پیٹریئس: دوسری خاتون کی شناخت کر دی گئی

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 16:54 GMT 21:54 PST

ڈیوڈ پیٹریئس ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد سے امریکہ کے اہم ترین فوجی افسروں میں سے ایک ہیں

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریئس کی سوانح نگار پائلہ بروڈول نے جس خاتون کو ہراساں کرنے والی ای میل بھیجی تھی، ان کی شناخت جِل کیلی کے نام سے ہوئی ہے۔

تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس معاملے کی تفتیش تبھی شروع کر دی تھی جب جِل کیلی نے شکایت کی تھی کہ پائلہ بروڈول انھیں نامناسب ای میلیں کر رہی ہیں۔

انہی ای ملیز کی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ جنرل پیٹریئس اور پائلہ بروڈول کے ’بےقاعدہ ازدواجی تعلقات‘ یا ایکسٹرا میریٹل ریلیشنز ہیں۔ اس بات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جنرل پٹریئس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

کچھ سیاستدانوں کی شکایت ہے کہ انہیں اس معاملے سے پہلے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ ایک نے تو اس بات کو جان بوجھ کر چھپانے کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

اپنے استعفے کے سلسلے میں ساٹھ سالہ ڈیوڈ پیٹریئس کا کہنا تھا کہ ’سینتیس سال سے شادی شدہ ہونے کے باوجود میں نے ایک بہت غلط قدم اٹھایا اور ایک دوسری عورت کے ساتھ روابط رکھے۔ ایک شادی شدہ مرد ہونے اور سی آئی اے جیسی ایجنسی کا سربراہ ہونے کے ناطے یہ قدم ناقابل قبول ہے‘۔

امریکی حکام نے فلوریڈا کی مقیم جِل کیلی کا نام اتوار کو ظاہر کیا۔ سینتیس سالہ جِل، جنرل پیٹریئس اور ان کی بیوی ہیلی کی دوست ہیں۔ وہ شہر ٹیمپا میں ایک فوجی اڈے پر بطور سماجی امور کی نگراں کام کرتی ہیں۔ انہیں اس کام کے لیے کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔

اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ جلِ کیلی کے ڈیوڈ پٹریئس کے ساتھ کوئی نامناسب تعلقات رہے ہوں۔

جل کیلی اور ان کے شوہر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں جنرل پیٹریئس کے خاندان کے ساتھ خاندانی روابط کی تصدیق کی گئی ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کے حقِ رازداری کا احترام کیا جائے۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، دونوں جماعتوں کے سیاستدان اب اس معاملے پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ ان سارے واقعات میں کہیں قومی سلامتی کو خطرے میں تو نہیں ڈالا گیا۔

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سربراہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن سینیٹر ڈائین فینسٹین کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور یہ خبر ان پر بجلی کی طرح گری۔

ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپرزنٹیٹوز) کی کمیٹی برائے ہوم لینڈ سکیورٹی کے چیئرمین اور ریپبلکن پارٹی کے رکن پیٹر کنگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس کو یہ بات صدارتی انتخاب کے روز ہی کیوں بتائی۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں قواعد و ضوابط کا خیال رکھا ہے اور انھیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ تھا۔

ڈیوڈ پیٹریئس ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد سے امریکہ کے اہم ترین فوجی افسروں میں سے ایک ہیں۔

دو ہزار گیارہ کے وسط میں جب لیون پنیٹا وزیرِ دفاع بنے تو جنرل پیٹریئس نے افغانستان میں فوجوں کی سربراہی چھوڑ کر سی آئی اے کی قیادت سنبھال لی۔

جنرل پیٹریئس کے بعد سی آئی اے ممکنہ طور پر مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس وقت ادارے کو بجٹ کٹوتی اور بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں اپنے کردار پر سوالات کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>