
ترکی کی ایک عدالت چار اسرائیلی فوجی کمانڈرز پر سنہ دو ہزار دس میں ایک ترک بحری جہاز پر کارروائی کرنے کے جرم میں اُن کی عدم موجودگی میں مقدمے چلائے گی۔
سنہ دو ہزار دس میں اسرائیل کے غزہ کی بحری ناکہ بندی کرنے پر ترک جہاز ماوی مرمارا نے غزہ میں امدادی سامان لے کر پہنچنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اسرائیلی کمانڈوز جہاز پر چڑھے گیے اور قبضہ کر لیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں نو ترک امدادی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے تھے۔
مقدمے میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں ترک عدالت ان چار کمانڈرز کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر سکتا ہے۔
جہاز ماوی مرمارا پر چھ سو فلسطین کے حامی کارکن سوار تھے جب اسے بین الاقوامی سمندری حدود میں روکا گیا۔
اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس کے کمانڈوز نے ترک کارکنوں کی جانب سے حملے کے بعد دفاعی کارروائی کی تھی۔
اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی بحری ناکہ بندی ایک قانونی حفاظتی اقدام تھا اور اسرائیلی فوجیوں کو جہاز پر چڑھنے کے بعد ایک ’منظم اور پر تشدد‘ مخالفت کا سامنا تھا۔ مگر کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جہاز پر چڑھنا اور طاقت کا استعمال ضرورت سے زیادہ اور غیر معقول تھا۔
اسرائیل نے اس واقعہ کی اپنی تفتیش بھی کی تھی جس کے بعد حکومت نے ہلاکتوں پر اظہارِ افسوس کیا تھا۔
مئی میں ترک وکلاءِ استغاثہ نے چار ریٹائرڈ کمانڈرز پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ دارالحکومت انقرہ میں اسرائیلی سفارتخانے نے اس مقدمے کو یک طرفہ سیاسی اقدام قرار دیا جس کی کوئی عدالتی حیثیت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو اسرائیل اور ترکی کے درمیان مذاکرات سے حل کیا جائے گا۔






























