
گزشتہ پانچ روز سے ترک اور شام کی سرحد پر دونوں جانب سے مارٹر بموں اور گولیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے
ترکی کے ایک گاؤں پر شام کی طرف سے پھینکے جانے والے ایک مارٹر بم کے حملے کے بعد ترک توپ خانے نے جوابی کارروائی کی ہے۔ یہ مسلسل پانچواں روز ہے جب ترکی نے کسی کارروائی کا جواب دیا ہو۔
گزشتہ ہفتے شام کی طرف سے ترک گاؤں اکجا قلعہ میں گرنے والے مارٹر گولوں میں پانچ ترک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ترک پارلیمان کی جانب سے فوج کو شام میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دارالحکومت دمشق میں پولیس کے صدر دفتر کے باہر ایک کار بم حملے میں کم از کم ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ دھماکے سے پولیس کے صدر دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد گولیوں کی شدید آوازیں سنائی دی گئیں۔

دمشق میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے
اس سے قبل دن کے وقت شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں شدید لڑائی جاری رہی۔ یہ لڑائی باغیوں کے کنٹرول والے دو علاقوں میں ہوئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگی جہازوں نے باب الحديد اور شار ڈسٹرکٹ پر بمباری کی۔
اطلاعات کے مطابق شامی فورسز کی کارروائی دمشق اور حمص میں بھی جاری ہے۔
دریں اثناء غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق باغیوں نے ہاتے صوبے میں ترک سرحد کے قریب ایک فوجی چوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس علاقے میں جھڑپوں کے بعد ہی شامی فوج کی طرف سے چلائے گئے مارٹر بم سرحد پار ترکی میں گرے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں جاری جنگ سے اب تک بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ حزبِ مخالف کے کارکنان یہ تعداد تیس ہزار بتاتے ہیں۔






























