آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#CoronaVirus: پاکستان میں ماسک کی قیمتوں میں اضافے اور عدم دستیابی کی وجوہات
پاکستان میں صحت کے حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کے بعد صوبہ بلوچستان میں گرد و غبار اور فضائی آلودگی سے بچانے والے عام ماسک کی قلت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق قلت کے باعث صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تاجروں کا کہنا ہے کہ پانچ روپے میں ملنے والا عام ماسک اب 35 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔
تاجروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مارکیٹ میں ماسک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو یہی ماسک شاید سو سے دو سو روپے میں بھی دستیاب نہ ہو۔
ماسک کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟
اگرچہ مارکیٹ میں دستیاب عام ماسک کورونا وائرس سے بچاؤ میں سودمند نہیں ہوتا مگر پھر بھی کوئٹہ میں اس کی قیمت میں اضافے کی وجہ کورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کے خدشے کی پیش نظر عام صارفین کی جانب سے اس کی خریداری میں اضافہ بتائی جا رہی ہے۔
تاہم کوئٹہ میں تاجر ماسک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی ایک بڑی وجہ ماضی قریب میں اس ماسک کی چین کو برآمد بتا رہے ہیں۔
کوئٹہ میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک شکیل احمد نے بتایا کہ پاکستان میں ماسک بنانے کا کوئی پلانٹ نہیں ہے اور زیادہ تر ماسک پاکستان میں چین سے امپورٹ ہو رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ماسک کو پاکستان کی مارکیٹ سے لوگوں نے اٹھانا شروع کیا اور واپس چین بھیجنا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’چین میں لوگ کورونا وائرس کی خوف سے نہیں نکل رہے ہیں، اس لیے وہاں ماسک بنانے والے کارخانے بند ہیں۔ چونکہ فی الحال چین میں اس کی پروڈکشن میں کمی واقع ہوئی ہے اس لیے لوگ اس کو کراچی سے ہی واپس چین بھیج رہے ہیں‘۔
شکیل احمد نے بتایا کہ ’پہلے 50 ماسک کا ایک پیکٹ 80 روپے میں دستیاب تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ اول تو کوئٹہ میں یہ مل نہیں رہا ہے اور اگر مل رہا ہے تو اس پیکٹ کی قیمت 800 روپے سے بھی زیادہ ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ اس کی بلیک مارکیٹنگ بھی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بدھ کو میڈیکل سٹورز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں یہ تجویز آئی تھی کہ ’عوام کو ماسک مفت فراہم کیے جانے چاہییں لیکن جب یہ مارکیٹ میں ہے ہی نہیں تو ہم کیا کریں۔‘
نائب صدر آل بلوچستان میڈیکل سٹورز ایسوسی ایشن عبد الہادی نے بتایا کہ اس وقت بلوچستان میں جس ماسک کی قلت دیکھنے میں آ رہی ہے وہ عام ماسک ہے جو گردوغبار اور فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہ مخصوص ماسک نہیں ہے جو کورونا وائرس سے بچنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی قلت یا بلیک مارکیٹنگ میں میڈیکل سٹور مالکان کا کوئی کردار نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس کی قلت یا عدم دستیابی میں ماسک کو سٹاک کرنے والوں کا کردار ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ان کا کام ہے کہ وہ کتنا سٹاک لاتے ہیں اور اس کو کہاں بھیجتے ہیں۔
آل بلوچستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید نصیب اللہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ عام ماسک کی قلت کی سب سے بڑی وجہ اس کا واپس چین بھیجا جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ یا بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ماسک کی ترسیل کراچی سے ہو رہی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے عام ماسک پانچ روپے کا تھا ’اب سننے میں آ رہا ہے کہ یہ 30 روپے سے 35 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔‘
ماسک کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کے لیے تاجروں کی تجاویز
میڈیکل سٹور کے مالک شکیل احمد نے بتایا کہ حکومت کو وائرس سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ماسک اور دستانوں کی مارکیٹ میں دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی امپورٹ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات بھی اٹھائے جائیں کہ پاکستان سے ان کی بیرون ملک سمگلنگ نہ ہو۔
آل بلوچستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید نصیب اللہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں مل رہی۔ ’اگر خدانخواستہ کورونا وائرس پھیلا تو شاید بلوچستان حکومت کی بس میں اس کو کنٹرول کرنا ممکن نہ ہو۔‘
سید نصیب اللہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور محکمہ صحت کے حکام سے اپیل کی کہ وہ ماسک کی دستیابی کے لیے اقدامات کریں۔
عبدالہادی کا کہنا ہے کہ وائرس کے خدشے کے باعث یا تو حکومت خود اس کے کم نرخوں پر فراہمی کے لیے اقدامات کرے یا پھر اوپن مارکیٹ میں اس کی زیادہ سے زیادہ دستیابی کو یقینی بنائے۔
کورونا وائرس کے مخصوص ماسک کی دستیابی کی صورتحال
کوئٹہ میں ایک اور میڈیکل سٹور کے مالک عبد اللہ نے بتایا کہ عام ماسک کی طرح کورونا وائرس کے لیے مخصوص ماسک این 95 بھی کوئٹہ میں دستیاب نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہول سیل میں نہ ملنے کی وجہ سے چند ایک میڈیکل سٹورز پر این 95 ماسک دستیاب ہیں لیکن ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ مخصوص ماسک کوئٹہ میں کراچی سے لائے جاتے ہیں اور کوئٹہ میں ان کی قیمت فروخت اس وقت لگ بھگ 600 روپے ہے۔
ان کا کہنا تھا کسی بھی چیز کی قلت کو دور کرنا اور طلب کے مقابلے میں رسد کو یقینی بنانا حکومت کا کام ہوتا ہے لیکن ’حکومت اور انتظامیہ یہ کام کرنے کی بجائے ان کی دکانوں کو ماسک کو بلیک میں فروخت کرنے کے الزامات پر سیل کر رہے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ’جب کراچی سے ایک چیز آ ہی نہیں رہی ہے تو وہ اس کو کس طرح بلیک میں فروخت کریں گے؟‘
آل بلوچستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید نصیب اللہ نے بتایا کہ جب کوئٹہ میں عام ماسک نہیں مل رہا ہے تو کورونا وائرس کے لیے مخصوص ماسک این 95 کہاں سے ملے گا۔
حکومت پاکستان نے بدھ کو پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں ماسک کی قلت کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
بی بی سی نے ملک میں ماسک کی قلت کے حقیقت جاننے کے لیے لاہور کی مختلف مارکیٹوں سے اس حوالے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر نے لاہور کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور یہ رپورٹ بھیجی ہے۔
جب میں لاہور شہر میں بڑی بڑی فارمیسیز سے معلوم کرنے کے بعد میو ہسپتال کے عقب میں موجود میڈیکل سٹور پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ دکان پر پہلے ہی دو خریدار ماسک کا پوچھ رہے تھے جس پر انھیں مایوسی ہوئی۔
اس کے بعد میں تقریباً بیس سے زائد فارمیسز پر گئی لیکن کوئی ایک بھی دکان ایسی نہیں تھی جس نے مجھ سمیت آنے والے دیگر خریداروں کو خالی ہاتھ نہ بھیجا ہو۔ میں نے ایک دکاندار سے پوچھا بھائی بتاؤ یہ ماسک کہاں سے ملیں گے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہاں سے بلکل نہیں ملیں گے۔ جبکہ اس نے لاہور میں واقع میڈیکل ادویات کی ایک ہول سیل مارکیٹ جانے کا مشورہ دیا۔
چند میڈیکل سٹورز سے ماسک کی دستیابی کا پوچھنے کے بعد جب میں باہر نکلی تو ایک شخص نے پوچھا کہ کیا آپ کو ماسک ملا؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو ماسک اپنے لیے چاہیے تو کہنے لگا نہیں مجھے تو آسلام آباد سے میرے افسران کی کال آئی ہے کہ لاہور سے پتا کروں ماسک کیونکہ یہاں نہیں مل رہے۔
اسی دوران ایک اور شخص غصے میں آیا اور بولا کہ میں پچھلے تین گھنٹوں میں لاہور کے بیشتر میڈیکل سٹورز پر چکر لگا چکا ہوں کہیں سے کچھ نہیں ملا۔ سمجھ سے باہر ہے کہ مسئلہ ہے کیا۔ پاکستان میں جب بھی کو ہنگامی صورتحال ہوتی ہے تو سب لوگ مل کر عوام کو رگڑا لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ دوسرے ممالک میں کبھی کوئی ایسا مسئلہ ہوتا ہے تو حکومت خود ہی عوام کو بیماری سے بچانے کے لیے مفت چیزیں فراہم کرتی ہے۔
اس کے بعد میں ہول سیل مارکیٹ کی طرف چلی گئی۔ وہاں پہنچی تو دیکھا کہ مارکیٹ میں موجود بیشتر لوگوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔ میں نے چند لوگوں سے پوچھا یہ ماسک اپ کو کہاں سے ملے تو جواب ملا ’ہم نے پہلے کے خریدے ہوئے ہیں۔
خیر میں باری باری ہر دوکان کے اندر گئی تو یہی جواب ملا کہ ہمارے پاس ماسک نہیں ہیں۔ کچھ دکان والوں نے باہر ہی لکھ کر لگا رکھا تھا: 'تنگ نہ کریں، ماسک دستیاب نہیں ہیں' تھوڑی دیر گھومنے کے بعد ایک اور دوکان میں گئی اور ماسک کا پوچھا تو انھوں نے کہا کہ نہیں ہیں ۔ جیسے ہی میں مڑی تو کچھ چینی باشندے دکان میں داخل ہوئے اور ماسک کا ریٹ پوچھا تو دکاندار نے جواب دیا کہ 850 روپے کا ملے گا۔ پھر انھوں نے ایک خاص قسم کے سینیٹائز کا پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ نہیں ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فارماسوٹیکل اندسٹری کے رکن عثمان شاکر نے بتایا کہ وہ 15 نومبر 2019 تک ہر قسم کا ماسک فروخت کر رہے تھے۔ جبکہ عام سرجیکل ماسک 90 روپے کے 50 ماسک فروخت کر رہے تھے اور اب یہی ڈبہ مارکیٹ سے 1500 روپے کا مل رہا ہے جبکہ سو این 95 ماسک ہم 2500 روپے کے بیچ رہے تھے جس میں ہمیں 250 سے 300 روپے منافع ہوتا تھا۔ تاہم اب ایک این 95 ماسک چھ سو سے سات سو روپے کا مل رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے تھا کہ پاکستان میں یہ سارا مال دیکر ممالک میں سے آتا ہے۔
ایک دکاندار نے بتایا کہ اس مارکیٹ میں ماسک موجود تھے لیکن جب سے چین میں کرونا وائرس آیا ہے تو چائنیز پہلے ہی مارکیٹ سے ماسکس اٹھا کر لے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی قلت ہوئی ہے۔