جاپانی سومو پہلوانوں میں بچوں کو رلانے کا مقابلہ

400 سال پرانا سومو پہلوانوں کا بچوں کو رلانے کا یہ مقابلہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں منقعد ہوتا ہے۔

400 سال پرانے اس مقابلے میں جو بچہ پہلے روتا ہے وہ مقابلہ جیت جاتا ہے۔ مقابلہ جاپان کے شہر ٹوکیو میں بچوں کے قومی دن پر منقعد ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن400 سال پرانے اس مقابلے میں جو بچہ پہلے روتا ہے وہ مقابلہ جیت جاتا ہے۔ مقابلہ جاپان کے شہر ٹوکیو میں بچوں کے قومی دن پر منقعد ہوتا ہے۔
یہ مقابلہ ایک جاپانی کہاوت پر مبنی ہے جس کے مطابق رونے والے بچے زیادہ تیزی سے بڑے ہوتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ مقابلہ ایک جاپانی کہاوت پر مبنی ہے جس کے مطابق رونے والے بچے زیادہ تیزی سے بڑے ہوتے ہیں۔
اگر دونوں بچے ایک ساتھ رو پڑیں تو زیادہ زور سے رونے والے بچے کو فاتح قرار دے دیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناگر دونوں بچے ایک ساتھ رو پڑیں تو زیادہ زور سے رونے والے بچے کو فاتح قرار دے دیا جاتا ہے۔
اگر سومو پہلوان بچے کو رلانے کی کوشش میں ناکام ہو جائے تو اسے ڈراونے ماسک پہن کر رلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناگر سومو پہلوان بچے کو رلانے کی کوشش میں ناکام ہو جائے تو اسے ڈراونے ماسک پہن کر رلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جاپانی کہاوت کے مطابق رونے والے ان بچوں کی آواز سن کر بلائیں دور ہوجاتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجاپانی کہاوت کے مطابق رونے والے ان بچوں کی آواز سن کر بلائیں دور ہوجاتی ہیں۔
مقابلے میں حصہ لینے والے بچوں کے لیے ضروری ہے کے وہ مقابلے سے ایک سال قبل پیدا ہوئے ہوں۔
،تصویر کا کیپشنمقابلے میں حصہ لینے والے بچوں کے لیے ضروری ہے کے وہ مقابلے سے ایک سال قبل پیدا ہوئے ہوں۔
سومو پہلوانوں کو جاپان میں قومی ہیروز کا درجہ دیا جاتا ہے اور یہ ملک کے بیشتر قومی دنوں پر عوامی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسومو پہلوانوں کو جاپان میں قومی ہیروز کا درجہ دیا جاتا ہے اور یہ ملک کے بیشتر قومی دنوں پر عوامی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔