
ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں ہیلی کاپٹر کو زمین پر گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے
شام میں باغیوں نے دارالحکومت دمشق کے اوپر ایک فوجی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) نے کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر شہر کے شمال مشرقی علاقے جوبر میں لوگوں پر گولیاں برسا رہا تھا۔
باغیوں کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کو جوبر کے ملحقہ علاقے قبون میں مار گرایا گیا ہے۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی ہے کہ قبون میں ایک ہیلی کاپٹر گرا ہے۔
اتوار کے روز حکومت مخالف کارکنوں نے کہا تھا کہ سرکاری فوج نے دمشق کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے داریا میں تین سو سے زائد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں بیسیوں لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ سرکاری میڈیا نے ان ہلاکتوں کا الزام حزبِ مخالف پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ داریا کو’دہشت گرد عناصر سے پاک کر لیا گیا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے شام کے بارے میں غیر جانب دار کمیشن کے چیرمین پاؤلو پنہایرو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ہلاکتیں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
حزبِ مخالف کارکنوں کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ جوبر کے علاقے میں گولہ باری کر رہا تھا۔ اس علاقے میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی۔
عینی شاہدین نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر نشانہ بننے کے بعد شعلوں میں گھر گیا اور قریبی رہائشی علاقے قبون میں گر کر تباہ ہو گیا۔
ایک مقامی کارکن ابوبکر نے بتایا، ’یہ ہیلی کاپٹر تمام صبح شہر کے مشرقی علاقے میں پرواز کرتا اور گولیاں برساتا رہا تھا۔ باغی کوئی ایک گھنٹے سے اسے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بالآخر وہ کامیاب ہو گئے۔‘
کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں ایک جلتا ہوا ہیلی کاپٹر زمین پر گرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ باغیوں کو ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے اس بات کی تصدیق تو کی ہے کہ قبون میں الغفون مسجد کے قریب ہیلی کاپٹر گرا ہے تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اسے گرایا گیا ہے۔
دمشق میں ایف ایس اے کی بدر بٹالین کے ترجمان قمر القبونی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی نعش مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ داریا کے قتلِ عام کا بدلہ ہے۔‘
بظاہر یہ ہیلی کاپٹر حکومت کی طرف سے اس بتدریج بڑھتی ہوئی شدید فوجی مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد دارالحکومت کے نواح پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔






























