شمالی یورپ میں مکمل سورج گرہن

برطانیہ اور شمالی یورپ میں لاکھوں لوگوں نے سورج گرہن کا نظارہ کیا۔

چاند کا سایہ ابتدائی مرحلوں میں بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے پر پڑا اور بحرِ منجمد شمالی سے ہوتا ہوا قطبِ شمالی میں جا کر ختم ہوا۔
،تصویر کا کیپشنچاند کا سایہ ابتدائی مرحلوں میں بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے پر پڑا اور بحرِ منجمد شمالی سے ہوتا ہوا قطبِ شمالی میں جا کر ختم ہوا۔
ماہِر فَلکِيات سورج گرہن کے بہترین مناظر دیکھنے کے لیے شمالی یورپ کے فارو جزیرے میں جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنماہِر فَلکِيات سورج گرہن کے بہترین مناظر دیکھنے کے لیے شمالی یورپ کے فارو جزیرے میں جمع ہوئے۔
یورپی سپیس ایجنسی کی ’پروبا 2‘ سیٹیلائٹ نے خلا سے سورج گرہن کے یہ تصویر لی۔
،تصویر کا کیپشنیورپی سپیس ایجنسی کی ’پروبا 2‘ سیٹیلائٹ نے خلا سے سورج گرہن کے یہ تصویر لی۔
سورج گرہن ابتدائی مرحلوں میں مغربی برطانیہ کے علاقے کارنوال سے گزرا۔
،تصویر کا کیپشنسورج گرہن ابتدائی مرحلوں میں مغربی برطانیہ کے علاقے کارنوال سے گزرا۔
ماہِرین فَلکِيات نے لوگوں کو سورج گرہن کی طرف براہِ راست دیکھنے سے منع کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہِرین فَلکِيات نے لوگوں کو سورج گرہن کی طرف براہِ راست دیکھنے سے منع کیا ہے۔
برطانیہ میں اس پیمانے پر اگلا سورج گرہن سنہ 2026 میں نظر آئے گا۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں اس پیمانے پر اگلا سورج گرہن سنہ 2026 میں نظر آئے گا۔
ابر آلود آسمان کے باوجود فوٹوگرافر ٹوبی میل ویل نے سورج گرہن کا یہ دل کش منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا۔
،تصویر کا کیپشنابر آلود آسمان کے باوجود فوٹوگرافر ٹوبی میل ویل نے سورج گرہن کا یہ دل کش منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا۔
ناروے میں سورج گرہن کا ایک نظارہ۔
،تصویر کا کیپشنناروے میں سورج گرہن کا ایک نظارہ۔
مکمل گرہن زمین کے مختلف حصوں پر تَقريباً ہر 18 ماہ بعد آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمکمل گرہن زمین کے مختلف حصوں پر تَقريباً ہر 18 ماہ بعد آتا ہے۔
اگلا سورج گرہن آئندہ سال میں نو مارچ کو مشرقی ایشیا میں واقع ہو گا۔
،تصویر کا کیپشناگلا سورج گرہن آئندہ سال میں نو مارچ کو مشرقی ایشیا میں واقع ہو گا۔
چاند کا سایہ ابتدائی مرحلوں میں بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے پر پڑا اور بحرِ منجمد شمالی سے ہوتا ہوا قطبِ شمالی میں جا کر ختم ہوا۔
،تصویر کا کیپشنچاند کا سایہ ابتدائی مرحلوں میں بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے پر پڑا اور بحرِ منجمد شمالی سے ہوتا ہوا قطبِ شمالی میں جا کر ختم ہوا۔
ماہِر فَلکِيات سورج گرہن کے بہترین مناظر دیکھنے کے لیے شمالی یورپ کے فارو جزیرے میں جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنماہِر فَلکِيات سورج گرہن کے بہترین مناظر دیکھنے کے لیے شمالی یورپ کے فارو جزیرے میں جمع ہوئے۔
یورپی سپیس ایجنسی کی ’پروبا 2‘ سیٹیلائٹ نے خلا سے سورج گرہن کے یہ تصویر لی۔
،تصویر کا کیپشنیورپی سپیس ایجنسی کی ’پروبا 2‘ سیٹیلائٹ نے خلا سے سورج گرہن کے یہ تصویر لی۔
سورج گرہن ابتدائی مرحلوں میں مغربی برطانیہ کے علاقے کارنوال سے گزرا۔
،تصویر کا کیپشنسورج گرہن ابتدائی مرحلوں میں مغربی برطانیہ کے علاقے کارنوال سے گزرا۔
ماہِرین فَلکِيات نے لوگوں کو سورج گرہن کی طرف براہِ راست دیکھنے سے منع کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہِرین فَلکِيات نے لوگوں کو سورج گرہن کی طرف براہِ راست دیکھنے سے منع کیا ہے۔
برطانیہ میں اس پیمانے پر اگلا سورج گرہن سنہ 2026 میں نظر آئے گا۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں اس پیمانے پر اگلا سورج گرہن سنہ 2026 میں نظر آئے گا۔
ابر آلود آسمان کے باوجود فوٹوگرافر ٹوبی میل ویل نے سورج گرہن کا یہ دل کش منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا۔
،تصویر کا کیپشنابر آلود آسمان کے باوجود فوٹوگرافر ٹوبی میل ویل نے سورج گرہن کا یہ دل کش منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا۔
ناروے میں سورج گرہن کا ایک نظارہ۔
،تصویر کا کیپشنناروے میں سورج گرہن کا ایک نظارہ۔
مکمل گرہن زمین کے مختلف حصوں پر تَقريباً ہر 18 ماہ بعد آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمکمل گرہن زمین کے مختلف حصوں پر تَقريباً ہر 18 ماہ بعد آتا ہے۔
اگلا سورج گرہن آئندہ سال میں نو مارچ کو مشرقی ایشیا میں واقع ہو گا۔
،تصویر کا کیپشناگلا سورج گرہن آئندہ سال میں نو مارچ کو مشرقی ایشیا میں واقع ہو گا۔