افغانستان میں پاکستانی اخباروں پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 16:58 GMT 21:58 PST

افغانستان حکومت نے اخبارات کے ذریعے عوام پر طالبان کی طرف سے اثر انداز ہونے کی کوششوں کا توڑ کرنے لیے پاکستان سے آنے والے تمام اخبارات پر پابندی لگا دی ہے۔

افغان حکومت کی طرف سے طورخم کے ذریعے آنے والے اخبارات پر پابندی لگا دی ہے اور پولیس کو کہا ہے کہ مشرقی صوبوں نگرہار، کنڑ اور نورستان کے صوبوں میں تمام پاکستانی اخبارات کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

کابل سے بی بی سی کے پشتو سروس کے نامہ نگار نے افغان وزارتِ داخلہ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہ پابندی پاکستانی اخبارات کی طرف سے طالبان اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کو مبینہ طور ہوا دینے اور حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تجزیوں پر خبروں کے شائع کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی اخبارات طالبان کے پراپگنڈہ کا ذریع بن رہے تھے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اکثر خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ اس کشیدگی کا ایک عکس جمعرات کو اقوام متحدہ میں بھی نظر آیا جہاں افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقی صوبے کنٹر میں بمباری بند کرے جں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس بمباری سے دوطرفہ تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور اس سے خطے میں قیام امن کی کوششوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان فوج کی طرف سے اپنے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے بہت سے پاکستانی طالبان بھاگ کر کنٹر صوبے میں جمع ہو گئے ہیں جہاں سے امریکی فوج واپس بلا لی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>