
ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی چار سو پینتیس نشستیں اور کانگریس کی تینتیس نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے
امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن ایک بات قطعی طور پر کہی جا رہی ہے کہ ان انتخاب کے بعد امریکی کانگریس کے ایوانوں میں تبدیلی کا امکان انتہائی کم ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو بدستور اکثریت حاصل رہے گی۔
نئے منتخب ہونے والے صدر چاہے وہ اوباما ہوں یا مٹ رومنی انہیں ایک منقسم پارلیمان کا سامنا ہوگا جہاں پر قانونی سازی آسان نہیں ہوگی۔
ایک اندازے کے مطابق اس انتخابی مہم کے دوران دو ارب ڈالر ایسے منفی اشتہارت پر صرف کیے گئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی تلخی کا اثرا زائل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔
ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی چار سو پینتیس نشستیں اور کانگریس کی تینتیس نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ میں قائد حزب اقتدار ہیری ریڈ اور ایوان نمائندگان میں اکثریتی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہئنر اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔
عام طور پر کانگریس میں موجود اراکین ہی اپنی نشستوں کا کامیابی سے دفاع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں کئی اعتبار سے نئے امیدواروں کے مقابلے میں برتری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے پاس اپنے حلقے میں خرچ کرنے کے لیے فنڈز ہوتے ہیں اس کے علاوہ اس مرتبہ بہت سے منتخب نمائندوں کو اپنے حلقے کی حد بندی کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا۔
ریپبلکن پارٹی کو اس مرتبہ امید تھی کہ وہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لیں گے کیونکہ ڈیموکریٹ پارٹی کو تیئس نشستوں کا دفاع کرنا تھا اور ان کے کئی سینیئر ارکان ریٹائر ہو رہے تھے۔ لیکن انڈیانا اور مزوری کی ریاستوں میں ریپبلکن کے امیدواروں کی طرف سے اسقاط حمل، ریپ اور زچگی کے بارے میں بیانات سے ان کو بہت نقصان پہنچا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط امیدواروں نے سینیٹ میں اس کی اکثریت برقرار رکھنے کے امکانات اور زیادہ روشن کر دیے اور وہ سینیٹ میں سینتالیس کے مقابلے میں تریپن ارکان کی برتری قائم رکھنے میں کامیاب حاصل کر سکتے ہیں۔
اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شائد وہ ایک اور سیٹ حاصل کر لیں۔ لیکن کسی بھی صورت میں وہ ایوان میں ساٹھ نشستیں حاصل نہیں کر پائیں گے جس کو ’سپر میجارٹی‘ یا نمایاں اکثریت کا نام بھی دیا جاتا ہے اور جو سینیٹ کے قواعد کے مطابق کسی بھی قانون کو باآسانی پاس کرانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
انتخابات میں سینیٹ کا پہلا نتیجہ ورمونٹ کی ریاست سے سامنے آیا اور وہاں توقعات کے عین مطابق عموماً ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے والے آزاد امیدوار برنی سینڈرز کامیاب قرار پائے۔
سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی ریپبلکن پارٹی کی امیدوں پر اس وقت مزید اوس پڑ گئی جب مین کی ریاست میں آزاد امیدوار جن کے بارے میں توقع ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیں گے رپبلکن پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کامیاب قرار پائے۔






























