’حافظ سعید کے خلاف بھی اسامہ جیسی کارروائی نہ ہو جائے‘

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خارجہ امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں امریکہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف اسی طرح کی یکطرفہ کارروائی نہ کر دے جس طرح اس نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کی تھی۔

سینیٹر نزہت صادق کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ امریکہ نے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی ہے جبکہ اس سے پہلے اسامہ بن لادن کے سر کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا ’کہیں امریکہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف اس طرح کی یکطرفہ کارروائی نہ کر دے جس طرح اس نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کی تھی‘۔

مزید پڑھیے

انڈیا ممبئی حملوں کا الزام حافظ سعید پر لگاتا آیا ہے اور اس معاملے میں امریکہ کی مدد مانگتا رہا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے جب حافظ سعید کی نظر بندی ختم ہوئی تھی تو امریکہ نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دوبارہ گرفتار کر کے ان پر فردِ جرم عائد کرے۔ حافظ سعید اس سال جنوری سے گھر میں نظر بند تھے۔

2012 کے بعد سے امریکہ نے حافظ سعید کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

حافظ سعید نے بارہا ممبئی حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ امریکہ کی طرف سے حافظ سعید کے خلاف یکطرفہ کارروائی کے بیان پر بات چیت جاری ہے۔ اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ محض اطلاعات کی بنا پر کیسے کارروائی کی جاسکتی ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کہتے ہیں کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر ٹھیک کام کرر ہے ہیں تاہم اس سوال پر سیکرٹری خارجہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے سوال اُٹھایا کہ امریکہ کے نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ کا ساتھ نہ دیا اور شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی نہ کی تو پاکستان کو اپنا کچھ علاقہ بھی کھونا پڑ سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے جس پر تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان کے ردعمل میں امریکی بیانات کو محض ہرزہ سرائی قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔

تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی مطالبات سے بڑھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا۔

اُنھوں نے بھارت کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان مسلسل دشمن ملک کی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ ہے اور پاکستان کو مسلسل بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت افغانسان کی سرزمین پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔