امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ کے اہلخانہ نے ان کے دورِ اقتدار میں کم از کم پونے تین ارب ڈالر کی دولت حاصل کی ہے۔
اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد چین میں اخبار کی ویب سائٹ بلاک کر دی گئی ہے جبکہ مائیکرو بلاگنگ سروسز پر بھی اس خبر کے لنکس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے دستاویزات کی بنیاد پر کہا ہے کہ چینی رہنما کے جو رشتہ دار بہت امیر ہوگئے ہیں ان میں وین جیاباؤ کی ماں، بیٹا، بیٹی اور چھوٹے بھائی شامل ہیں تاہم اسے ایسے اشارے نہیں ملے ہیں کہ وین جیاباؤ اپنے خاندان کی تجارتی سرگرمیوں سے واقف یا ان میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بارے میں چینی حکومت اور وین جیا باؤ کے رشتہ داروں کا ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی، لیکن کسی نے بھی کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ وین جیا باؤ کی والدہ شمالی چین میں ایک استاد تھیں اور گزشتہ سال ایک تقریر کے دوران خود وین جیا باؤ نے کہا تھا کہ ان کا بچپن انتہائی غریب خاندان میں گزرا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ’اب یہ حالات بالکل بدل گئے ہیں اور وین جیا باؤ کی نوے سالہ والدہ نہ صرف غربت کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہیں بلکہ پوری طرح سے امیر بن چکی ہیں. کم سے کم دستاویزات تو یہی بتاتے ہیں‘۔
اخبار لکھتا ہے کہ چین میں مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی میں ہی ان کے نام سے پانچ سال پہلے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی.
حالانکہ یہ دولت انہوں نے کیسے حاصل کی یا پھر انہیں ان سب کے بارے میں معلوم ہے بھی یا نہیں، اخبار کے پاس اس کے تفصیلات نہیں ہیں.
لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ واضح ہے کہ یہ سب اس وقت ہوا جب ان کے بیٹے وین 1998 میں جب وہ ملک کے نائب وزیر اعظم اور اس کے پانچ سال بعد جب وزیراعظم بنے۔
نیویارک ٹائمز نے جو دستاویزات جمع کی ہیں، ان کے مطابق وین جیا باؤ کی نہ صرف والدہ، بلکہ ان کے بیٹے، بیٹی، چھوٹا بھائی اور دوسرے رشتہ دار بھی اس دوران غیر معمولی طور پر امیر بن گئے۔
اخبار لکھتا ہے کہ ان سب لوگوں کے نام سے کم سے کم دو ارب ستر کروڑ ڈالر کی جائیداد ہے۔






























