
امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد امریکی تھے
افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کاروں کے حملوں اور سڑک کنارے نصب بموں کے پھٹنے سے سات غیر ملکی فوجیوں سمیت پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ہلاکتوں کے یہ تمام واقعات اتوار کو پیش آئے ہیں۔
افغانستان میں تعینات اتحادی افواج میں شامل چھ امریکی فوجی مشرقی افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنے۔
نیٹو نے ابتدائی طور پر جاری کردہ بیان میں ہلاکتوں کی تصدیق تو کی لیکن مرنے والوں کی قومیتوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ تاہم اب امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد امریکی تھے۔
نیٹو کا ایک فوجی اتوار کو طالبان عسکریت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنا جبکہ صوبہ قندھار میں ہونے والے تین دھماکوں میں اٹھارہ افراد مارے گئے۔
قندھار کی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق نے بتایا کہ دو بم پاکستانی سرحد سے ملحقہ ضلع ارغستان میں سڑک کے کنارے نصب تھے اور مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

صوبہ قندھار میں ہونے والے تین دھماکوں میں اٹھارہ افراد مارے گئے
ان کا کہنا تھا کہ پہلے بم کا نشانہ ایک کار بنی جبکہ دوسرا بم اس وقت پھٹا جب ایک ٹریکٹر پر سوار افراد پہلے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے۔ ان دونوں دھماکوں میں سولہ شہری مارے گئے
تیسرا دھماکہ اسی ضلع میں ان دو دھماکوں کے چند گھنٹے بعد ہوا اور اس میں دو عورتیں ہلاک ہوئیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغان جنگ کے دوران گزشتہ برس سب سے زیادہ شہری ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے اور ان واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔
رواں برس شہری ہلاکتوں کے واقعات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم اب بھی افغان شہری آئے روز بم حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔






























