یوکرین جنگ: حاملہ طبی کارکن روس کی قید میں

    • مصنف, بین ٹوبیاس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

آٹھ ماہ کی حاملہ ایک یوکرینی خاتون کو مشرقی یوکرین میں روس کے زیر قبضہ علاقے میں واقع ایک بدنام زمانہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ دوستوں اور اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں ایک بدنام زمانہ جیل کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

ماریانا مامونوا، ایک فوجی ڈاکٹر ہیں انھیں اپریل کے شروع میں ماریوپول میں فرائض کی ادائیگی کے دوران قید کیا گیا تھا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دونیسک کے علاقے اولینیوکا کے جیل کیمپ میں مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے، جہاں حال ہی میں درجنوں یوکرینی قیدی ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ اس حملے کا الزام دونوں فریق ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

ماریانا کے اہلخانہ نے یوکرین کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ستمبر کے آخر میں اُن کی زچگی سے قبل قیدیوں کے تبادلے کے دوران انھیں بھی رہا کروایا جائے۔

ماریانا کی موجودہ حالت کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اگر وہ جیل میں زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں تو ان کا یا بچے کا کیا ہو گا۔

یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں اور اس معاملے پر حکومت کی ’خصوصی توجہ‘ ہے۔

ماریانا کے شوہر ویسیلی کو اس وقت علم ہوا کہ ان کے ہاں پہلا بچے ہونے والا ہے جب وہ فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہی تھی، اور اس کے بعد سے انھوں نے ماریانا کو نہیں دیکھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ واقعی مجھے ذاتی طور پر بتانا چاہتی تھیں لیکن اس کے بجائے انھوں نے کچھ اشارے بھیجے، ایک چھوٹے بچے کے ساتھ ماں اور باپ کے ایموجیز‘

لیکن یہ جاننے کے چند ہفتوں بعد کہ وہ باپ بننے والے ہیں ویسیلی کو سوشل میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ ان کی بیوی کو روسی افواج نے پکڑ لیا ہے۔

اولینیوکا جیل کیمپ 2014 سے دونیسک میں روسی حمایت یافتہ حکام کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں کے حالات انتہائی خراب بتائے جاتے ہیں۔

ایک ساتھی قیدی انا ووروشیوا نے بتایا کہ ماریانا 20 سے زیادہ دیگر قیدیوں کے ساتھ ایک کمرے میں تھیں جب وہ پہلی بار وہاں لائی گئیں تو انھیں فرش پر سونا پڑا۔

جولائی میں رہا ہونے والی وروشیوا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خواتین ہر وقت ایک دوسرے سے بات کرتی تھیں اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ حاملہ ہیں۔ فوراً ہی، سب نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی، انھیں کھانا دیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ انھیں تازہ ہوا ملے۔ ‘

بالآخر ماریانا کو کم لوگوں کے ساتھ ایک چھوٹے کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ ہر رات کمرے کے دو بستروں میں سے ایک پر سو سکتی ہیں۔

ووروشیوا کے مطابق، جب ماریانا وہاں آئی تھیں تو وہ قیدیوں کے تبادلے میں جانے کے بارے میں پرامید تھی۔ تمام خواتین کا خیال تھا کہ ان کے حمل کی وجہ سے انھیں ترجیح دی جائے گی۔

’وہ ایک طبی کارکن ہے، وہ اپنے جسم کو سمجھتی ہے۔ بچے نے وقت پر حرکت شروع کی، تو وہ سمجھ گئی کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے۔‘

لیکن جون کے آخر میں، جیل کے ایک محافظ نے ماریانا کو بتایا کہ اسے کم از کم مزید ڈیڑھ ماہ تک رہا نہیں کیا جائے گا، یعنی ان کی رہائی زچگی سے محض چھ ہفتے قبل ممکن ہوگی۔

وروشیوا کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ بہت زیادہ پریشان ہو ئیں کہ شاید وہ قید میں ہی بچے کو جنم دیں گی۔

’دونیسک میں ہسپتال اور سہولیات طبی برادری سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، وہاں ہر چیز اس قدر زوال کا شکار ہے کہ وہاں بچے کو جنم دینا خوفناک ہے۔‘

مناسب طبی سہولیات کے بغیر جنم دینے کے خطرات کے ساتھ ساتھ، ماریانا کو خدشہ تھا کہ بچہ ان سے چھین لیا جائے گا۔ ویسیلی کو بھی یہی خدشات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بچے کو ان حالات میں نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے وہ اسے لے جا سکتے ہیں۔‘ وہ (ماریانا) اس وقت بہت پریشان ہوں گی۔‘

ماریانا کی بہترین دوستوں میں سے ایک، کیسنیا فارینا، جو دوسرے سابق قیدیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، کہتی ہیں کہ ماریانا کو بتایا گیا تھا کہ وہ تین سال کی ہونے کے بعد اپنے بچے سے الگ ہو سکتی ہے۔

ماریانا کی صحت اور قید میں زچگی سے متعلق بی بی سی کے سوالات کا نہ تو دونیتسک حکام نے اور نہ ہی روسی دفاعی فوج نے کوئی جواب دیا ہے۔

ماریانا کے دوستوں اور اہل خانہ کو ان کی گرفتاری کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی روسی پروپیگنڈا ویڈیوز سے پتہ چلا۔

ایسی ہی ایک ویڈیو جو 4 اپریل کو چیچن رہنما رمضان قادروف کے ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کی گئی تھی، مبینہ طور پر 267 یوکرینی میرینز کے ایک گروپ کو دکھایا گیا ہے جنھوں نے روسی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے قیدیوں میں ماریانا کا چہرہ پہچان لیا۔

ان کے خاندان نے فوری طور پر یوکرین کی حکومت پر معلومات کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا لیکن انھیں بار بار کہا گیا کہ وہ انتظار کریں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے شوہر ویسیلی کہتے ہیں کہ ’قیدیوں کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں، لیکن میں سمجھ نہیں پایا کہ ماریانا اس کا حصہ کیوں نہیں تھیں‘۔

انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ وہ حاملہ ہونے کے دوران فرنٹ لائن پر کیوں رہی، خاص طور پر ماریوپول میں جو جنگ کے پہلے تین مہینوں کے دوران ہفتوں تک مسلسل روسی بمباری کا شکار رہا۔

فارینا کہتی ہیں کہ تنازعے کے آغاز میں ماریانا پر امید اور مثبت تھی لیکن جب ماریوپول میں حالات خراب ہوتے گئے تو انھوں نے ان سے رابطہ منقطع کر لیا۔ ماریانا کی طرف سے انھیں آخری پیغام 17 مارچ کو موصول ہوا تھا جس میں صرف لکھا تھا ’میں زندہ ہوں۔‘

ماریانا کے دوست اور خاندان چار ماہ تک صبر سے خبر کا انتظار کرتے رہے لیکن جیسے ہی ان کی زچگی کی متوقع تاریخ قریب آگئی، اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو انھوں نے اس کے کیس کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں ان کی رہائی کے لیے درخواست شروع کرنا بھی شامل ہے۔

یوکرینی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

قیدیوں کے امور کے کوآرڈینیشن ہیڈ کوارٹر کے اہلکار آندری یوسوف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یقینی طور پر اس معاملے کے حل کی امید ہے۔‘

’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ان سے آخری بات کب کی تھی لیکن اس کیس کی باضابطہ اور غیر رسمی طور پر بہت قریب سے نگرانی کی جاتی ہے۔‘

ویسیلی کو امید ہے کہ ان کی بیوی کے بارے میں بات کرنے سے روسی حمایت یافتہ حکام انھیں خالصتاً انسانی بنیادوں پر رہا کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

ویسیلی کا کہنا ہے کہ ’ایک ماں اور اس کے بچے ہر جگہ مقدس ہیں۔۔۔ انھیں آزاد کرنے دو۔ انسان ہونے کے ناطے، انھیں جانے دو۔ وہ ایک اچھی انسان ہیں، وہ ایک چھوٹے سے چمکتے سورج کی طرح ہے۔‘

اضافی رپورٹنگ: ڈاریا سیپیگینا