
عدالت کے باہر متاثرہ فیلی کا ایک فرد وکیل سے بات کرتے ہوئے
فرانس کی ایک عدالت اس شخص کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک مالدار خاندان کے اہل خانہ کو انہی کے محل میں برسوں تک تن تنہا رکھا۔
تھیئری ٹلی نامی شخص مبینہ طور پر محل کے مکینوں کو یہ کہہ کر ڈراتے رہے کہ انہیں فری میسن کے لوگ ہلاک کر سکتے ہیں اور اسی خوف سے انہیں باہر نکلنے ہی نہیں دیا۔
اڑتالیس سالہ ٹلی پر بورڈیوکس کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے جہاں انہوں نے اپنے پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ فرانس کے ایک امیر خاندان دی ویدرنز فیملی کے گيارہ ارکان کو وہ ایک عشرے تک جھانسہ دیتے رہے اور تقریباً ساٹھ لاکھ ڈالر نقصان پہنچایا۔ لیکن مسٹر ٹلی کا کہنا ہے کہ وہ اس خاندان کی حفاظت کر رہے تھے۔
خاندان کی طرف سے ایک وکیل بینوئٹ ڈکوس ایڈر کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹلی ’الگ ہی طرح کے گرو ہیں۔‘
گھشلن ڈی ویڈرن، جنہوں نے مسٹر ٹلی کو مذکورہ خاندان سے متعارف کروایا تھا، کا کہنا ہے کہ ’ وہ ایک جھوٹے دھوکے باز ہیں۔ اس نے ہمیں مختلف کہانیاں بتا بتا کر اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر یرغمال بنائے رکھا۔‘
عدالت کے اندر مسٹر ٹلی نے جب اپنا تعارف یہ کہہ کر کیا کہ ان کا تعلق ہیبسبرگ کے خاندان سے ہے اور وہ فری میسن کے قبضہ میں رہے ہیں تو لوگ ان کے اس دعوے پر ہنس پڑے۔
ان کا کہنا تھا ’بارہ برس کی عمر میں وہ اس وقت جہاز سے کود پڑے جب جنرل مارکی ( فرانس کے ایک معرف فوجی جرنل) نے انہیں خصوصی پیغام الہی سنایا۔‘
مسٹر ٹلی کو دو ہزار نو میں سوئٹرزر لینڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے ایک دوسرے ساتھی جیک گونزلیز بھی آئندہ پیر کو عدالت میں پیش ہونے والے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ مذکورہ خاندان شہر کے مضافات میں واقع محل میں مقیم تھا۔ خوف کے سبب اس خاندان نے بعد میں انگلینڈ کے آگسفورڈ شہر میں بھی کافی دن گزارے۔






























