر اندر داخل ہوا‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGB government

،تصویر کا کیپشنڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گلوکارہ کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اُنھیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کی نامور گلوگارہ قرۃ العین بلوچ گلگت بلتستان کے مشہور زمانہ دیوسائی نیشنل پارک کیمپ میں جمعرات کی شب اپنی ٹیم کے ہمراہ کیمپنگ کے دوراپنے ٹینٹ میں موجود تھیں کہ اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک لحیم شحیم ہمالین بھورا ریچھ ان کے ٹینٹ میں داخل ہوگیا ہے۔

انھوں نے چیخیں ماریں تو قریب ہی موجود ان کا سٹاف، وائلڈ لائف اہلکار اور ہوٹل کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔

موقع پر پہنچنے والے ایک وائلڈ لائف اہلکار کے علاوہ گلگت بلتستان حکومت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گلوکارہ کے بازو پر زخم کے نشانات تھے، غالباً ریچھ نے ان پر اپنے پنجے سے حملہ کیا تھا۔

وائلڈ لائف اہلکار کے مطابق حملے کے بعد ریچھ فوراً موقع سے بھاگ تھا۔

’ریچھ ٹینٹ پھاڑ کر اندر گیا تھا جہاں قرۃ العین بلوچ سو رہی تھیں۔‘

موقع پر پہچنے والے وائلد لائف اہلکار کے مطابق ’قرۃ العین بہت بہادر ہیں جو اس ریچھ کو دیکھ کر بے ہوش نہیں ہوئیں۔ یہ دو سو کلو سے زائد وزن کا بھوکا ریچھ تھا۔ اگر وہ بے ہوش ہوجاتیں اور بہت زیادہ ڈر جاتیں تو صورتحال زیادہ خراب بھی ہوسکتی تھی۔

’قرۃ العین سر کو بچانے کے لیے بازؤں کا استعمال کر رہی تھیں‘

قرۃ العین کے سٹاف کی جانب سے بی بی سی کو جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ قرۃ العین سکردو میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے موجود تھیں۔

دیوسائی نیشنل پارک بھی اسی سلسلے میں گئیں تھیں یہ تفریح یا کسی گانے وغیرہ کی شوٹنگ نہیں تھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کے سٹاف کے مطابق گذشتہ رات قرۃ العین دیوسائی میں ’گلیمپ پاکستان‘ کے بالکل سامنے واقع ’بارہ پانی کیمپ گراؤنڈ‘ پہنچیں۔ ان کے ہمراہ ایک مقامی ٹور ڈرائیور اور فوٹوگرافر شہباز بھی تھے۔ یہ ایک مختصر قیام تھا جو ان کے سفر کا حصہ تھا۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹور ڈرائیور نے قرۃ العین کو بتایا کہ جس جگہ انھوں نے خیمہ لگایا وہ محفوظ ہے۔ لیکن حملے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے اس علاقے میں ریچھ کو دیکھا گیا تھا۔ ڈرائیور اس اہم اور خطرناک صورتحال سے قرۃ العین اور فوٹو گرافر کو آگاہ کرنے میں ناکام رہا۔

پریس ریلیز کے مطابق قرۃ العین اپنے خیمے میں موجود تھیں اور ابھی سوئی ہی تھیں کہ ایک بالغ بھورے ریچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔

’ریچھ نے ان کی دونوں بازوؤں پر پنجے مارے، کیونکہ وہ اپنے سر کو شدید چوٹ سے بچانے کے لیے بازوؤں کا استعمال کر رہی تھیں۔ قرۃ العین کے خیمے میں کوئی کھانا موجود نہیں تھا اور انیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ علاقے میں ریچھ کو دیکھا گیا ہے۔‘

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ فوٹوگرافر شہباز کی فوری حاضر دماغی نے صورتحال کو قابو میں کیا۔ اس نے اپنی گاڑی کا استعمال کر کے ریچھ کو ڈرایا۔ جس سے قرۃ العین کو موقع ملا کہ وہ وہاں سے فرار ہو سکیں۔

مقامی افراد نے ابتدائی طبی امداد دی اور پھر قرۃ العین اور شہباز کو فوراً سکردو ہسپتال لے جایا گیا۔

اُن کی ٹیم کے مطابق گلوکارہ کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہMehdi Photos

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں بھورے ریچھوں پائے جاتے ہیں

’ریچھ کو خوراک کی ضرورت تھی‘

سکردو وائلڈ لائف اور دیوسائی نیشنل پارک کے انچارج سجاد احمد خان کہتے ہیں کہ قرۃ العین بلوچ نے بہت ہمت دکھائی۔

’انھوں نے ہمیں بتایا کہ جب ریچھ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کا قد گیارہ فٹ تھا۔ ہمارے خیال میں یہ نر ہمالین بھورا ریچھ ہے جس کا صرف وزن ہی دو سو کلو سے زیادہ ہے۔‘

’بالخصوص اس وقت جب ریچھ بھوکا ہو اور اپنی خوراک تلاش کررہا ہو۔ کمزوردل لوگ تو یہ دیکھ اور سوچ کر ہی بے ہوش ہوسکتے ہیں کہ وہ ان پر ریچھ حملہ آور ہو رہا ہے۔‘

سجاد احمد خان کا کہنا تھا کہ اس وقت دیوسائی کے علاقے میں گھاس، جڑی بوٹیاں تقتریبا ختم ہوچکی ہیں اور ممکنہ طور پر یہ ہمالین ریچھ اس وقت بھوکا تھا اور خوراک کی تلاش میں کیمپ کی طرف آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب قرۃ العین کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کی ٹینٹ میں کوئی خوراک یا کھانا وغیرہ موجود تھا؟ انھوں نے اس سے انکار کیا ہے۔ مگر حقیقت اور سائنسی طور پر یہ ثابت ہے کہ ریچھ کے دیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور سونگھنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘

سجاد احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ سونگھ کر خوراک کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے اور صرف خوراک کے لیے جاتا ہے جبکہ اس کو انسانوں کی بو محسوس ہو تو وہ ان سے دور بھاگتا ہے۔ وہ انسانوں سے ڈرتا ہے اور ان کے پاس نہیں جانا چاہتا ہے۔

’غیر قانونی کاروبار میں کمی ہوئی ہے‘

سجاد احمد خان کا کہنا تھا کہ طویل عرصہ بعد دیوسائی نیشنل پارک میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ریچھ نے انسانوں پر حملہ کیا ہو، اس کے بعد ہم مزید حفاظتی اقدامات پر غور کرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سروے کے مطابق اس علاقے میں ان ریچھوں کی تعداد 80 سے زائد ہے جبکہ دیوسائی کو 1993 میں نیشنل پارک بنایا گیا تھا تو اس وقت ان کی تعداد 10 تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مادہ ریچھ کے حاملہ ہونے اوربچے جنم دینے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ یہ چار پانچ سال بعد بچے دیتی ہے۔

سجاد احمد خان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی ان کو زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت ان کی آماجگاہوں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہر حیاتیات پروفیسر ڈاکٹر فخر عباس کہتے ہیں کہ کچھ سال پہلے تک ریچھ کا بچہ جو کہ اس کی ماں کو مار کر حاصل کیا جاتا تھا چار لاکھ روپیہ تک بکتا تھا۔ مگر پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ کشمیر اور گلگت بلتستان وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ ریچھ کی کتوں سے لڑائی اور گلی محلے میں ریچھ کا تماشا دکھانے پر سخت کارروائی کرتے ہیں جس وجہ سے اب اس کی مانگ میں بھی کمی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کی بناء پر ہمالین بھورے ریچھ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ’ہمیں پتا ہے کہ دیوسائی نیشنل پارک میں ریچھ ہیں مگر ہمیں کچھ ایسے اثرات بھی ملے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ استور اور کشمیر کے علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ ہمالین بھورا ریچھ پاکستان کے علاوہ نیپال اور انڈیا میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہاں پر اس کی تعداد کو مستحکم سمجھا جاتا ہے مگر اب یہ پاکستان میں بھی بہتر ہو رہی ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلگت بلتستان وائلڈ لائف کے چیف کنزویٹر ڈاکٹر ذاکر کہتے ہیں کہ دیوسائی نیشنل پارک کے قیام کے بعد ہمالین بھورے ریچھوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ نیشنل پارک کے قیام سے پہلے 1940 اور پچاس کی دہائی میں اس کی تعداد کوئی دو سو بتائی جاتی تھی۔

ڈاکٹر ذاکر کہتے ہیں کہ ’دیوسائی نیشنل پارک کے اندر اب وائلڈ لائف سٹاف موجود ہوتا ہے۔ ہمالین بھورے ریچھ کی تعداد بڑھنے کا واضح مطلب ہے کہ وہاں کا قدرتی نظام بھی بہتر ہے۔ ریچھ کو اس کی خوراک قدرتی نظام میں مل رہی ہے تو ان کی تعداد بہتر ہورہی ہے اور اس حوالے سے مزید بہتری کی بھی ضرورت ہے جو ہم کررہے ہیں۔‘

ڈاکٹر فخر عباس کہتے ہیں کہ ’یہ تو ٹھیک ہے کہ ریچھوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر کیمپنگ وغیرہ کے نام پر ہم ریچھ کی آماجگاہوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ دیوسائی ایک پلیٹ کی طرح ہے جس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں۔ ریچھ اس پلیٹ میں اپنی خوراک تلاش کرتا ہے اور ہم اس پلیٹ میں اگر داخل ہوں گے تو پھ انسانوں کے ساتھ تنازعات ہوسکتے ہیں۔‘

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق صوبائی حکومت نے دیوسائی میں رات کے وقت کیمپنگ پر پابندی لگا دی ہے اور یہ پابندی اس سیزن کے لیے ہے۔