
افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں صوبائی محکمۂ صحت نے پاکستانی ڈاکٹروں کے کام پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے بارہ ڈاکٹروں نے غیر قانونی طور پر اپنے کلینک کھول رکھے ہیں۔
ان غیر ملکی ڈاکٹروں کو تمام دستاویزات آئندہ دس روز جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی محکمۂ صحت کے صدر ڈاکٹر حفیظ اللہ سیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی ڈاکٹروں کے کام پر پابندی لگائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ’ کچھ لوگوں کو ہم نے گرفتار کیا ہے جو بالکل ڈاکٹر ہی نہیں تھے۔ اس لیے اُن کے کلینک مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں‘۔
صوبائی محکمۂ صحت کے صدر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں میں سے بعض ڈاکٹر ہیں لیکن ان کے پاس بھی دستاویزات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ایسے ڈاکٹروں کو دس دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیمی اسناد اور افغان وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیا گیا اجازت نامہ جمع کرائیں‘۔
افغانستان کے صوبے تخار میں پاکستانی ڈاکٹروں کے علاوہ تاجکستان کے ڈاکٹروں نے بھی اپنے کلینک کھول رکھے ہیں۔ لیکن مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تاجکستان سے آئے ہوئے ڈاکٹروں نے افغان وزرات صحت سے کام کرنے کے اجازت نامے لے رکھے ہیں۔
گزشتہ سال افغانستان میں ایک پاکستانی ڈاکٹر کو صوبے تخار میں لڑکیوں کے سکول میں فحش مواد پھینکنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔






























