آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوکرین جنگ: صدر ولادیمیر پوتن کے مشیر خوفزدہ ہیں اور انھیں گمراہ کر رہے ہیں، امریکہ کا دعویٰ
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ان کے مشیروں کی جانب سے گمراہ کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اس بارے میں بتانے سے ڈرتے ہیں کہ یوکرین میں جنگ کے بُرے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پوتن کے مشیر انھیں یہ بھی نہیں بتا رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے پابندیوں کی صورت میں روسی معیشت کتنی متاثر ہوئی ہے۔ کریملن نے ان جائزوں پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
دریں اثنا برطانوی انٹیلیجنس کے مطابق یوکرین میں روسی فوجیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جبکہ ان کے پاس سامان کم پڑ رہا ہے اور وہ اب احکامات پر عملدرآمد سے انکار کر رہے ہیں۔
’صدر پوتن اور ان کی فوجی قیادت کے درمیان تناؤ‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹ بیڈنگفیلڈ نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسی معلومات ہے کہ پوتن کو ’روسی فوج کے بارے میں گمراہ کیا جا رہا ہے۔‘ اس کے نتیجے میں ’پوتن اور فوجی قیادت کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’پوتن کی جنگ ایک سٹریٹیجک غلطی تھی اور اس نے روس کو طویل مدت کے لیے کمزور اور عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔‘
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے ان جائزوں کو ’پریشان کن‘ کہا کیونکہ اگر پوتن بے خبر رہتے ہیں تو امن مذاکرات کے ذریعے لڑائی کے خاتمے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ایسا رہنما بُری خبر پر کیسا ردعمل دے گا۔‘
یوکرینی افواج نے روس سے کچھ علاقے واپس لینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ منگل کو اس کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کیئو اور شمالی شہر چرنیہیو میں دستوں کی موجودگی کم کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی سائبر انٹیلیجنس ایجنسی (جی سی ایچ کیو) کے سربراہ جیرمی فلیمنگ کا کہنا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے روس نے ’صورتحال کا غلط اندازہ لگایا‘ اور اب اسے ’دوبارہ سوچنے پر مجبور‘ کیا جا رہا ہے۔
فلیمنگ نے یہ بھی کہا کہ پریشان روسی فوجیوں نے اپنا ہی سامان سبوتاژ کیا اور ایک طیارے کو حادثاتی طور پر گِرا دیا۔
انھوں نے چین کو متنبہ کیا کہ وہ یوکرین میں مداخلت کے بعد روس کا ’بہت زیادہ ساتھ نہ دے‘ کیونکہ اس اتحاد سے بیجنگ کے طویل مدتی مفادات متاثر ہوسکتے ہیں۔
گراؤنڈ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی اور امریکی حکام کہتے ہیں کہ روسی دستوں کو کیئو سے دور تعینات کیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس کی وجہ مشرقی علاقوں کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہے۔
دیگر اہم اطلاعات
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دباؤ کم کرنے کے روسی دعوؤں پر شک ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس دوران ہی مشرقی ڈونباس علاقے میں ’نئے فضائی حملے‘ ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں کسی پر اعتباد نہیں۔ کسی ایک اچھے لفظ پر نہیں۔‘
روسی وزارت دفاع نے جمعرات کو افواج سے گھرے ماریوپل میں ایک روزہ جنگ بندی تجویز کی ہے تاکہ لوگوں کا انخلا ہوسکے۔ اس اعلان سے قبل پوتن نے کہا تھا کہ شیلنگ روکنے کے لیے ماریوپل کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔
امریکی دفاعی اہلکار کے مطابق روسی دستے چربوبل کے علاقے سے نکل رہے ہیں۔ یہ ایک سابقہ جوہری پلانٹ کا مقام ہے جہاں 1986 میں دنیا کا بدترین جوہری حادثہ ہوا تھا۔ یہ دستے اب قریبی ملک بیلاروس جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں لگتا ہے وہ نکل رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ سب جا چکے ہیں۔‘
40 لاکھ یوکرینی اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں اور آبادی کا ایک تہائی حصہ بے گھر ہوگیا ہے۔
یوکرینی مذاکرات کار ڈیوڈ ارخامیا کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات یکم اپریل سے بحال ہوں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے ایک آن لائن پوسٹ میں بتایا کہ یوکرین نے تجویز دی تھی کہ دونوں ملکوں کے رہنما ملاقات کریں تاہم روس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ معاہدے کے مسودے پر مزید کام درکار ہے۔
صدر زیلنسکی نے ان مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فی الحال ’صرف الفاظ ہیں، کوئی مخصوص بات نہیں۔‘ اس سے قبل روس کے بیان سے بھی یہی عندیہ ملا ہے کہ اب تک کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی۔
منگل کو ماسکو اور کیئو کے وفود نے استنبول میں تین گھنٹے طویل ملاقات میں بات چیت کی۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے سکیورٹی کی یقین دہانی کی شرط پر نیوٹرل (غیر جانبدار) ریاست بننے کی پیشکش کی ہے۔
'روس امن کی پیشکش کر کے دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے'
روس اور یوکرین کے درمیان منگل کو استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران روس نے کہا کہ وہ یوکرین کے دو اہم علاقوں میں فوجی آپریشن میں 'بہت حد تک کمی لائے گا' تاکہ 'باہمی اعتماد کو فروغ' دیا جا سکے۔
تاہم یوکرین اور امریکہ کا کہنا ہے کہ انھیں روس کے اعلان پر اعتماد نہیں ہے۔ جبکہ دوسرے مغربی ممالک کو روس کے اس وعدے پر یقین نہیں ہے اور وہ شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں اپنے دفتر میں روس یوکرین مذاکرات کی میزبانی کی۔
روس نے امن مذاکرات میں کہا کہ وہ کیئو اور چرنیہیو میں اپنے حملوں میں 'نمایاں حد تک کمی' کرے گا۔ برطانیہ اور امریکہ نے روس کے اس بیان پر محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ 'جب تک میں یہ نہ دیکھوں کہ وہ ان (وعدوں پر) کس طرح عمل کر رہے ہیں، اس وقت تک مجھے اس بیان میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کہ کیا وعدوں پر عمل ہوتا ہے؟‘ جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ روس کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ روسی انخلاء کا وعدہ گمراہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
روزانہ فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی آپریشنل اپ ڈیٹ میں جنرل سٹاف نے کہا کہ روسی یونٹس کیئو اور چرنیہیو دونوں سے دور جا رہے ہیں۔ روس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اب مشرقی دونباس کے علاقے میں اپنی کارروائیوں پر توجہ دے گا۔
یوکرین کی فوج کا خیال ہے کہ روسی فوج کی واپسی 'ممکنہ طور پر انفرادی یونٹوں کی روٹیشن (معمول کی تبدیلی کا عمل) ہے اور اس کا مقصد یوکرین کی فوجی قیادت کو گمراہ کرنا اور ان کی تعیناتی کے بارے میں 'غلط فہمی' پیدا کرنا ہے۔
استنبول میں ہمارے نمائندے ٹام بیٹ مین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ روس کے فوجی آپریشن میں کمی کے اعلان کا اصل مطلب کیا ہے۔ کیا یہ واقعی پیچھے ہٹنے کا عہد ہے یا پھر یہ تسلیم کرنا ہے کہ وہ ان علاقوں میں پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے اور اس کی بجائے اپنی پوری طاقت کو مزید مشرق کی طرف لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس لیے مغربی ممالک کہہ رہے ہیں کہ وہ روس کے قول کے بجائے اس کے عمل کو دیکھیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی یا تنازعے کے خاتمے سے بہت دور کی بات ہے لیکن یوکرین کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری رہے گی۔ حال سفارتی لحاظ سے ترکی میں منعقدہ اس امن مذاکرات کو 'بامعنی پیش رفت' قرار دیا جا رہا ہے۔