جاپانی بحریہ کی نیند اڑانے والے امریکی بحری جہاز کا ملبہ سمندر کے گہرے ترین مقام سے دریافت

سمندر کی گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے بحری جہازوں کے متلاشی دوسری عالمی جنگ کے دوران ڈوبنے والے ایک جہاز کے ملبے کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ اب تک سمندر کی سب سے زیادہ معلوم گہرائی میں ملنے والا جہاز ہے۔

'یو ایس ایس سیموئیل بی رابرٹس' نامی ڈیسٹرائر ایسکارٹ جہاز اکتوبر 1944 میں فلپائن میں ایک معرکے کے دوران ڈوب گیا تھا۔ سمندر میں یہ 6895 میٹر کی گہرائی میں موجود ہے۔

ٹیکساس کے ارب پتی مہم جو وکٹر ویسکووو کو اس جہاز کا ملبہ ملا ہے جو اگرچہ تباہ شدہ حالت میں ہے مگر اس کے چند حصے برقرار ہیں۔ وکٹر ویسکووو ایک مہم جو ہیں جو گہرے پانیوں میں غوطہ خوری کرنے کی حامل ایک آبدوز کے مالک ہیں۔

'یو ایس ایس سیموئیل بی رابرٹس' نامی یہ جہاز جاپانیوں کے خلاف اپنے آخری معرکے میں بہادری سے ڈٹ جانے کے لیے مشہور ہے۔ ڈوبنے سے قبل اس جہاز نے دشمن کے کئی بحری جہازوں کو اپنی دلیری سے پریشان رکھا اور ایک حد تک محدود رکھا۔

سیموئیل بی رابرٹس نامی جہاز پر عملے کے 224 افراد سوار تھے جن میں سے 89 ہلاک ہوئے۔ بچ جانے والے 120 افراد نے سمندر سے ریسکیو کیے جانے سے قبل 50 گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں گزارے۔

زیر آب اس جہاز کے ملبے کو ڈوب نکالنے والے وکٹر ویسکووو، جو کسی زمانے میں بحریہ کے محافظ تھے، نے کہا کہ گمشدہ جہاز کا پتہ لگانا ایک غیر معمولی اعزاز کی بات ہے اور ایسا کرنے سے انھیں اس جہاز کے بہادری سے ڈٹ جانے اور فرض شناسی کی حیرت انگیز کہانی سُنانے کا ایک اور موقع ملا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہم یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ سٹیل جھوٹ نہیں بولتا اور ان جہازوں کے ملبے ان لڑائیوں کے آخری گواہ ہیں جو انھوں نے لڑی ہیں۔‘

’یو ایس ایس سیموئیل بی رابرٹس (جسے عرف عام میں سیمی بی بھی کہا جاتا ہے) نے جاپانی جہازوں کو مصروف رکھا اور ان پر اتنی تیزی سے گولہ باری کی کہ گولہ بارود ختم ہو گیا۔ گولہ بارود ختم ہونے کے بعد یہ جہاز جاپانی بحری جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش میں دھوئیں کے گولے اور الیومینیشن راؤنڈز ان پر داغتا رہا۔ یہ مسلسل فائرنگ کرتا رہا جو بہادری کا ایک غیر معمولی مظاہرہ تھا۔ ان جہازوں پر موجود لوگ درحقیقت موت سے لڑ رہے تھے۔‘

مہم جو وکٹر ویسکووو کی 'دی لمیٹنگ فیکٹر' نامی آبدوز سے لی گئی تصاویر سے اس جہاز کے ڈھانچے، توپوں اور ٹارپیڈوز ٹیوبز کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سیمی بی جہاز پر جاپانی گولے لگنے سے سوراخ ہیں اور اس کے بیرونی حصہ پر ایک زور دار چوٹ پہنچنے کے شواہد بھی ہیں۔ اس کی ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈوبتے وقت اس جہاز کا اگلا حصہ پہلے سمندر کی سطح سے ٹکرایا تھا۔

یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس جہاز کا ڈھانچہ کتنی گہرائی میں موجود ہے، دنیا کے 98 فیصد سمندروں کی تہہ چھ ہزار میٹر سے کم گہری ہے اور صرف ٹیکٹونک خندقیں یا گڑھے ہی سمندر میں اس سے زیادہ گہرے ہیں۔

بیٹل آف سمر کو تاریخ کی سب سے بڑی بحری جنگوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ ایک زبردست معرکہ، جس نے بالآخر جاپانی امپیریل بحریہ کو اپنی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کیا اور انھیں بہت پریشان کیے رکھا۔ اس جنگ میں دونوں جانب سے متعدد بحری جہاز سمندر برد ہو گئے تھے۔

گذشتہ برس مہم جو ویسکووو 6460 میٹر گہرائی سے تبدہ ہونے والے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جانسٹس کے ملبے کو بھی ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

یہ بالکل ممکن ہے کہ سمنر میں سیمی بی یا جانسٹن بحری جہازوں سے بھی گہرائی میں دیگر جہاز موجود ہوں۔

ویسکووو کی مہم کے انتظامات کرنے والی کمپنی آئییوس کے نمائندے کیلون مرے کا کہنا ہے کہ ' ابھی دو اور امریکی بحری جہاز ایسے ہیں جن کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان میں سے ایک یو ایس ایس گیمبیر بے اور دوسرا یو ایس ایس ہوئل ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

' ہمارے پاس اس سے متعلق تاریخی ریکارڈز ہیں کہ وہ دونوں جہاز کہاں ڈوب سکتے ہیں۔ ہم نے گیمبیئر بے پر ایک نظر ڈالی ہے، لیکن یہ ایک جاسوسی کا کام ہے اور اس طرح کے گہرے سمندر کے آپریشن پہلے کبھی نہیں کیے گئے تھے۔ میں بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف کام نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ اس حوالے سے اور بھی بہت سی تحقیق کی گئی ہے۔ لیکن اس قسم کی مہم جوئی میں سمندر کی گہرائی سے جہاز کے ملبے کے ملنے میں قسمت کا بھی ایک خاص ہاتھ ہے۔'

ہم جو ویسکووو وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے دنیا کے پانچوں بحیروں میں سب سے گہرے مقامات کا دورہ کیا ہے۔

انھوں نے ساتوں براعظموں کی سب سے انوچی چوٹیاں بھی سر کر رکھی ہیں اور حال ہی میں وہ جیف بیزوس کی کمپنی ایمازون کے تیار کردہ خلائی راکٹ نیو شیفرڈ میں خلا کا سفر بھی کر کے آئے ہیں۔