روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا بخار یورپی شہریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے: پوتن

    • مصنف, پال کبرلی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں فوجی کارروائی کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے روس پر عائد کردہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب پر سوار پابندیوں کے بخار نے پوری دنیا کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

روس کے شہر ولادیوسٹک میں معاشی حالات پر ہونے والی ایک کانفرنس میں روسی صدر نے کہا کہ روس مغرب کی طرف سے اقتصادی یلغار کا بخوبی مقابلہ کر رہا ہے۔

روسی صدر نے خبردار کیا ان اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے مغرب کے لوگوں کے معیار زندگی کو قربان کیا جا رہا ہے جبکہ باقی دنیا کے غریب ملکوں کے لیے خوراک تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔

ولادیمیر پوتن نے مغرب پر الزام عائد کیا کہ وہ غریب ملکوں کے لیے یوکرین کے اجناس چوری کر رہا ہے۔

روس کی افواج نے کئی ماہ سے یوکرین کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا تھا لیکن اگست کے آواخر سے جب سے یوکرین سے اجناس کی ترسیل بحال ہوئی ہے روسی صدر کے مطابق صرف دو بحری جہاز غلہ لے کر افریقہ جا سکے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر از سر نو بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن یوکرین کے حکام نے روسی صدر کے اس بیان کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

روس نے اس سال فروری کی 24 تاریخ کو یوکرین میں فوجی کشی شروع کی تھی جس امریکہ اور اس کے اتحادی حملہ قرار دیتے ہیں جبکہ روس اسے فوجی کارروائی کا نام دیتا ہے۔ فروری سے اب تک روس کی افواج یوکرین کے پانچویں حصہ پر ہی قبضہ کر پائی ہیں جبکہ روسی افواج کو یوکرین کی طرف سے شدید مزاحمت کے باعث دارالحکومت کیئو اور شمالی حصوں سے پسپا ہونا پڑا اور اب روسی فوج کو یوکرین کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جوابی حملوں کا سامنا ہے۔

روس کی طرف سے اس جارحیت کے جواب میں امریکہ اور مغربی ممالک نے روسی شخصیات، کارروباری اداروں اور سرکاری شعبے کی صنعتوں پر کڑی اور وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یورپی یونین نے مغربی ممالک کا روس سے حاصل کردہ تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیئے اور دوسری طرف روس نے جرمنی کو روسی گیس فراہم کرنے والی سب سے بڑی پائپ لائن نورڈ سٹریم ون کو تکنیکی وجوہات کا عذر پیش کرتے ہوئے بند کر دیا۔

نتیجاتاً بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یورپی ملکوں کے وزراء اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے جمعہ کو ایک ملاقات کر رہے ہیں۔

روس کے صدر نے روس سے درآمد کی جانے والی گیس کی قیمتوں کو ایک سطح تک محدود رکھنے کی تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک احمقانہ قدم ہو گا۔

صدر پوتن نے کہا کہ مغرب اپنے رویے دوسرے ملکوں پر مسلط کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی کمپنیوں نے روس میں اپنا کاروبار بند کر دیا لیکن اب اس کا نتیجہ مغرب میں پیداوار میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ روسی کمپنیوں پر بھی اس کا اثر پڑا ہے اور وہ اضافی آلات کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ روس میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپی یونین نے روس سے براہ راست پروازوں پر پابندی لگا دی ہے اور یونین میں شامل 27 ممالک نے روسی شہریوں کے لیے یورپی ممالک کے لیے ویزے کے حصول کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔

شنجن ویزے کی فیس میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ ویزا یورپی یونین میں شامل 27 میں سے 22 ملکوں میں داخلے کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ بلقان کی تین ریاستوں نے بھی روس کے شہریوں کے سرحد پار کرنے پر پابندی لگا دی ہے سوائے ان ٹرک ڈرائیوروں اور ان لوگوں کے جن کی دوسری طرف رشتہ داریاں ہیں یا جن کی فوری انسانی مجبوریاں درپیش ہوں۔

صدر پوتن نے اپنی تقریر میں جس کے مخاطب مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ مغربی مبصرین تھے کہا کہ ڈالر، یورو اور پاونڈ کی قدر لوگوں کی نظر میں گرتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف اس جنگ سے روس کی خودمختاری مضبوط اور مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم نے اس جنگ می کچھ نہیں کھویا اور نہ ہی کھوئیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یوکرین کے وزیر خارجہ ڈمیٹرو کلیبا نے کہا کہ روس اپنے توانائی کے وسائل سے یورپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ’پوتن یورپ کے ہر گھر کے استحکام اور فلاح و بہبود کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔‘

چین کے اعلیٰ قانون ساز لی ژانشو فورم میں شرکت کر رہے تھے اور روسی صدر نے کہا کہ "کوئی روس کو کتنا ہی تنہا کرنا چاہے، ایسا کرنا ناممکن ہے"۔ روسی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ صدر پیوتن اگلے ہفتے ازبکستان میں چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

جب تک اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا جس کا مقصد روس کی جانب سے بحیرہ اسود کی تین بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ختم کرنا تھا، اناج کی برآمدات کم سے کم رہ گئی تھیں۔ ترسیلات بتدریج دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور اقوام متحدہ کا چارٹرڈ جہاز 23 ہزار ٹن لے کر گزشتہ ہفتے جبوتی پہنچا تھا۔ یہ اناج اب 60 لاریوں میں ایتھوپیا پہنچ گیا ہے جس کا مقصد خشک سالی اور خانہ جنگی سے متاثرہ ملک میں 15 لاکھ سے زیادہ افراد کو کھانا کھلانا ہے۔

دیگر بحری جہاز یمن اور سوڈان روانہ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد بحری جہاز مصر کی بندرگاہوں پر جا چکے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت ترکی میں ایک مشترکہ مرکز کی طرف سے تمام کارگو کی منظوری دی جاتی ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ اب تک دو ملین ٹن کی اجازت دی جا چکی ہے جن میں ترکی اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپی یونین کی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔

لیکن صدر پوتن نے بہت سے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی استعماری دور کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردگان کو تجویز پیش کریں گے کہ یوکرین سے غلہ جن ملکوں کو بھیجا جا رہا ہے ان کو محدود کریں۔

روسی رہنما نے مؤقف اختیار کیا کہ ترکی کو ثالث ملک کے طور پر شمار نہ کرنے سے عملی طور پر یوکرین سے نکالا گیا تمام اناج غریب ترین اور ترقی پذیر ممالک کے لیے نہیں بلکہ یورپی یونین کے ممالک کو بھیجا جا رہا ہے۔

یوکرین کے ایک صدارتی مشیر نے ان پر بے بنیاد بیانات لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ روسی رہنما دنیا بھر میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالنے کے خواہاں ہیں.