’بچے کی غیر واضح جنس کا علاج ممکن ہے‘

پاکستان میں غیر واضح جنس کے حامل افراد کو اکثر نفرت آمیز رویے کا سامنا رہتا ہے۔ سرکاری اندازے کے مطابق ملک میں ساڑھے دس ہزار افراد ایسے ہیں جن کی جنس پیدائشی طور پر واضح نہیں ہوتی، لیکن غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد تقریبا پانچ لاکھ ہے۔ ڈاکٹرز جنس واضح نہ ہونے کو ایک ایسا پیدائشی نقص قرار دے رہے ہیں جو کہ قابلِ علاج ہے۔ یہ علاج کیا ہے اور کیسے ممکن ہے، لاہور سے رپورٹ کر رہی ہیں فرحت جاوید۔