آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لندن میں ’دہشت گردی‘: مسجد کے باہر وین نے لوگ کچل دیے، ایک ہلاک
شمالی لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم دس زخمی ہوئے ہیں۔
سیکریٹری داخلہ ایمبر رود کا کہنا ہے کہ پولیس کے جانب سے اس واقعے کی تفتیش ایک 'دہشت گردی کے واقعے' کے طور پر کی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق ایک وین اس وقت فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی جب وہ آدھی رات کے قریب سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو قتل کی کوشش کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ آٹھ لوگوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے تمام افراد مسلمان ہیں۔
عینی شاہد عبدالرحمٰن نے کہا کہ حملہ آور نے کہا کہ وہ تمام مسلمانوں کو ہلاک کر دینا چاہتا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ملزم پر قابو پانے میں مدد کی۔
پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آور کی دماغی حالت کا تجزیہ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے آج ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے جس میں اس واقعے پر بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے کو 'ممکنہ دہشت گردی قرار دے رہی ہے۔'
برطانوی وزیرِ اعظم نے اسے 'ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو زخمی ہوئے ہیں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔'
اس واقعے کے ایک عینی شاید عبدل رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وین ڈرائیور نے کہا کہ وہ ’تمام مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’جب وین میں بیٹھا ہوا شخص باہر آیا تو وہ بھاگنا چاہتا تھا اور وہ بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا 'میں مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہوں، میں مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہوں۔'
میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔
مسلم کونسل برطانیہ کا کہنا ہے کہ وین ڈرائیور نے 'جان بوجھ کر' گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ ’اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر ہے‘ اور اس نے مساجد کے گرد مزید سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خاصا مصروف تھا کیونکہ رمضان کے سبب بہت سے لوگ نماز ادا کرنے آئے تھے۔
اس سے پہلے تین جون کو لندن برج پر اور اس کے پاس کے علاقے میں لوگوں پر حملہ ہوا تھا جسے پولیس نے شدت پسند حملہ قرار دیا تھا۔
سیون سسٹرز روڈ کے قریب ایک فلیٹ میں رہنے والی عینی نے بی بی سی سے کہا: 'ہر کوئی چیخ رہا تھا۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ وین نے لوگوں کو ٹکر مار دی ہے۔ لوگ مسجد سے نماز ادا کر کے نکل رہے تھے کہ وین نے انھیں ٹکر مار دی۔'
لندن میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ سیون سسٹرز روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ہنگامی خدمات کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس حادثے کی ایک آن لائن ویڈیو میں لوگوں کو زخمیوں کی مدد کرتے ہوئے اور ایک آدمی ایک زخمی کو ہنگامی طبی امداد دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
لندن ایمبولنس سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کیون بیٹ نے کہا: 'ہم نے موقعے پر بہت سی ایمبولنسیں بھیج دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طبی ساز و سامان بھی ارسال کر دیا ہے۔'