فرانس: ’گرو‘ نے برسوں تنہائی میں رکھا

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

عدالت کے باہر متاثرہ فیلی کا ایک فرد وکیل سے بات کرتے ہوئے

فرانس کی ایک عدالت اس شخص کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک مالدار خاندان کے اہل خانہ کو انہی کے محل میں برسوں تک تن تنہا رکھا۔

تھیئری ٹلی نامی شخص مبینہ طور پر محل کے مکینوں کو یہ کہہ کر ڈراتے رہے کہ انہیں فری میسن کے لوگ ہلاک کر سکتے ہیں اور اسی خوف سے انہیں باہر نکلنے ہی نہیں دیا۔

اڑتالیس سالہ ٹلی پر بورڈیوکس کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے جہاں انہوں نے اپنے پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ فرانس کے ایک امیر خاندان دی ویدرنز فیملی کے گيارہ ارکان کو وہ ایک عشرے تک جھانسہ دیتے رہے اور تقریباً ساٹھ لاکھ ڈالر نقصان پہنچایا۔ لیکن مسٹر ٹلی کا کہنا ہے کہ وہ اس خاندان کی حفاظت کر رہے تھے۔

خاندان کی طرف سے ایک وکیل بینوئٹ ڈکوس ایڈر کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹلی ’الگ ہی طرح کے گرو ہیں۔‘

گھشلن ڈی ویڈرن، جنہوں نے مسٹر ٹلی کو مذکورہ خاندان سے متعارف کروایا تھا، کا کہنا ہے کہ ’ وہ ایک جھوٹے دھوکے باز ہیں۔ اس نے ہمیں مختلف کہانیاں بتا بتا کر اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر یرغمال بنائے رکھا۔‘

عدالت کے اندر مسٹر ٹلی نے جب اپنا تعارف یہ کہہ کر کیا کہ ان کا تعلق ہیبسبرگ کے خاندان سے ہے اور وہ فری میسن کے قبضہ میں رہے ہیں تو لوگ ان کے اس دعوے پر ہنس پڑے۔

ان کا کہنا تھا ’بارہ برس کی عمر میں وہ اس وقت جہاز سے کود پڑے جب جنرل مارکی ( فرانس کے ایک معرف فوجی جرنل) نے انہیں خصوصی پیغام الہی سنایا۔‘

مسٹر ٹلی کو دو ہزار نو میں سوئٹرزر لینڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے ایک دوسرے ساتھی جیک گونزلیز بھی آئندہ پیر کو عدالت میں پیش ہونے والے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مذکورہ خاندان شہر کے مضافات میں واقع محل میں مقیم تھا۔ خوف کے سبب اس خاندان نے بعد میں انگلینڈ کے آگسفورڈ شہر میں بھی کافی دن گزارے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>