’میں سلمان کو جانتا تھا، اسے برین واش کیا گیا تھا‘

لیبیا میں ایک جنگجو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ مانچیسٹر میں خود کش حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کو جانتے تھے اور وہ ایک وقت میں اچھے دوست بھی رہ چکے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویئل نے محمد الشریف سے لیبیا میں ملاقت کی۔

ان کا تعلق بھی مانچیسٹر سے ہے اور وہ 2011 میں اسلامی شدت پسندوں جن میں خود کو دولست اسلامیہ کہنے والی تنظیم دولت اسلامیہ بھی شامل ہے سے لڑنے کے لیے لیبیا آگئے تھے۔

الشریف نے بتایا کہ ان کی آپس میں پانچ برس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

ان دونوں دوستوں نے لیبیا کی جنگ میں مختلف فریقین کی حمایت کی۔

محمد الشریف کا کہنا ہے کہ سلمان کو برین واش کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے 'مجھے یقین ہے کہ سلمان کا دولت اسلامیہ سے رابطہ لیبیا میں ہوا تھا۔'

سنہ 2011 میں کرنل قذافی کے خلاف بغاوت میں حصہ لینے کے لیے کئی نوجوان برطانیہ سے لیبیا گئے تھے۔

الشریف نے بتایا کہ 'اس وقت جو بھی لیبیا آنا چاہتا تھا وہ آسکتا تھا۔'

الشریف کہتے ہیں کہ 'میں تین سال سے زیادہ عرصے سے جنگ لڑ رہا ہوں۔۔۔ میں نے بہت زیادہ خون دیکھا ہے لیکن میں جا کر اپنے آپ کو (دھماکے سے) نہیں اڑاؤں گا۔'

محمد آج بھی لیبیا میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

محمد کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ اندرون ملک بھرتیاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ' ایسے لوگ ہیں جو ایسے نوجوانوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو خود کو اڑا سکیں، ایسے کام کر سکیں۔'

'وہ ان کو ڈھونڈتے ہیں، راضی کرتے ہیں اور ان سے یہ کام کروا لیتے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کی سوچ اور نظریے کے خلاف ہیں۔

انہیں خود دولت اسلامیہ کی شدت پسندوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے بھی فلم بند کیا گیا ہے جس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا کرنے پر افسوس ہے لیکن وہ موت کے مستحق ہیں۔

'وہ موت کے مستحق ہیں کیوں کہ انہوں نے کئی افراد کو قتل کیا ہے۔'