
مٹ رومنی نے اس سے قبل دو ہزار آٹھ میں بھی صدارتی امیدوار بننے کے کوشش کی تھی لیکن اس میں ناکام رہے۔
مٹ رومنی دوہزار بارہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ری پبلکن پارٹی کے سب سے مضبوط دعویدار کے طور پر ابھرے اور پارٹی میں اپنے تمام حریفوں کو زیر کرنے میں کامیاب رہے۔
وہ ایک بار میساچوسٹس کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل دو ہزار آٹھ میں بھی انھوں نے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی تھی۔
ان کے پاس دولت ہے، کاروباری تجربہ ہے، قومی سطح پر شناخت ہے اور فنڈ اکٹھا کرنے والوں اور حامیوں کا وسیع حلقہ ہے۔
چوڑے جبڑوں، چمکدار آنکھوں اور کنپٹیوں پر سے سفیدی مائل گھنے بالوں کی وجہ جاذب دکھائی دیتی شخصیت کی وجہ سے کچھ لوگ شروع سے ہی انھیں صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اس کے علاوہ چار دہائیوں سے وہ ایک ہی خاتون این رومنی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔
وہ دوہزار آٹھ میں وہ صدارتی دوڑ میں ایری زونا کے سینیٹر جان میکین سے ہار گئے تھے، لیکن اس کے بعد وہ خاموش نہیں بیٹھے اور جب تک براک اوباما وائٹ ہاؤس میں رہے، وہ دو ہزار بارہ میں امیدواری کے لیے حمایت کا دائرہ وسیع کرنے میں لگے رہے۔
ان کا خیال ہے کہ تجارت میں ان کا تجربہ ووٹروں کو اس بات کا قائل کر لے گا کہ وہ امریکہ کی معیشت کو اوباما کے مقابلے بہتر طریقے سے بحران سے باہر نکال سکتے ہیں۔
ری پبلکن پارٹی کی امیدواری کے لیے انھیں اپنے بنیادی ووٹروں کو اپنے قدامت پسند اصولوں کی گہرائی سے قائل کرنا پڑا۔ انھیں لوگوں کو اس بات کے لیے بھی راضی کرنا پڑا کہ میساچوسٹس کے گورنر کے طور پر وہ ان کے نسبتاً لبرل ریکارڈ کو نظر انداز کریں کیونکہ وہ ریاست زیادہ ڈیموکریٹک ہے۔

مٹ رومنی کو ری پبلکن پارٹی کے اہم فنڈ اکٹھا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کے راستے کی ایک اور رکاوٹ ان کا مورمن مسلک سے تعلق بھی تھا۔ نامزدگی کے مرحلے میں بہت سے مذہبی قدامت پسند لوگ اس سلسلے میں انھیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔
ولارڈ مٹ رومنی انیس سو سینتالیس میں ریاست مشی گن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جارج رومنی اس ریاست کے ری پبلکن پارٹی سے گورنر تھے اور انیس سو اڑسٹھ میں ری پبلکن کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں بھی شامل تھے۔
مٹ رومنی نے دو سال تک مورمن مشنری کے طور پر فرانس میں کام کیا اور اس کے بعد برگھم ینگ یونیورسٹی گئے اور ہارورڈ میں تجارت اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔
بعد میں رومنی مورمن چرچ میں اہم عہدے پر فائز ہوئے اور بوسٹن کے مینجمنٹ کنسلٹنگ کے ادارے بین اینڈ کمپنی سے منسلک ہو گئے اور کچھ ہی دنوں میں اس کے چیئرمین بن گئے۔ اس کے بعد انھوں نے بین کیپیٹل نامی کمپنی قائم کی۔
انیس سو چورانوے میں مٹ رومنی نے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیڈ کینیڈی کو ہرانے کی کوشش کی۔ اگرچہ وہ ناکام رہے لیکن انھوں نے ریاست میں اور ری پبلکن پارٹی میں اپنی اہمیت قائم کر لی۔
انیس سو ننانوے میں انھیں سالٹ لیک سٹی میں دو ہزار دو کے سرمائی اولمپک کھیلوں کے منتظم کے لیے چنا گیا۔ اگرچہ ان کھیلوں کی تیاری میں بدعنوانی نے کافی رخنہ ڈالا لیکن اس کے منتظمین رومنی کے مورمن چرچ سے تعلق، تجارتی سوجھ بوجھ اور ایمانداری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
ان اولمپکس کو عام طور پر کامیاب سمجھا گیا۔ بعد میں اسی سال مٹ رومنی گورنر کے انتخابات کے لیے میدان میں اترے اور اپنی میانہ روی کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔

گورنر کی حیثیت سے ان کے دور میں صحت کے شعبے کے لیے ایک جامع قانون جاری ہوا جس کے تحت میساچوسٹس کے تمام شہریوں کے لیے صحت کا بیمہ کرانا ضروری تھا۔ جو نہیں کرا سکتے تھے یا جنہیں ان کی کمپنی کی جانب سے بیمہ نہیں ملا تھا، ان سب کو رعایت دی گئی۔
دو ہزار بارہ کے صدارتی انتخابات میں ان کی اسی پالیسی نے انھیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
ان کے ناقدوں نے انھیں اوباما کی دو ہزار دس کی صحت کی پالیسی کا ذمے دار قرار دیا جس سے ری پبلکن نفرت کرتے ہیں۔ یہ پروگرام بنیادی طور اسی طرح کا تھا جس پر رومنی نے دوہزار چھ میں دستخط کیے تھے۔
اس بار اپنی امیدواری کا اعلان کرنے سے قبل بھی انھوں نے اپنی پالیسی کا دفاع کیا لیکن اوباما کے پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کٹر سماجی اصولوں کے باعث ان کے رویے پر بھی سوالات ہوتے رہے ہیں۔ انھی کے زمانے میں ایک عدالت نے ہم جنس شادی کو جائز قرار دیا تھا۔
انھوں نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ شادی کے قوانین میں تبدیلی عوام کے ووٹ کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے اور اس پر پابندی آئین میں ترمیم کے ساتھ ہی آسکتی ہے۔
انھوں نے دو ہزار گیارہ میں گورنر کے عہدے کے لیے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ صدارت کے عہدے کے لیے نبرد آزما ہو سکیں۔
دوہزار آٹھ کے انتخابات میں رومنی نے اپنے آپ کو ایک قدامت پسند امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور میساچوسٹس میں ان کی جیت سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ ڈیموکریٹک اور آزاد ووٹروں کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
لیکن رومنی اپنے خلوص اور اپنے بارے میں شکوک و شبہات کو کبھی بھی پورے طور سے زائل نہیں کرسکے۔ اسقاطِ حمل اور ہم جنسوں کے حقوق پر انھوں نے اپنا نقطۂ نظر تبدیل کیا تاکہ وسیع پیمانے پر ری پبلکن ووٹروں کو متاثر کر سکیں۔
اس سال فروری میں وہ تین کروڑ پچاس لاکھ ڈالر خرچ کرنے کے بعد صدارتی امیدواری کے میدان میں آ گئے۔ وہ اپنی امیدواری کی مہم کے دوران اکثر اپنے حریفوں کے بجائے ملک کے صدر کو نشانۂ تنقید بناتے رہے۔
اٹھائیس اگست کو رومنی کو پارٹی کی قومی کانفرنس میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارت کا امیدوار منتخب کیا گیا تب سے وہ مستقلًا براک اوباما کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔
چھ نومبر کو معلوم ہو گا کہ آیا امریکی عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں یا نہیں۔






























